سیلابی صورتحال میں وزارت خارجہ کی کوششیں

تحریر نذیر ڈھوکی

ہمارا پیارا پاکستان اس وقت بدترین مشکلات کا سامنا کر رہا ہے
بارش اور سیلاب کی وجہ سے کروڑوں اہل وطن بے گھر ہو چکے ہیں، ملک کی ذراعت مکمل طور تباہ
ہو چکی ہے ،بارش اور سیلاب غریبوں کی جمع پونجی بہا کر لے گیا ہے زبوں حال معیشت لڑکھڑا رہی ہے وزیراعظم شہباز شریف ملک کے ہر حصے میں جاکر بارش اور سیلاب کے متاثرین کے پاس حاضر ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان کے نوجوان وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری عالمی دنیا کی توجہ پاکستان کی طرف مبذول کرانے کی
کوشش میں قابل اطمینان حد تک کامیاب ہو چکے ہیں، منگل کے دن انہوں نے دنیا بھر کے سفیروں کو دفتر خارجہ مدعو کرکے انہیں بارش اور سیلاب سے ہونے والی تباہی سے آگاہ کیا ۔ مذکورہ تقریب میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے ایک کھرب تیس کروڑ روپے کے عطیات کا اعلان کیا جو نقد صورت میں ہونگے جبکہ خوراک، ادویات اور ضرورت زندگی کی اشیاء کی لاکھوں ٹن کی امداد اس کے علاوہ ہے ،بدھ کے روز بھی وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری نے دنیا بھر
کے سفیروں کو ساتھ لیکر سندھ گئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی وزیر خارجہ نے دفتر خارجہ میں اس طرح کی تقریب کی ہوئی ہو سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر بارش اور سیلاب سے تباہ حال قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں کامیاب ہونگے ، مبصرین کے مطابق جب چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو بارش سے تباہ حال سندھ کا فضائی
جائزہ کرو رہے تو ان کی آنکھوں میں آنسوؤں تھے اور جس انداز میں
وہ بارش متاثرین جو چار پائی پر بیٹھے تھے کے قدموں میں بیٹھ گئے
اور ملک کے وزیر آعظم میاں شہباز شریف بھی ان کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئے جو صحت کی وجہ سے
اس طرح بیٹھنے میں سخت تکلیف سے گزر رہے تھے تو دنیا کو یہ پیغام ضرور گیا کہ پاکستان کی قومی قیادت اپنے عوام کیلئے کس قدر فکر
مند اور غمزدہ ہے ، یہ صرف میرے ہی نہیں قوم کے لیئے باعث حیرت منظر تھا کہ ایک طرف وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری دنیا بھر کے سفیروں کو بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والی تباہی کا جائزہ لینے کیلئے سندھ کے
شہر سکھر میں مدعو کیا تھا تو ہمارا میڈیا یہ دکھاتا رہا کہ عمران خان توہین عدالت کے کیس میں بنی
گالا سے نکل چکے ہیں ، عمران خان
اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں،
عمران خان واپس بنی گالا پہنچ گئے ہیں، مگر سندھ کے شہر سکھر میں
وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر تباہ حال سندھ
دیکھنے کیلئے جانے والے دنیا بھر ممالک کے سفیروں کے دورے کو قطعی طور پر نظر انداز کر دیا۔
سوال یہ ہے کیا عمران خان ہیرو کی طرح عدالت میں پیش ہو رہا تھا یا ملزم کی حیثیت سے ؟
میں نے اپنی سیاسی زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے کہ توہین عدالت
کے کسی مقدمے میں کسی ملزم کو
انصاف سے فرار ہونے کا موقع دیا جائے رہا ہو ، ایک لاڈلے کیلئے قانون اور انصاف کے پیمانے تبدیل کیئے جائیں تو پھر توہین عدالت کے جرم
کو نظریہ ضرورت کے نظر سے پرکھا جائے کہ توہین عدالت کسی طاقتور نے کی ہے کمزور شہری نے ، اگر یہ پیمانہ بنایا گیا تو اس کے معاشرے پر خطرناک ہی نہیں ایسے مضر اثرات پڑیں گے جس کا سوچتے ہی
رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، کیا قوم
بھول جائے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے آئین سے انحراف کرنے سے انکار کیا تو کھڑے کھڑے انہیں سزا دی گئی، تب تو اس کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کیا فرمایا تھا کسی کو یاد بھی ہے یا نہیں۔ یہ ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ عمران خان کے لشکر میں
بد تمیز ہیں جن کی طاقت کے گھمنڈ میں انہوں نے ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکی دی تھی مگر کیا ہمارے عدالتی نظام کو یہ فکر ہوا کہ
کہ ایڈیشنل سیشن جج کے بچے کتنے خوفزدہ ہوئے ہونگے ۔ چلیں بھاڑ میں گئے عمران خان اور ان کے
خلاف الزام پر کوئی خدا کا نیک بندہ ہی مجھے بتائے کہ سندھ میں بارش پر تو ہماری معزز عدالت نوٹس لے کر فیصلہ سنا دیتی ہے مگر خیبر پختونخوا میں ایسا فیصلہ کیوں نہیں آتا جہاں حکومت کا ہیلی کاپٹر سیلاب میں پھنسے افراد کو پانچ گھنٹے تک مدد مدد پکارنے تک نہیں پہنچتا بتا یہ جاتا ہے کہ ہیلی کاپٹر عمران خان کی خدمت کیلئے ہے ۔ اگر ایسی ہی غفلت وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ کرتے تو ہمارا میڈیا گریبان چاک کر رہا ہوتا اور سید مراد علی شاہ کو عدالت میں بلا کر سزا بھی دے جاتی ۔ بہرحال پیمانے اپنے اپنے ہوتے ہیں وزیراعظم میان شہباز شریف شریف شریف بارش اور سیلاب کے متاثرین کے پاس ہیں جبکہ وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو
زرداری بارش اور سیلاب کے متاثرین
کی بحالی کیلٸے دن رات کام کر رہے ہیں ۔ در اصل بارش اور سیلاب کی وجہ سے بے گھر اور مشکلات کا سامنا کرنے والے انسان چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے نانا اور والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لاڈلے ہیں جن کی مشکلات ختم کرنے اور انہیں دوبارہ بحال کرنے کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں ان کی مشکلات دیکھ کر بلاول بھٹو زرداری کیسے نہیں روئیں گے کیونکہ ان کا عوام سے درد کا رشتہ ہے ،ان کی جستجو ہی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ وہ بارش سیلاب کے
شکار انسانوں کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں کوئی شک نہیں کہ دنیا ان پر اعتبار کر رہی ہے صرف ایک گھنٹے میں ریاست ٹو ریاست ایک کھرب تیس کروڑ روپے کی نقد امداد کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ یہ طے ہے کہ بھٹو شہید کا نواسہ اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا بیٹا اپنی قوم کو ایک بار اپنے اپنے قدموں پر کھڑا کردیا گا ، رہی بات لاڈلے ہونے کی تو بلاول بھٹو زرداری کے لاڈلے عوام ہیں جبکہ ریاست کا تاحال لاڈلا کوئی اور ہے۔



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر