عابد حسین قریشی
یوں تو پاکستان کا ہر شہر اور ہر قصبہ، ہر گلی اور ہر کوچہ اپنی ایک منفرد شناخت پہچان، شان اور آن رکھتا ہے۔ مگر حکیم الامّت شاعرِ مشرق اور تخلیقِ پاکستان کے محرّک علامہ محمّد اقبال کی جنم بھومی ہونے کا شرف ایک الگ ہی اہمیت رکھتا ہے۔ سیالکوٹ کا جغرافیائی محّل و وقوع پاک بھارت جنگوں میں اس کی ترقی اور وسعت میں حائل رہا اور اس نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں اپنی روح اور جسم پر گہرے زخم کھائے اور پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی کے لیے گراں قدر قربانیاں پیش کیں۔ یہاں کے عوام کا جوش و جذبہ اور وطن سے محبت اب بھی تاریخ کے سنہری اوراق میں محفوظ ہیں۔
سیالکوٹ پاکستان کی ایکسپورٹ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے اور خصوصاً سرجیکل مصنوعات اور سپورٹس گڈز میں سیالکوٹ دنیا کا سب سے بہترین مال تیار کرنے والا شہر اور سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے۔ یہاں کی بزنس کمیونٹی خصوصاً چیمبر آف کامرس کا اس ملک کی ترقی اور اس شہر کی خدمت میں ایک نمایاں مقام ہے۔ اور یہاں کی بزنس کمیونٹی نے ماضی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جن کی نظیر پاکستان کا کوئی دوسرا شہر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ شاید دنیا کا واحد شہر ہے جس کی بزنس کمیونٹی نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک زرِ کثیر خرچ کر کے ایک بہت عالی شان انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنایا جہاں پوری دنیا سے فلائٹس آپریٹ کر رہی ہیں اور اب ایئر سیال کے نام سے اہلِ سیالکوٹ نے اپنی ایک ایئرلائن بھی متعارف کرا دی ہے۔ سیالکوٹ میں ڈرائی پورٹ کئی دہائیوں سے کام کر رہی ہے۔ اس شہر میں ایک انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قیام اور اپنی ایئر لائن کے اجرا کے بعد شاید کسی دیگر چیز کی ضرورت نہ تھی کہ سیالکوٹ کو بطور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اپ گریڈ کرنے میں کوئی امر مانع ہوتا۔ مگر ہمارے ہاں مدتوں سے میرٹ کی کمیابی ہے بلکہ میرٹ کو بُری طرح روندا جاتا ہے اور کچھ یہی حوصلہ شکن اور افسوس ناک صورتِ حال اس وقت درپیش ہے۔
ہمیں ذاتی طور پر گجرات یا کسی دیگر ضلع کو ڈویژن بنانے پر کوئی اعتراض نہیں کہ پاکستان کا ہر شہر اس کا مستحق ہے۔ خصوصاً گجرات جو کہ ایک مردم خیز اور سیاسی و سماجی لحاظ سے پنجاب کا ایک اہم ضلع ہے۔ اسکے ڈویژن بننے پر اہلِ گجرات اور وزیرِ اعلٰی پنجاب مبارک باد اور داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ البتہ ہمارا معاملہ سیالکوٹ کو اپنے میرٹ پر ڈویژن کا درجہ دینے کی بابت ہے۔ ضلع سیالکوٹ اس وقت سیالکوٹ تحصیل کے علاوہ ڈسکہ، سمبٹریال اور پسرور کی تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ اور اس کے ملحقہ ناروال کا ضلع ہے جو ایک زمانے میں سیالکوٹ کا ہی حصہ ہوا کرتا تھا۔ اور اہلِ نارووال اور شکر گڑھ کے لیے گجرات اور گجرانوالہ کی نسبت سیالکوٹ کا سفر زیادہ آسان، کم خرچ اور کم فاصلہ ہے۔ تحصیل ڈسکہ اپنی آبادی، زرعی و صنعتی حجم اور اپنی سیاسی و معاشی صورت حال کے پیشِ نظر ایک مکمل ضلع کی حیثیت رکھتی ہے۔ لہذا سیالکوٹ کو بطور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اپ گریڈ کرتے ہوئے ڈسکہ کو ضلع کا سٹیٹس دیا جا سکتا ہے اور اس طرح ڈسکہ، نارووال اور سیالکوٹ پر مشتمل سیالکوٹ ڈویژن جغرافیائی، سیاسی، سماجی اور مالی سطح پر ایک بہترین ڈویژن بن سکتی ہے۔ اس کے لیے سیالکوٹ کے ہر طبقہ فکر کو آواز اٹھانا ہو گی۔ سیالکوٹ کی تمام سیاسی لیڈرشپ کو اپنے ذاتی اور سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر سوچنا ہو گا۔ اور سیاسی قیادت کو یہ بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ ماضی میں اس اہم مسلۂ کو ملکی سطح پر اُس طرح اجاگر نہ کیا گیا اور نہ ہی سیالکوٹ کو ڈویژن بناننے کے لیے وہ سیاسی و انتظامی جدو جہد کی گئی جس کی سیالکوٹ کے باسی اپنی سیاسی لیڈرشپ سے توقع اور امید رکھتے تھے۔ سیالکوٹ کے تمام مذہبی، سماجی، کاروباری مکتبِ فکر خصوصاً سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اور دیگر سماجی اور فلاحی تنظیموں کو سیالکوٹ ڈویژن بناؤ کی تحریک میں جان ڈالنے کے لیے پوری یکجہتی اور نیک نیتی کے ساتھ متحرک ہونا پڑے گا کہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے بعض اوقات قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ ایک منظم جدوجہد کے ذریعے سیالکوٹ کو ڈویژن کا درجہ دینے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ سیالکوٹ کو ڈویژن کا درجہ دینا مشکل یا ناممکن کام نہیں ہے صرف ایک منظّم اور متحّرک تحریک اور مہم چلانے کی ضرورت ہے جس میں ہر طبقہ فکر اپنی بساعت کے مطابق حصّہ ڈالے۔ نیک نیتی اور عزمِ صمیم کے ساتھ شروع کیا گیا کوئی کام یا منصوبہ کبھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھتا۔



