2022اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) میں پولیو وائرس کو نیویارک، لندن اور یروشلم میں دریافت کیا گیا۔اسی طرح فروری میں یروشلم جبکہ جون میں نیویارک میں پولیو وائرس کے کیسز سامنے آئے۔پاکستان اور افغانستان سے باہر ایسے ممالک جہاں پولیو کے مرض کے خاتمے کو کئی سال ہوچکے ہیں، وہاں اس وائرس کی دریافت متعدد حلقوں کے لیے حیران کن ثابت ہوئی۔مختلف رپورٹس سے عندیہ ملا ہے کہ ان خطوں میں یہ وائرس کچھ ممالک میں منہ کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین کے ذریعے پہنچا۔ان علاقوں کے نکاسی آب کے نمونوں سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ وائرس زیادہ بڑے پیمانے پر گردش کررہا ہے۔ویکسین میں پائے جانے والا یہ پولیو وائرس افریقا اور ایشیا میں زیادہ عام ہے اور ان خطوں میں ہی منہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین کو استعمال کیا جارہا ہے۔ویکسین میں زندہ مگر کمزور وائرس کو استعمال کیا جاتا ہے جو کئی بار تبدیل ہوکر زیادہ خطرناک بن جاتا ہے اور اعصابی نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔دوسری جانب امریکا اور برطانیہ میں انجیکشن کے ذریعے ویکسین کا استعمال کرایا جاتا ہے جس میں ناکارہ وائرس موجود ہوتا ہے، جو اعصابی نظام کو متاثر ہونے سے بچاتا ہے، مگر یہ منہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین جتنا مؤثر طریقہ کار نہیں۔پولیو کا کوئی علاج موجود نہیں اور اس کے نتیجے میں متاثرہ فرد کو زندگی بھر کی معذوری کا سامنا ہوسکتا ہے۔مگر 1950 کی دہائی میں ویکسین تیار ہونے کے بعد پولیو کی روک تھام آسان ہوگئی اور دنیا بھر میں یہ مرض لگ بھگ ختم ہوچکا ہے، بس افغانستان اور پاکستان ایسے ممالک ہیں جہاں اب بھی اس کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔اس سال افریقی ممالک ملاوی اور موزمبیق میں بیرون ملک سے آنے والے افراد میں پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی جو 1990 کی دہائی کے بعد اولین کیسز تھے۔پولیو وائرس کی 2 بنیادی اقسام ہے جن میں سے ایک وائلڈ ٹائپ ہے جبکہ دوسری قسم ویکسین میں موجود وائرس ہے۔اسی دوسری قسم کی تصدیق لندن اور نیویارک کے نکاسی آب کے نمونوں میں ہوئی جبکہ اسی سے ملتا جلتا وائرس یروشلم میں دریافت ہوا۔
دنیا کے مختلف حصوں میں پولیو وائرس کی دریافت سے سائنسدان پریشان



