نئی نسل کی خود سری اور ہمارا معاشرہ

عابد حسین قریشی

حالیہ دنوں میں میڈیا پر بڑے دلخراش مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ کم سن لڑکی ایک نیم بالغ لڑکے کے ساتھ نکاح میں آنے کی کوشش میں اپنے بے بس ماں باپ کی ہچکیوں اور سسکیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے فیصلہ پر اٹل اور کاربند نظر آتی ہے۔ پنجاب سے کراچی منتقلی کے باوجود اس نو نہال جوڑے کے پائے استقلال میں کوئی جنبش نہیں۔ مگر یہ سارے مناظر جہاں اُس لڑکی کے مجبور و بے بس والدین جو بظاہر کسی اچھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اُن کی مسلسل اذیت اور بے بسی پر نوحہ کناں ہیں۔ وہاں معاشرہ کے اس نئے ٹرینڈ پر بھی انگشت بدندان ہیں۔

ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ کون کون ذمّہ دار ہے۔ اسکے اسباب کیا ہیں اور اسکا تدارک کیسے ممکن ہے۔ توجہ طلب امور ہیں۔

کیا ہمارا معاشرہ اتنا بے مہار ہو گیا ہے کہ والدین کا ادارہ (institution) بلکل بے بس و لاچار ہو کر بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ کیا معاشرہ میں اساتذہ کا رول ختم ہو گیا ہے۔ کیا ہم نے لبرل ازم کے نام پر اپنے بچوں کو اتنی آزادی دے دی ہے کہ معاملات والدین کے کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں۔ کیا ہماری اخلاقی اقدار زمین بوس ہو چکی ہیں۔ کیا ہمارا معاشرہ تیزی سے روبہ زوال ہو کر اخلاقی طور پر مکمل انہدام کے قریب ہے۔ اس میں ہمارے میڈیا کا رول کس حد تک خطرناک ہے۔ کیا سب کچھ انٹرنیٹ، انسٹا گرام اور سیل فون کے بے تحاشہ اور بے مہار استعمال کا نتیجہ ہے۔ یا مذہب سے دوری سب سے اہم عنصر ہے۔ بات کچھ بھی ہو، وجہ جو بھی ہو مگر لمحہ فکریہ یہ ہے کہ وہ بچی جس کی پروش والدین بڑے ناز و نعم سے کرتے ہیں اور بیٹے اور بیٹی میں کوئی تمیز روا نہیں رکھتے کیسے ممکن ہے کہ وہ بیٹی جو سکول یا کالج پڑھنے جاتی ہے تو اُسکا والد یا بھائی تمام تر مصروفیات کے باوجود یہ ذمّہ داری اپنے اوپر مذہبی فرائض کی طرح لاگو کر لیتا ہے۔ کہ اُسے بیٹی یا بہن کو بحفاظت گھر لے کر آنا ہے اور اُسکی ماں بچی کے گھر آتے تک دروازے کی دہلیز پر نظریں گاڑے اُسکی گھر سلامتی کے ساتھ آنے کی دعا کرتی ہے۔ محلّہ میں کسی آوارہ لڑکے کی بد نظری لڑکی کے بھائی کی طرف سے کسی بڑے ایکشن کی ہمہ وقت منتظر ہوتی ہے۔ پھر اچانک یہ کیسے ہو جاتا ہے کہ وہی لڑکی جب اپنی منشا سے کسی لڑکے کو پسند کر کے شادی کرنا چاہتی ہے۔ تو اُنہی والدین اور بھائیوں کی رائے کو نظر انداز کرتی ہے۔ بلکہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماں باپ کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی اور وہی عزّت جس پر کبھی اُسکے والدین اور بھائی رشک کیا کرتے تھے سر بازار کرچی کرچی ہو جاتی ہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ بچیوں کو آزادانہ فیصلے کرنے سے نہیں روکا جا سکتا بلکہ اُنہیں بھی اپنے مستقبل کا، اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا اُسی طرح حق ہے جس طرح گھر میں یہ آزادی لڑکوں کو دی جاتی ہے مگر اپنی ان بچیوں سے البتہ یہ گزارش تو کی جا سکتی ہے کہ وہ بے شک اپنی مرضی کے فیصلے کریں کہ وہ فیصلے کرنے میں آزاد اور خود مختار ہیں مگر خدارا یہ فیصلے کرنے کے لیے عقل و شعور کی عمر تک پہنچنے کا تو انتظار کرلیں۔ کیا جلدی ہے کہ ساری بحّث اس بات پر چل پڑے کہ بچی ابھی بالغہ بھی ہوئی ہے یا نہ۔ ایسے میں والدین کے دل چھلنی ہونا فطری سی بات ہے۔ اور اگر بچیاں بالغ ہو کر بھی اس قسم کا فیصلہ کرنا چاہیں تو کوئی حرج نہیں۔ مگر زیادہ مناسب اور بہترین بات یہ ہو کہ وہ اس طرح کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے والدین کو اعتماد میں لے لیں۔ جس سے نہ صرف اُن کی اپنی عزت میں اضافہ ہو گا بلکہ اُنکا مستقبل بھی زیادہ محفوظ اور خوش گوار رہے گا۔ والدین کو بھی بچوں کے شادی بیاہ کے معاملے میں ممکن حد تک بچوں کی پسند و نا پسند کا خیال رکھنا چاہیے۔

