اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)ترک حکّام نے معروف ترک گلوکارہ گلسین کو ترکیہ میں قائم کیے گئے اسلامی ہائی اسکول کے نظام کی توہین کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔’ترک میڈونا‘ کے نام سے مشہور گلوکارہ گلسین کی گرفتاری کا حکم ان کے ایک ویڈیو کلپ کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دیا گیا، جس میں وہ ایک پرفارمنس کے دوران اپنے بینڈ کے ایک رکن کے بارے میں نفرت انگیز بیان دیتی نظر آ رہی ہیں۔گلوکارہ نے اپنے بینڈ کے رکن کے بارے میں کہا تھا کہ اُنہوں نے امامِ خطیب کے مدرسے سے تعلیم حاصل کی اور وہ ایسی جگہ ہے جہاں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔گلوکارہ کو نفرت انگیز بیان کے ذریعے لوگوں کو نفرت اور دشمنی پر اکسانے کے الزام میں مزید تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔اس حوالے سے ترکیہ کے محکمۂ انصاف کے وزیر کا کہنا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کے متعلق اس طرح نفرت انگیزی آرٹ کی توہین ہے۔ترک حکومت کو گلوکارہ کی گرفتاری پر اپنے مخالف سیاسی حریفوں اور شوبز انڈسٹری سے وابستہ کچھ افراد کی طرف سے تنقید کا بھی سامنا ہے۔
مذہبی اسکول کیخلاف نفرت انگیز بیان دینے پر معروف ترک گلوکارہ گرفتار



