مذہبی ٹچ

خامہ اثر : قاضی عبدالقدیر خاموش
زمانہ ٹچ کا ہے ،چونکہ سیاست تو زمانے کا پرتو ہے ، پھر کیوں نہ یہاں بھی وہی چلن ہو ، جو معاشرے کو لبھائے ،مجمع کو ورغلائے ،اور لوگوں کو لیڈر کے عزائم سے بے خبر رکھتے ہوئے ،اس کی ہوس اقتدار کا غلام بناڈالے ۔ ماہرین لسانیات کہتے ہیں ،لوگ یا تو چرب زبان ہوتے ہیں یا زبان دراز، یہ دونوں متضاد خصوصیات کسی ایک میں یکجا ہونا ممکن نہیں، لیکن جہاں تک تعلق ہے سیاستدانوں کا توپارٹی، نظریات اور بعض اوقات سرحدوں سے بھی ماوریٰ ہوکر وہ” خاص ہیں ترکیب میں” اس لیے انہیں چرب زبانی، زبان درازی ہی بیک وقت عطا نہیں ہوئی بلکہ زبان سے متعلق ہر خاصیت وخرابی ان کی دسترس میں ہے تاکہ آسانی کے ساتھ مخلوق کو جتنا نقصان پہنچا نا چاہیں پہنچا ئیں۔ مگرمسئلہ یہ ہے کہ اہلِ سیاست کی یہ خاصیت انہیں بعض اوقات مشکل میں بھی ڈال دیتی ہے۔ چرب زبانی کے باعث زبان پھسل جاتی ہے اور زبان درازی کی وجہ سے تو پورے کا پورا سیاستدان ہی اقتدار کی سیڑھیوں سے لڑھک کر گرتا ہے اور زباں بندی کے زنداں میں جا پڑتا ہے ۔
ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

پاکستان کے معاملہ میں ان دونوں خصوصیات لسانی کا ہدف عموماً دیگر علوم وفنون سے زیادہ مذہب ہی بنتا ہے ، قوم میں چونکہ مذہب کی محبت زیادہ ہے ، اور قومی مزاج ایسا ہے کہ ہر شخص مذہب اور طب کا ماہر ہے ، جہاں کسی مریض کو دیکھا فوراً اک نسخہ کیمیاعطا فرمادیا ، اور جہاں کہیں موقع ملا فوراً فتویٰ داغ دیا ، الزام مولوی پر ہے کہ فتوے لگاتا ہے ، لیکن اس فن میں بھی کمال ہمارے ارباب سیاست کو حاصل ہے ، اور کمال بھی ایسا کہ علم رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں لیکن فتویٰ داغنا فرض خیال کرتے ہیں چاہے بعد میں رسوائیاں ہی مقدر کیوں نہ بنیں ۔ اس فن میں ہر جماعت کا ہر سطح کا لیڈر ایک دوسرے کے مقابلے میں پیچھے نہیں ، اور واللہ نہیں ۔ہر اک دعویٰ ہے کہ :
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا مستند ہے ، میرا فرمایا ہوا
قدیم کو رہنے دیجئے کہ لوگوں کی عقیدتیں وابستہ ہیں ،حالیہ ربع صدی کا ہی جائزہ لے لیں تو مقابلے کی ایسی فضا دکھائی دیتی ہے کہ پناہ بخدا ، پناہ بخدا۔۔۔آج سے بات شروع کریں تو پہلا تذکرہ خان صاحب کا بنتا ہے۔ لیکن پہلے تجربہ کار وں کا ذکر لازم ہے ،لہذا قصہ ماضی کو اولیت دیتے ہیں جہاں سابق وزیر اعظم اور بزعم خود اپنے عہد کے اسلامی ووٹ بینک کے قائد نواز شریف لاہور میں کھڑے ہوکر کہتے ہیں کہ ”قادیانی ہمارے دینی بھائی ہیں ” اور آج تک اپنی اس دین دشمنی پر شرمندہ بھی نہیں ، بلکہ اسی کے چند ہفتے بعد نیا گل کھلایا کہ” رام اور رحیم ایک ہی ذات ہے” ، اور ان کی جماعت کے دین دار اور ارباب علم ودانش کو بھی توفیق نہیں ہوئی کہ سمجھا ہی دیتے کہ آپ مسلم لیگ کے قائد ہیں مسلم عقائد پر حملہ آور تو نہ ہوں۔
پرانی سیاست گری خوار ہے زمیں میر و سلطاں سے بیزار ہے
ایسے میں آصف زرادری کی بات کیا کرنی کہ وہ تو ہیں ہی لبرل جماعت کے سربراہ ، وہ اگر کہہ گزریں کہ وعدے کوئی قرآن وحدیث ہیں تو گرفت کیسی ،؟ پرویز مشرف ،اسلامی جمہوریہ پاکستان کاقائد: واشنگٹن میں کھڑے ہو کر اسلام اور یہودیت کو ملانے کا شوق چرایاتو کہاں کی کہاں جا ملائی کہ مسلمانوں کا اسلام علیکم اور یہودیوں کا سلوم ایک ہی چیز ہے ،بلکہ یہاں تک خرافات کی داستان کو طویل کرگیا کہ اسلام علیکم کا ماخذ سلوم ہی ہے ۔ افسوس کہ کوئی نہ بولا۔۔
روشنی لوٹ لی ابھرے ہوئے مِیناروں نے پست ذروں کے مقدر میں وہی رات رہی
