یہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیں

اثر خامہ : قاضی عبدالقدیر خاموش
شورش سے کسی نے پوچھا ،سیاست کیسی جا رہی ہے ، اس مرد قلندر نے اس کا جواب اپنے ہفت روزہ چٹان کے سر ورق پر یوں دیا کہ :
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
یہ اس دور کی بات ہے ، جب اختلاف بھی آپ جناب کہہ کرکیا جاتا تھا ، لیکن آج بات اس سے بھی بڑھ چکی ہے ،وطن عزیز کی سیاست جس ڈگر پر چل نکلی ہے اسے طوفان بدتمیزی نہ کہا جائے تو پھر کیا کہا جائے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے بدزبانی کے ایسے ایسے مظاہرے کئے کہ سب حیران ہیں ، شائد اب سیاست گالیوں اور بدزبانی کے مقابلے کا نام ہی رہ گیا ہے ۔ گوکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی ٹیم کا اس میدان میںکوئی ثانی نہیں، لیکن مریم نواز سے لے کر مولانا فضل الرحمن تک جوزبان استعمال کر رہے ہیں ، وہ بھی کچھ کم نہیں ، بلکہ زبان وبیان پر عبور کے سبب مولانا کاایک جملہ بھی بعض اوقات عمران خان کی پوری تقریر پر بھاری پڑ جاتا ہے ۔ ۔۔۔درد دل یہ ہے کہ کسی اور کا گالی دینا ، الزام تراشی کرنا ، نام بگاڑنا، طعنہ زنی کرنا یا دشنام کا کوئی بھی رنگ اختیار کرناشائد اتنا معیوب نہ ہو،جتنا مولانا کا ہلکی بات کرنا معیوب دکھائی دیتا ہے ،کیونکہ وہ دین کے دعویدار ہیں ،خود کو اسوہ حسنہ کا وکیل قرار دیتے ہیں ، عمل تو رب جانتا ہے کم ازکم زبان وبیاں تو بظاہر تعلیمات اسلامی کے مطابق ہونا چاہئے۔ دوسروں کو شائد ہی علم ہو مگر کیا انہیں سورة حجرات یاد نہیں ؟ یایہا الذِین امنوا لا یسخر قوم مِن قوم عسی ان یکونوا خیرا مِنہم و لا نِسآ مِن نِسآ عسی ان یکن خیرا مِنہن و لا تلمِزوا انفسکم و لا تنابزوا بِالالقابِ ۔(ے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاو اور نہ کسی کو برے لقب دو۔(الحجرات ۔11)۔
دوسروں کا لاعلمی کا بہانہ مانا جا سکتا ہے مگر مولانا …… مولانا ا توصاحب علم ہیں ، کیا انہیں معلوم نہیں کہ قرآن کیا کہتا ہے ؟اے مسلمانو: تم ان کے جھوٹے معبودوںکو گالی مت دو جنہیں یہ مشرک لوگ اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ بھی جواباً اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔(انعام، 6: 108))۔اللہ تعالی نے انسان کو جن بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے زبان ایک بہت بڑی نعمت ہے جو قلوب و اذہان کی ترجمان ہے، اسکا صحیح استعمال ذریعہ حصول ثواب اور غلط استعمال وعید عذاب ہے، یہی وجہ ہے کہ احادیث نبویہ ۖ میںاصلاحِ زبان کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم ۖ نے گالی گلوچ کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔آپ ۖ نے فرمایا:”منافق کی چار نشانیاں ہیں۔جب بولے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،امین بنایا جائے توخیانت کرے اور جب جھگڑا ہوجائے توگالی گلوچ پر اتر آئے ۔”مسلم کی روایت ہے کہ ”جب دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کریں تو گناہ ابتدا کرنے والے پر ہی ہوگا،جب تک کے مظلوم حد سے نہ بڑھے۔”ایک طرف تو نبی اکرم ۖ نے گالی گلوچ سے منع کیا اورفرمایا کہ گالی گلوچ کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہوگا، دوسری طرف اخلاقی طور پر یہ بھی ہدایت کی ہے کہ گالی کا جواب گالی سے نہ دیا جائے،اس لیے کہ اس طرح کرنے سے دونوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے،پیغمبر اسلام ۖنے فرمایا:مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ۔رسول اللہ ۖ نے فرمایا:ترجمہ : جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے ،(اسے چاہئے یا تو) وہ بھلائی کی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔اہل ایمان کی گفتگو بہترین اورپر تاثیر ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ فضولیات سے احتراز کرتے ہیں کیونکہ نبی ۖ نے فرمایا:ترجمہ : فضول باتوں کو چھوڑ دینا ، آدمی کے اسلام کی اچھائی کی دلیل ہے ۔اور بخاری کے مطابق فرمایا ۖ ” تم میں سے میرے قریب وہ ہوگا ، جس کا اخلاق اچھا ہوگا ۔”
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمدۖ کا تمھیں پاس نہیں
علم سیاسیات میں ارسطو نے معمولی سی لکیر کھینچ کر سیاست کو اخلاقیات سے الگ کیا تھا لیکن میکاولی نے اپنی کتاب پرنس لکھ کر بڑی بے رحمی کے ساتھ سیاست اور اخلاقیات کے راستے جدا کردیئے تھے۔ لیکن سیاسیات اور اخلاقیات کو علیحدہ کرنے کا عمل محدود حد تک تھااور اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ طویل اقتدار کے حصول کے لئے اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کا قطعی یہ مقصد نہیں تھا کہ سیاستدان بد زبانی کریں ایک دوسرے کے لئے توہین آمیز الفاظ استعمال کریں اور ان کا لب و لہجہ اخلاقی معیار سے گرا ہوا بھی ہو۔ ماضی میں پاکستانی سیاست میں بلاشبہ بڑی قدآور سیاسی شخصیات موجود تھیں۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا ان کی شخصیت سے علمی و ادبی تاثر جھلکتا تھا۔ ان کی سیاسی تربیت ایسی تھی کہ آپ ان عظیم شخصیات سے اخلاق سے گری ہوئی بات کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ یقینا ان سیاسی شخصیات کے نظریات بہت متضاد اور مختلف تھے مگر ان کی اخلاقی بنیاد بہت مضبوط تھی۔ ان میں رواداری اور دیگر اخلاقی اصول بدرجہ اتم پائے جاتے تھے۔ اس لئے ان کا مقام بلند تھا۔ ان میں ذوالفقار علی بھٹو، مولانا مودودی، مولانا مفتی محمود، علامہ احسان الٰہی ظہیر، باچا خان، مولانا شاہ احمد نورانی، شہید فاضل راہو ¡ میر غوث بخش بزنجو اورنوابزادہ نصر اللہ خان سمیت سب ہی شرافت متانت اور علم وادب کا پیکر تھے ۔

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
مقام افسوس ہے کہ موجودہ سیاست دانوں میں خال خال ہی کوئی ہو جو ان سیاسی رہنمائوں کی طرح علم و ادب میں یکتا ہونے کا دعوی کرسکے۔ موجودہ سیاست دانوں کی سیاسی تربیت بھی ان حالات میں نہیں ہوئی جن حالات میں ماضی کے عظیم سیاست دانوں کی ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر نجی محفلوں میں لوگ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ پاکستان میں قیادت کا بحران ہے۔لوگ اچھی قیادت کے منتظر ہیں۔ ایک منجھا ہوا اور تجربے کار سیاست دان تحمل سے بات کرتا ہے ایسا نہیں کہ اس کے منہ میں جو آئے وہ کہتا چلا جائے۔ بات ابےتبے سے شروع کرے اور ابے تبے پر ختم کردے۔ سچ تو یہ ہے کہ سیاست عبادت ہے، سیاست خدمت ہے اورکبھی یہ سیاست دان قوم کے لئے رول ماڈل ہواکرتے ہیں۔ اب اوئے اور ابے کہہ کر تو کوئی قوم کا رول ماڈل نہیں بن سکتا۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنی قوم کے نوجوانوں کو یہی کچھ دے رہے ہیں۔ وطن عزیز میں نوجوان بیشتر ممالک کے مقابلے زیادہ ہیں۔ ان کی صحیح تربیت کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ وہ اپنا آئیڈیل اب کس کو بنائیں گیاور جب کبھی انہیں سیاست کے میدان میں آنے کا موقع ملا تو پھر وہ قوم کو کیا دیں گے سوال یہ ہے کہ ہم ہم سیاست کے نام پر اپنے نوجوانوں کو کیا دے رہے ہیں ؟بد زبانی، ، طنز، تمسخر اور اخلاق سے عاری زبان۔ ایسا نہیں کہ ہمارے معاشرے میں اچھے لوگ نہیں ہیں لیکن ان کا رویہ پیرزادہ ظفر ہاشمی کے اس شعر کے مترادف ہے:
گمنام ہی رہو، یہی بہتر ہے تمہیں اب ظفر
اس دور ناشناس میں شہرت بھی اک گالی ہے
افسوس کا مقام کا ہمارا میڈیا گالیاں دینے والے سیاستدانوں کی پذیرائی کرتا ہے جتنی زیادہ کوئی سیاستدان گالیاں دیتا ہے اتنا ہی اس کو رات 8بجے سے 11 بجے تک پرائم ٹائم میں میڈیا ٹاک شوز میں مدعو کرکے اس بدزبان شخص کو قوم کے سامنے لا کر بٹھایا جاتا ہے۔ ہماری پارلیمنٹ میں خواتین کو گالیاں دی جاتیں ہیں ٹریکٹر ٹرالی کہا جاتا ہے فحش جملہ بازی کا تبادلہ ہوتا ہے۔ سیاستدان باقاعدہ مرغوں کی طرح ایک دوسرے پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔یہ سیاستدان ایک دوسرے کے لئے جس نوعیت کے الفاظ استعمال کرتے ہیں وہ ناقابل بیان اور نا قابل تحریر ہیں۔ یعنی
تو بھی کوئی پار سا نہیں تھا
مجھ سے بھی گناہ ہوگیا ہے
حالیہ دنوں میں سیاست دانوں کے بیانات دیکھے جائیں تو یہ حقیقت بھی واضح ہوجائے گی کہ ان کے اس قسم کے زبانی حملوں سے ان کی خواتین تک محفوظ نہیں جس کے دل میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے اس طرح سیاست دانوں کے والدین پر بھی غیر اخلاقی حملے کئے مرحومین کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔حد تو یہ کہ سیاسی جماعتوں نے گالم گلوچ کا جیسے باقاعدہ ایک شعبہ قائم کرلیا ہے جس کا کام ہی دوسری پارٹی کے اہم رہنماوں کو گندے گندے القابات سے نوازنا ہے تاکہ وہ زبان نہ کھول سکے۔ لد گئے وہ زمانے کہ جب ادب آداب سکھانے کیلئے اخبارات اور ٹیلی ویژن وغیرہ جیسا میڈیا استعمال کیا جاتا تھا۔ اب تو اسے اخلاق خراب کرنے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
سوال یہ کہ اس سب کا حل کیا ہے ؟ کون کرے گا ؟
جن پہ تکیہ تھا کریں گے دست گیری اوروں کی
خود وہ بیچ منجدھاربے دست وپا ڈوبتے دیکھے



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر