17 جولائی کا دن تحریک انصاف کیلئے تاریخی دن ثابت ہوا، پی ٹی آئی جو کہ ساڑھے تین سال حکومت میں رہنے کے بعد عوام میں مہنگائی کی وجہ سے غیر مقبول ہو گئی تھی ایک نئی زندگی ملی ۔پنجاب کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف نے 20میں سے 15سیٹیں جیت کر دکھا دیں۔تحریک انصاف کا 15سیٹیں جیتنا جہاں سیاسی مخالفین کیلئے سرپرائز تھا وہیں پی ٹی آئی سپورٹرز کیلئے بھی حیران کن تھا۔عمران خان الیکشن سے قبل الیکشن کمیشن پر دھاندلی کے الزامات لگاتے رہے۔عمران خان نے اداروں پر تنقید بلکہ گالم گلوچ کی ۔آئی ایس آئی کے افسران پر بھی عمران خان اور پی ٹی آئی نواز صحافیوں نے بے بنیا د الزامات لگائے کہ ملکی سلامتی کے ادارے الیکشن میں مداخلت کر رہے ہیں تاہم الیکشن کے دن امن و امان اور نظم و ضبط کی صورتحال اور پھر نتائج نے واضح کیا کہ ریاستی اداروں نے ضمنی الیکشن کو شفاف بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا اور کہیں بھی اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز نہیں کیا۔پاک فوج نے سیکیورٹی کے بھرپور فرائض انجام دیئے اور بطور کوئیک رسپانس فورس تمام پولنگ اسٹیشنز پر موجود رہی۔الیکشن سے قبل عمران خان نے الزامات لگائے کہ دھاندلی کی تیاری ہو رہی ہے ۔عمران خان پاک فوج کو کبھی نیوٹرلز کہہ کر تضحیک کا نشانہ بناتے تو کبھی فوجی افسران کو مسٹر ایکس، وائی کہہ کر مخاطب کرتے ۔ سوشل میڈیا پر پاک فوج کیخلاف مہم چلائی گئیں کہ ادارہ الیکشن میں مداخلت کر رہا ہے۔آرمی چیف نے فوجی افسران اور آئی ایس آئی کے حکام کو واضح کیا کہ وہ سیاسی سرگرمیوں سے دور رہیںاور ایسا ہی ہوا۔ پاک فوج نے سیاسیسرگرمیوں سے دور رہ کر خود کو غیرجانبدار ثابت کر دیا۔عمران خان جب وزیراعظم تھے تو کہتے تھے جنرل باجوہ جیسا جمہوری آرمی چیف میں نے کبھی نہیں دیکھا تاہم حکومت سے نکلنے کے بعد عمران خان نے یکایک پینترا بدلا اور دبےالفاظ میں فوج پرتنقید شروع کر دی۔پی ٹی آئی کے سپورٹرز نے سوشل میڈیا پر پاک فوج اور آرمی چیف کیخلاف ٹرینڈز چلائے تاہم آرمی چیف اور پاک فوج نے ثابت کیا کہ فوج اب کسی قسم کی سیاسی مداخلت پر یقین نہیں رکھتی ۔پاک فوج اب صرف اپنے آئینی اختیارات اور حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے گی۔کیا اب عمران خان اداروں پر الزامات عائد کرنے پر معافی مانگیں گے؟کیا جیت کے جشن میںٹھمکے لگانے والے پی ٹی آئی سپورٹرز میں کچھ شرم باقی ہے کہ وہ اداروں کیخلاف منفی پراپگینڈے کا حصہ بننے پر معافی مانگیں؟جیت کا جشن ضرور منائیں لیکن ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔پاک آرمی نے ہمیشہ ملکی مفاد کو ترجیح دی ہے ۔ پاکستانی قو م کی خدمت کیلئےفوج ہمیشہ تیار رہی ، کوئی بھی مشکل وقت آتا ہے تو عوام فوج کو سب سے پہلے پاتی ہے۔تاہم گزشتہ کچھ عرصے میں عوام اور فوج کےدرمیان ایک دراڈ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔عوام کو فوج سے متنفر کرنے کا ایجنڈا بیرونی ہے۔پاکستانی فوج ملکی سلامتی کی ضامن ہے اگر عوام اور فوج کو آپس میں لڑا دیا جائے تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔عوام کو سوچنا چاہئے کہ اداروں کیساتھ لڑائی کسی طور پرملک کےمفاد میں نہیں۔ادارے ہمارے اپنے ہیں اور ہمارے ہی لیے ہیںلہذا سیاسی اختلافات کی آڑمیں ملک کا اور اپنا نقصان نہ کریں۔
الیکشن جیتنے کا جشن ضرور منائیں مگر جھوٹے الزامات پر شرمندہ ہو ں



