عابد حسین قریشی
برادرِ عزیز جاوید بوسال جوکہ ایک اچھے منصف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلٰی ادبی ذوق بھی رکھتے ہیں اُنہوں نے ہماری دیہاتی زندگی سے جُڑیں کچھ روایات کا اتنا دل کش اور سحر انگیز منظر کھینچا ہے کہ جس میں جگر سوزی اور دیدہ ریزی کی جھلک کے ساتھ ساتھ دھرتی ماتا کی محبت عروج پر نظر آتی ہے۔
میرا اپنا تعلق خالصتاً ایک دیہی اور زمیندارانہ گھرانے سے ہے۔ میں نے یہ سارے مناظر اپنے بچپن اور ابتدائی جوانی میں دیکھے اور بھگتے ہیں۔ ہمارے سیالکوٹ کے علاقہ میں جب گندم کے گھٹے جسے بھری کہتے تھے اور اُس کو اکٹھا کر کے اس کے خوشوں پر گندم کے دانے نکالنے کے لیے بیل پھیرے جاتے تھے اس کو ہمارے علاقے میں پِڑ یا بول کہتے تھے۔ یہ کاشت کار اور جانوروں کے لیے مشرکہ طور پر ایک تکلیف دہ اور صبر آزما عمل ہوتا تھا اور پھر کئی کئی دنوں تک چلچلاتی دھوپ میں تیزا ہوا کا انتظار کیا جاتا تھا کہ جب گھروں کی عورتیں اور دیگر کام کرنے والیاں چھج لے کر ہوا کا رُخ دیکھ کر اُن خوشوں میں سے برآمدہ گندم کے دانوں اور بُھس کو ہوا میں لہراتی تھیں اور اس طرح گندم کے دانے اور بھُس الگ الگ فضا میں بکھرتے ہوئے ایک دل پذیر منظر پیش کرتے تھے۔ مگر اس دھوپ کی شدّت اور حدّت اتنی زیادہ ہوتی کہ اس میں کھڑے ہو کر بغیر کسی سایہ کے یہ مشقت کرنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ پھر جب گندم کا ڈھیر ایک طرف لگتا اور اُسے بوریوں میں ڈالنے کا وقت آتا تو کاشتکار کے چہرے کی خوشی اُس ساری مشقت، تھکاوٹ اور جان سوزی کو راحت اور آسودگی میں بدل دیتی۔ سب سے چھوٹا پیمانہ پڑوپی پھر ٹوپہ اور گندم کی صورت میں آٹھ من کی مانی اور مونجھی کی صورت میں چھ من کی مانی اور پھر جب شام ڈھلے گھروں کی چھتوں پر بیٹھ کر حقہ کی نَے منہ میں لگائے کاشتکار حاصل کردہ گندم مانیوں کی صورت میں فخریہ انداز میں بتاتا تو اہلِ خانہ اور دوست احباب سرشار ہوتے۔ گندم کی آمد کے بعد اگلا مرحلہ بچوں کی شادیاں اور برادری میں ممکنہ لڑائی جھگڑوں کا ہوتا کہ کاشتکار کی اس فصل میں پولیس، وکلاء اور محمکہ مال کا حصّہ بھی معقول حد تک سمجھا جاتا تھا۔ مگر یہ ساری خوبصورت اور دلفریب روایات زرعی مشینری کے آنے کے بعد عنقا ہو گئیں۔
اس کے علاوہ بھی ہماری دیہی زندگی کی کچھ قابلِ فخر روایات تھیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے سماجی کلچر میں تبدیلیوں کی نذر ہو گئیں۔ جن میں کسی کے ہاں شادی خصوصاً بیٹی کی شادی کے موقع پر گاؤں کے تمام زمیندار دودھ کی بالٹی اپنے گھر لے جانے کی بجائے اُسے سیدھا شادی والے گھر بھیج دیتے۔ شادی سے کئی روز پہلے دور دراز کے رشتہ دار شادی والے گھر ڈیرا ڈال لیتے اور کام کاج میں ہاتھ بٹاتے۔ پورے گاؤں سے برتن، بسترے اور چارپائیاں اکھٹی کی جاتیں۔ شادی سے دو تین دن پہلے تیل اور مہندی کی رسم ہوتی جسے اب رسمِ حنا کہتے ہیں اس میں عزیز و اقارب اور برادری کے لوگ نیوندرے ڈالتے جن میں چاول، چینی اور کچھ نقدی ہوتی۔ یہ لفافوں کا رواج بہت بعد کا ہے۔ تیل مہندی ہر اولاً چائے باکرخانی اور جلیبیوں سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی۔ پھر حالات بہتر ہونے ہر مکس مٹھائی کا دور آیا۔ پھر جب لوگ مٹھائی سے پرہیزی ہوئے اور کچھ خوشحالی آئی تو مہندی پر بریانی سے تواضح کی جانے لگی جو بلآخر بار بی کیو اور عمدہ کھانوں کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