افسوس اس مادی دنیا کی بے مصرف دوڑ میں ظاہری شان و شوکت اور احساس کمتری کو احساس برتری میں تبدیل کرنے کی ناکام کوشش میں ہم اپنی اخلاقی قدروں سےاور اعلٰی اور قابلِ رشک معاشرتی روایات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ لبرل ازم کے نام پر مادر پدر آزادی کے نتائج بڑے بھیانک آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہماری قوم کی بیٹیوں کو یہ ضرور سوچنا ہو گا کہ کیا یہ ضروری ہے کہ اُن کے بابل اور ماں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو جو اُنکی گھر سے باعزت رخصتی کے وقت بہتے اور جن میں باپ کی محبت اور ممتا کی چاہت چھلک رہی ہوتی ہے۔ وہی آنسو تھانوں، کچہریوں اور عدالتوں کے برآمدوں میں نہایت کسمپرسی اور بے بسی کی حالت میں بہتے نظر آئیں۔

اب آخر میں چند گزارشات والدین سے بھی ہیں کہ خدا کے بندو اپنی اولاد کو اتنی ہی آزادی دو کہ اسطرح کی صورتحال پنپ نہ سکے۔ لبرل ازم، روشن خیالی اور ماڈرن ازم کے نام پر اپنی اخلاقی حدود و قیود کا خیال رکھیں۔ دس سال عمر کے بعد بیٹے اور بیٹی کی حرکات پر نظر رکھیں۔ انٹرنیٹ اور سیل فون بچوں کے بالغ ہونے تک اُن کے ہاتھوں میں نہ دیں۔ بچوں کے کسی بھی ابنارمل رویّے کو محسوس کریں، نوٹس لیں اور فوری تدارک کے لیے عملی اقدامات کریں۔ بچوں کے دوستوں پر نظر رکھیں۔ صرف شادی بیاہ کا مسلۂ ہی نہیں بد قسمتی سے بچوں میں نشہ کی علت بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے مکمل طور پر کمرشل بن چکے ہیں۔ اُن پر بچوں کی کردار سازی کی بجائے دولت کمانے کی دُھن سوار ہے۔ سوسائیٹی مجموعی طور پر بےحس ہو چکی ہے۔ کسی کو یہ احساس نہیں کہ جو کچھ اُسکے پڑوس میں یا محلہ میں ہو رہا ہے کبھی اُسکے گھر بھی داخل ہو سکتا ہے۔

یوں پھر رہا ہے کانچ کا پیکر لیے ہوئے
غافل کو یہ گماں ہے کہ پتھر نہ آئے گا

نئی نسل کا اخلاقی بگاڑ ایک المیہ ہے۔ جسکے ہم سبھی ذمّہ دار ہیں۔ ویسے تو جس معاشرہ میں عدم برادشت، جہالت، غربت، بے روز گاری، محرومی و لا چارگی، عدم مساوات اور نا انصافی چاروں طرف پنجے گاڑے ہوئے ہو وہاں کسی خیر کی توقع کرنا عبث ہے۔ مگر مایوسی کی طرف جانے سے بہتر ہے کہ ہر شخص اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ خاندان کا institution تگڑا ہو۔ استاد اصلاح کا رول ادا کریں۔ تعلیمی ادارے کردار سازی کی طرف متوجہ ہوں۔ حکومت وقت اور میڈیا اس میں مثبت اور کار آمد رول ادا کریں تو ابھی بھی اصلاح کی گنجائش ہے۔



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر