تحریر: نذیر ڈھوکی
میں وہ دن نہیں بھول سکتا جب اپر دیر میں جنرل ثناء اللہ کو شہید کرنے کے بعد جنگلی جانوروں طالبان
نے جشن منایا تھا اور دوسرے دن عمران خان نے ان وحشی جانوروں کو پشاور میں دفاتر کھولنے کی دعوت دی تھی ۔ گزشتہ دنوں جب بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں افواج پاکستان کے سینئر افسران کی شہادت ہوئی تو عمران خان کے روبوٹ گینگ شوشل میڈیا پر زہریلا
پروپیگنڈہ شروع کیا گیا تو مجھے متلی آنے لگی میں نہیں جانتا کہ عمران خان کو سیاست میں لانے والے آج شرمسار ہو رہے ہیں یا نہیں
مگر سچی بات یہ ہے وطن پرست واقعی آج ایک کرب اور تکلیف دہ مرحلے سے گزر رہے ہیں ۔ میرا کوئی فوجی پس منظر نہیں ہے بلکہ میرا شمار ان سیاسی کارکنوں میں ہوتا ہے جس نے کم عمری میں ضیا آمریت میں طویل قید کاٹی، ہاں میں وطن پرست ہوں اور یہ وطن پرستی میری ماں جیسی شفیق بہین محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے
سکھائی ہے جس پر آج بھی ثابت قدم ہوں اور ثابت قدم رہوں گا، میں
جانتا ہوں ہوں کہ ایک فوجی جوان اور آفیسر موسمی حالات سے بے نیاز ہوکر وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے ایک کپتان کو کرنل ،بریگیڈیئر، میجر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل اور فور اسٹار جنرل
بننے تک کتنے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ان کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہوتی ہر لمحے موت ان کے سر پر رکس کرتا ہے مگر ان میں موت کا خوف نہیں ہوتا میری رائے میں یہ
قابل تعظیم ہیں قوم کی آنکھوں کے
نور ہیں اور قوم ان پر فخر اور ناز کرتی ہے ، بلوچستان کے علاقے لسبیلہ کے مقام پر ہیلی کاپٹر سانحہ میں جام شہادت پانے والے افواج پاکستان کے سینئر افسران اپنے ہم وطنوں کی زندگیوں کو بچانے کی مشن پر تھے ، ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا بھی نہیں تھا مگر عمران خان کے شوشل میڈیا کے بریگیڈ جو
طوفان بدتمیزی کی ،شرانگیز مہم شروع کی وہ غمزدہ قوم کے زخموں پر نمک پاشی ہی تھی ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوا نے عمران خان کے باپ ، ماں یا بہین کو تو نہیں مارا تھا جو ان کے خلاف بھی توہین آمیز مہم چلائی گئی، میں کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ میں جنرل ضاع اور پرویز مشرف سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے آئین سے انحراف کیا تھا مگر جنرل باجوا آئین پر ثابت قدم ہیں، اگر قومی ادارے سیاست سے لاتعلق ہوکر نیوٹرل بن چکے ہیں تو یہ صرف آئین کی فتح ہے یہ ایسا عمل ہے جس پر تمام جمہوریت پسند خوش ہیں کیونکہ آئین ریاستی اداروں کو پابند کرتا ہے ،
ایک وطن پرست، جمہوریت پسند سیاسی کارکن کے ناطے میرا حق ہے
میں ریاست سے یہ مطالبہ کروں کہ
عمران خان کی 2014 سے لیکر 2018 تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کرے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائے ۔