کل کی بات کرلیجئے۔۔ مسلم لیگ نواز کے وزیر خزانہ واشنگٹن پہنچے تو عمران حکومت کے خلاف امریکیوں کو شکایات لگاتے ہوئے ”امر بالمعروف ” کے قرآنی حکم کو بھی عمران خان کے جرائم کی فہرست میں شمار کرنے اور اس کا سلسلہ طالبان کی وزارت امر بالمعروف سے جوڑنے سے گریز نہیں کیا ۔ جہاں تک معاملہ ہمارے خان صاحب کا ہے تو ہمارا حسن ظن ہے کہ دنیا بھر کے سیاستدانوں میں اگر زبان پھسلنے کا مقابلہ ہو تو عمران خان یہ عالمی کپ بھی باسانی جیت لیں گے۔ یہ تو ان کے حامیوں کی مہربانی ہے کہ اپنے رہنما کی پیروی کرتے ہوئے وہ بھی روحانیت کو رحونیت، تونسہ کو چونسا نہیں کہنے لگے، ورنہ جانے کتنے لفظوں اور ناموں میں تبدیلی کرنا پڑتی ۔زباں پھسلنے کے معاملہ میں جہاں بلاول کی کانپیں ٹانگتی ہیں ، وہیں خان صاحب سائنس اور ٹیکنالوجی سے لے کر جغرافیہ اور موسمیات تک انقلاب بپا کرنے سے گریز نہیں کرتے ، پھر نیپال سمٹ کر اپنے دارالحکومت کھٹمنڈو میں محدود ہی نہیں ہوتا بلکہ ملک کے موسم بڑھ کر 12 ہوجاتے ہیں اور بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ اب تک تو موسم کی ادا دیکھ کر انسان بدل رہے تھے اب انسانوں کی شرح پیدائش سے متاثر ہوکر موسم بھی صاحبِ اولاد ہونے لگے ہیں۔سپیڈ کی لائٹ سے زیادہ تیز ٹرین تصور میں یونہی زن سے گزر جاتی ہے جیسے خان صاحب سے بندھی امید کے دن گزر گئے، جرمنی اور جاپان کی سرحدیں آپس میں آ ملتی ہیں اور جرمن کہنے لگتے ہیں کہ خدا کا شکر ہے یہ سرحدیں بہت دیر سے آپس میں آکر بھڑیں، ورنہ ایٹم بم ذرا سا بہک کر جرمنی پر گر سکتا تھا۔دوسری جانب مذہب پر بھی جناب عمران خان اور ان کے حواریوں کی نظر کرم دوسروں سے فزوں تر ہے اور حد تو یہ کہ ان کے کارکن اس پر بات کرنے کو جرم ہی نہیں گردانتے بلکہ اسے خان کی ادا قرار دیتے ہیں ، اور لڑنے مرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ، تفصیل میں کیا جاناکہ گستاخی کے ارتکاب کا ڈر ہے، ورنہ ان کے مبلغ علمی سے تو کچھ بھی محفوظ نہیں رہا۔
یہ مسائل تِصوف، یہ ترا بیان غالب تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا
۔۔۔اور تو اور ہر دم جان رب کو دینی ہے کا نعرہ لگانے والے علی محمد بھی کسی سے پیچھے نہیں وہ بھی سیاست کے لئے مذہب کو استعمال کرنے سے گریز نہ کرسکے اور جہلم کے جلسہ میں قبر کے سوالات میں پی ٹی آئی کے لئے کام کرنے کا سوال بھی گھسیڑ ڈالا ۔ معاملہ صرف سیاست کا نہیں پاکستان کے سیکولر اور لبرل عناصر اہل مذہب پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ مذہب کے نام پر سیاست کرکے دراصل مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات دلیل کے طور پر کہی جاتی ہے مگر اس بات کو دلیل کہنا دلیل کی توہین ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سوشلزم، کمیونزم، سیکولر ازم، لبرل ازم، صوبائیت، لسانیت، سرمایہ داری، طبقاتی کشمکش، وڈیرہ شاہی، غربت اور امارت کی بنیاد پر سیاست ہوسکتی ہے تو مذہب کے نام پر سیاست کیوں نہیں ہوسکتی؟ اقبال نے صاف کہا ہے کہ :
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں جذبِ باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں
جلال پادشاہی ہو یا جمہوری تماشا ہو جدا ہوویں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
سیکولر اور لبرل افراد اہل مذہب پر تو الزام لگاتے ہیں کہ وہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر جب ضرورت محسوس ہوتی ہے تو سیکولر اور لبرل عناصر ان کے ترجمان اور پاسبان خود مذہب کو اپنے سیاسی و سماجی یہاں تک کہ صحافتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں۔
کروں گا کیا جو سیاست میں ہو گیا ناکام مجھے تو اور کوئی، کام بھی نہیں آتا
سوال یہ ہے کہ اگر سیاست اور دین ہمارے ہاں الگ ہیں ، تو پھر سیاست میں دین اور مذہب کا استعمال کیوں ؟ اور اگر واقعی ووٹر کے زہنی رجحان کے پیش نظر معاملہ کوئی سنجیدہ تعلیمات کی منتقلی کا نہیں صرف مذہبی ٹچ کا ہے ، جیسا کہ اسلام آباد کی تقریر کے دوران محترم خان کی تقریر کے دوران انہیں مخاطب کرکے کہا گیا ،تو بھی کم ازکم معلومات تو درست کرلی جائیں ، احترام کے تقاضوں اور دینی حدود وقیود کا تو احترام پیش نظر رکھ لیا جائے ؟ یوں تو دینی اصطلاحات کا تلفظ بھی کوئی ایسا معاملہ نہیں جسے درست کرنا ممکن نہ ہو ، یا جس پراہل مدارس کی اجارہ داری ہے ، لیکن کم ازکم دینی بنیادوں ، مقدسات اور بنیادی عقائد کی توہین سے تو لازماً بچنے کی ضرورت ہے ، ناکہ جواز پیش کیا جائے کہ فلاں نے بھی تو ایسے کہا تھا ۔
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر