تحریر: نذیر ڈھوکی
1995 کے دوران ہماری اشرافیہ نے اپنے گملے میں خاردار پودے کی آبیاری کی انگریزی زبان میں اس پودے کو cactus اور سندھی زبان میں اسے تھوہر کہا جاتا ہے سبز رنگ
کے اس پودے کے وجود میں انگنت کانٹے ہوتے ہیں جو قریب گزرنے والے
کو زخمی کر دیتا ہے ۔ جی ہاں عمران نیازی پاکستان کی سیاست اور معاشرے کیلئے خاردار پودہ ہی ثابت ہوا ہے ، ابتدائی طور یار لوگ انہیں پریشر گروپ کے طور استعمال کرنے کا خیال رکھتے تھے تاہم 1999 تک پس پردہ ہی رہے کیونکہ لیڈر تو دور کی بات ہے یونین کونسل کے ممبر بننے کی اہلیت سے بھی محروم تھے ، جنرل پرویز مشرف نے ریفرنڈم میں انہیں اپنا چیف پولنگ ایجنٹ بنایا تاہم ان کی حیثیت صرف ٹیشو پیپر کی رہی 2002 کے انتخابات میں انہیں ایک نشست سے جتوایا گیا مگر جب پرویز مشرف نے انہیں وزیراعظم بنانے کے لائق نہیں سمجھا تو اسمبلی نشست ہی چھوڑ دی 2008 کے انتخابات میں جو 2007 میں ہونے تھے میں حصہ لینے کے لئے عمران میں حوصلہ ہی نہیں تھا، تاہم یار لوگوں نے 2013 کے انتخابات ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور خیبر پختونخوا انہیں
وراثت کے طور دیدیا ۔ یار لوگ نے 2014 میں کمال مہارت سے انہیں
سیاسی میدان میں بھرپور انداز سے اتارا اور ملک کی نجی میڈیا کو بھی
اپنے مشن میں حصہ دار بنایا۔ ان کے اوپر کے چیمبر میں چور چور کی ریکارڈنگ پیوست کردی ۔ یہ بات ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ اشرافیہ کی بھرپور مدد سے عمران نیازی نے 2014 کے دہرنے کے ذریعے
جمہوری نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا کیونکہ ملک کا میڈیا صبح سے لیکر رات گئے تک ان کی مارکیٹنگ کا ٹھیکہ لے چکا تھا تاہم صدر آصف علی زرداری جمہوریت کیلئے مضبوط ڈھال بن گئے انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیت اور طاقت سے جمہوریت کو بچایا اور پھر جمہوریت کو بچانے کی قیمت بھی ادا کی ۔ 2018 کے انتخابات کو طاقتور ہاتھوں کے ساتھ چھینا گیا ۔
سیاستدانوں سے دائمی پرخاش رکھنے والوں کی عمران کو اقتدار میں لانے والوں کی خواہش پوری ہوئی مگر مگر ملک کئی دہائیاں پیچھے چلا گیا۔ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ بن کر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ، خارجہ امور
تباہ اور معیشت کو زمین بوس کرنے
کے بعد خان جوتے سر پر رکھ کر بھاگ گئے۔ مگر خاردار پودہ اب اپنے
زہریلے کانٹوں سے اپنے ہی محسنوں
کو گھائل کر رہا ہے ۔