محّلہ کے نوجوان شادی والے گھر کے سامنے خوبصورت آرائشی محرابیں لگاتے جن میں کیلے کے پودوں کے قد آور تنّے استعمال ہوتے اور اُن کے اوپر جھنڈیاں لگائی جاتیں۔ برادری میں سے کسی نہایت معتبر اور قابلِ بھروسہ شخص کو دیگوں پر بیٹھایا جاتا جو اُس روز کسی کے ساتھ آنکھ نہ ملاتا اور کھانے کی تقسیم میں اہلِ خانہ کی پوری طرف داری کرتا۔ اولاً دو دو آدمی دریوں پر آمنے سامنے بیٹھ کر ایک ہی پلیٹ میں زردہ اور پلاؤ ہاتھوں سے کھاتے۔ پھر پیالیوں میں کسی گائے یا بیل کے گوشت کا شوربہ تقسیم ہونا شروع ہوا، پھر یہ سلسلہ ڈونگوں اور ٹرے کی صورت میں تبدیل ہوا۔ میرے مرحوم دادا محمّد سرور نمبردار کی گونج دار آواز میں یہ الفاظ گاؤں کی ہر شادی کا حصّہ تھے “ پلیٹ میں اتنے چاول ڈالو جتنے کھانے ہیں” ۔ پرانے بزرگ یہ الفاظ اب بھی یاد کرتے ہیں کہ ان میں ایک احساسِ ہمدردی اور اپنائیت جھلکتی تھی۔ برات باہر سے آنے کی صورت میں اپنے عزیز و اقارب اور برادری کے لوگ اُس وقت تک کھانا نہ کھاتے جب تک باراتی کھانا کھا کر فارغ نہ ہو جاتے کہ ہر ایک کو صاحبِ خانہ کی عزت و توقیر مطلوب ہوتی۔ پھر جب لوگ مڈل ایسٹ کی طرف بسلسلہ روزگار گئے اور روپے پیسے کی ریل پیل شروع ہوئی تو کھانا شادیوں پر سٹینڈز پر لگنا شروع ہوا کہ اس دوران برائلر مرغی ہمارے کھانے کا ایک جُز بن چکی تھی جو عموماً شادیوں پر ہی دستیاب ہوتی تھی۔ اور پھر جب یہ دولت کا کھیل عروج پر پہنچا اور ساتھ ساتھ ہمارے دیہاتی کلچر میں بھی محنت مشقت کرنے والی کلاس بھی آہستہ آہستہ ختم ہوئی اور ہمارا کاشتکار بھی تن آسان ہو گیا تو نئی نسل نے گاؤں میں شادیاں کرنے کی بجائے میرج ہالوں کا رُخ کیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ شادی والے گھر بھی شادی والے دن یہ پتا نہیں ہوتا کہ یہاں واقعی کوئی شادی ہو رہی ہے کہ وہ بھی مہمانوں کی طرح تیار ہو کر میرج ہالوں میں پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ اس عمل میں جہاں بہت سی آسانیاں پیدا ہوئیں وہاں ایک قباحت یہ ضرور آئی کہ گاؤں میں شادیوں کی صورت میں جو دو چار دیگیں غریب اور مستحق لوگوں میں تقسیم کی جاتیں اور وہ بھی اس طرح شادی کی خوشی میں شریک ہو جاتے وہ روایت بھی ختم ہو گئی۔ اور دوسرا اب شادی والے گھروں میں مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی تقریباً ختم ہو چکا ہے کیونکہ ذرائع رسل و رسائل بہتر ہونے کی وجہ سے لوگ دوسرے شہروں سے بھی میرج ہال پہنچتے ہیں اور کھانا کھا کر وہیں سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اب رشتوں اور تعلق میں نہ وہ درد رہا، نہ خلوص، نہ اُنس اور نہ پیار و ہمدردی اور یہ سب کچھ کھوکھلا اور بناوٹی سا لگتا ہے۔ سارا زور فنکشن کی عکس بندی اور فوٹو شوٹ پر ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہماری نئی نسل نے رشتوں کے مضبوط بندھن کو اپنی سہولت کی خاطر پسِ پشت ڈال دیا ہے۔اب ہماری نوجوان نسل کے لیے یہ قصّے اور کہانیاں محض خواب و خیال اور وقت کا ضیاع ہیں۔ مگر ہماری نسل کے لوگ جو ان خوبصورت اور دلفریب روایات کا حصّہ تھے اُن کے لیے دیہی زندگی کے ان خوبصورت مناظر اور اعلٰی روایات کو فراموش کرنا شاید اتنا آسان نہیں۔



