علم کا سمندر، استقامت کا پہاڑ، حکمت و بصیرت کا خزینہ، جرات وبہادری کی نمایاں مثال ہیں، فضیلۃ الشیخ سفر الحوالی۔ آپ ان علما میں سے ہیں، جنہیں سن، پڑھ اور دیکھ کر سلطان العلماء، العز بن عبد السلام، اور شيخ الاسلام ابن تیمیہ جیسے اسلافِ امت کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔
سعودی عرب کے جنوب مغرب میں ایک مشہور اور سیاحتی شہر ’الباحۃ’ ہے۔ سفر الحوالی 1369ھ بمطابق 1950ء میں اسی شہر میں پیدا ہوئے۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں کلیۃ الشریعہ سے فراغت حاصل کی، اور مکہ مکرمہ جامعہ ام القری میں عقیدہ میں ماجستیر (MS) کیا، اور مشہور زمانہ کتاب ’العلمانیۃ’ بطور تعلیمی مقالہ تالیف فرمائی۔ پھر یہیں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے ” ظاهرة الإرجاء في الفكر الإسلامي” تصنیف کی۔ بعد میں دونوں کتابیں چھپیں، اور پورے عالم اسلام میں اپنا لوہا منوایا۔ یہ سعودی عرب کا وہ دور ہے، جب پورے عالم اسلام سے علما و مجاہدین اور مفکرین کو جوق در جوق مرحبا اور خوش آمدید کہا جارہا تھا۔ جب سید قطب کے بھائی محمد قطب ام القری میں استاد اور مربی تھے.. جب عبد اللہ عز۔ام جیسے مجاہدین کا حفاوت و تکریم سے استقبال کیا جاتا تھا۔ ان حالات میں لبرل ازم اور ارجاء پر ایک علمی وتحقیقی مقالہ جات کی ویسے ہی پذیرائی ہونی چاہیے تھی، جیسا کہ شیخ سفر الحوالی کی کتابوں کی ہوئی۔
شیخ سفر الحوالی کی تصانیف، تقاریر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ متبع کتاب وسنت، اور منہجِ سلف کے امین تھے۔ چنانچہ آپ نے منہج الأشاعرۃ فی العقیدۃ اور اصول الفرق والمذاہب جیسی عظیم الشان کتب تصنیف فرمائیں۔
لیکن جو چیز آپ کی زیادہ وجہ شہرت اور خاصہ ہے.. وہ عالم انسانی اور اسلامی، اور اس میں ہونے والی سیاست اور اتار چڑھاؤ کو شرعی اور دینی نقطہ نظر سے دیکھنا۔ آپ ان اوائل سلفی علما میں سے ہیں، جنہوں نے مسلمانوں کو مغربی پراپیگنڈے سے خبردار کیا، اور عالم کفر کی مکارانہ چالوں سے آگاہ کیا۔ اور بتایا کہ یہ لوگ آہستہ آہستہ عالم اسلام اور خلیج عربی میں گھسنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس حوالے سے آپ کا ایک مشہور محاضرۃ یعنی تقریر بھی ہے، جس کا عنوان ہے: «العالم الإسلامي في ظل الوفاق الدولي»
کچھ عرصے بعد ہی صدام نے جب جزیرہ عرب پر حملہ کیا، تو سعودیہ کے دفاع کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ امریکہ سے مدد لی جائے۔ اس وقت کے کبار علماء ابن باز وغیرہ نے استعانت بالکفار کے جواز کا فتوی دیا۔ جبکہ حوالی نے، جو کہ ابن باز اور ابن عثیمین وغیرہ بزرگوں کے شاگردوں کے طبقے میں آتے ہیں، اس موقف سے بڑا واضح اختلاف کیا۔ اور اس فیصلے کے عواقب و نتائج بھی آگاہ کیا۔ جس کی تفصیل آپ کی کتاب: «كشف الغمة عن علماء الأمة»
میں موجود ہے، جو کہ «وعد كيسنجر والأهداف الأميركية بالخليج» کے نام سے بھی معروف ہے۔ Kissinger اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کا نام ہے۔
شیخ کے ان افکار اور جرات رندانہ کے سبب آپ پر مشکلات و مصائب کا دور شروع ہوا۔ حالانکہ آپ اس وقت جامعہ ام القری، مکہ مکرمۃ میں قسم العقیدۃ کے رئیس یعنی ذمہ دار تھے۔ آپ کے موقف اور نظریات کے سبب آپ کو ان مناصب سے معزول کردیا گیا، اور کئی ایک ہمنوا علماء و مفکرین کے ساتھ جیلوں میں بند کردیا گیا۔
آپ ایک طرف جہاد کے پرزور حامی تھے، لیکن چونکہ پختہ عالم دین اور منہج سلف کے امین ہونے کی وجہ سے، جہادیوں کی غلطیوں کو بھی نمایاں کرتے تھے۔ اس وجہ سے آپ کو دونوں اطراف سے طنز و تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔
امت مسلمہ کو درپیش سیاسی، فکری اور منہجی مسائل پر آپ نے کئی ایک کتاب تصنیف فرمائیں، جیسا کہ:القدس بين الوعد الحق.. والوعد المفترى. التتار الجد۔
فضيلة الشيخ سفر الحوالي…. ایک مظلوم عالِم ربانی



