تحریر نذیر ڈھوکی
اسلام آباد کا سینیئر صحافی وقار ستی سیاسی شدت پسندوں کے نشانہ پر ہیں، وقار ستی ترقی پسند اور جمہوریت پسند صحافیوں کی تنظیم آر آئی یو جے کے سابق صدر اور جیو نیوز سے وابستہ ہیں، گزشتہ دو دنوں سے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا کے نشانہ پر ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ صحافی وقار ستی کے خلاف ٹیوٹر پر چلائے جانے
والی پر مجھے متلی آ رہی ہے کیا پاکستان کی سیاست اور معاشرے پر واقعی ایسا وقت آ چکا ہے کہ وقار ستی کے ایمان کے پیمانے کا فیصلہ پی ٹی آئی والے کرنے لگے ہیں۔ مگر جب عمران خان عوام کے
ہجوم کے سامنے اعلی پولیس افسران اور ججوں کو دھمکیاں دینے لگے تو بچارے ایک صحافی کی زندگی کیسے محفوظ رہ سکتی ہے ؟
کوئی مانے یا نہ مانیں مگر حقیقت یہ ہے عمران خان کو غیر ملکی فنڈنگ نے طاقتور اور مضبوط بنا دیا
جس کے سامنے ریاست بھی کمزور نظر آ رہی ہے ۔ میرے خیال میں سارا جرم ان پردہ نشینوں کا ہے جنہوں نے سیاستدانوں کو داغدار کرنے کیلئے ریاست کے وسائل عمران خان جیسے روبوٹ پر استعمال کیئے
آج وہ روبوٹ آؤٹ آف کنٹرول ہو چکے ہیں۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے ان تمام کرداروں کو قومی مجرم کی حیثیت سے عوام کی عدالت میں لایا جائے کیونکہ کے ان پردہ نشین مجرموں کے اعمال کی سزا ریاست
بھگت رہی ہے، معاف کیجئے گا اس ملک کے عوام نہ جاہل ہیں نہ ہی بیوقوف کہ انہیں اس بات کا شعور
نہ ہو لاڈلا ابھی تک لاڈلا کیوں ہے ؟
یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ
2014 سے لیکر 2018 تک عمران خان کی فارن فنڈنگ کی تحقیقات کرے کوئی شک نہیں ہے کہ اس فنڈنگ نے عمران خان کو طاقتور
بنایا بیوقوف لوگ سمجھتے رہے کہ ان کا دو دہائیوں کا تجربہ کامیاب ہوا ہے مگر وہ اس حقیقت سے بے نیاز رہے کہ ان کی سیاسی ایجاد پر
سرمایہ کاری کرنے والے ان سے بھی
ذیادہ طاقتور ہیں،



