با خدا دیوانہ باش ،با محمدﷺ ہوشیار!!

خامہ اثر: قاضی عبدالقدیر خاموش
کتنے ہی دن گزر گئے ، فہم وادراک پر تازیانے برس رہے ہیں ،خیال مختل ہے، سوچ منتشر اور ہواس بے گانہ ، لکھنا تو دور کی بات سمجھنا ، سوچنا اور ایک لمحے کے لئے تخیل بھی روح فرسا ہے کہ حرم نبوی ﷺ کی توہین ، اس آقا ء دو عالم ، داناء سبل محبوب خدا ﷺکی آخری آرام گاہ پر غلیظ سیاست کی بنیاد پر سوقیانہ طرز عمل ۔۔۔ نہیں ، نہیں ۔۔۔ یہ ممکن نہیں ۔ برداشت نہیں ، ایسا سوچنا بھی محال ہے ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایسا ہوا ہے ، اور بد قسمتی یہ کہ میرے دیس پاکستان کے چہرے پر کالک ملی گئی ہے۔۔۔۔، حذر ، الحذر اے چیرہ دستاں الحذر ۔۔شقاوت قلبی کی انتہا ء دیکھیں کہ اس عمل کے بعد جواز گھڑے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ تمسخر اڑایا گیا ، مسجد نبوی کی حیثیت پر سوال اٹھائے گئے ۔ شرمناک ،شرمناک۔۔ درست کہا دانشور محمد اظہار الحق نے کہ ’’جینے کا جواز ختم ہو چکا!اس کائنات میں جتنے جہان ہیں اور جتنے زمانے ہیں اور جتنی دنیائیں ہیں اور جتنی زمینیں ہیں اور جتنے آسمان ہیں اور جتنی کہکشائیں ہیں اور جتنے ستارے ہیں اور جتنے سیارے ہیں، اور جتنے شمسی نظام ہیں اور جو آئندہ بھی اس ہر لحظہ پھیلتی کائنات میں پیدا ہوں گے ان سب میں مقدس ترین مقام وہ ہے جہاں اللہ کے آخری رسول محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما ہیں۔‘‘
روضۂ رسول تو روضۂ رسول ہے، مسجدِ نبوی تو مسجدِ نبوی ہے، مدینہ کی تو عام گلی بھی ادب ، خاموشی اور شرافت کا تقاضا کرتی ہے ۔جب اللہ رب العزت کا حکم آگیا کہ ’’لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ۔( سورۃ حجرات) ۔ تو جواز کیا رہ جاتا ہے۔ کاش تم دیکھ سکتے کہ فرشتے وہاں کس حالت میں حاضری دیتے ہیں! افسوس صد افسوس! تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ تم نے کیا کر دیا۔ تم نے اُس ہستی کے سامنے شور و غوغا کیا جس کے سامنے ابوبکرؓ و عمرؓ اور عثمانؓ و علیؓ جیسے بے مثال انسان دبی زبان میں بات کرتے تھے۔ تم نے اپنا سب کچھ کھو دیا،اگر تائب نہ ہوئے تو اس زمین کے اوپر اور اس آسمان کے نیچے تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں! تم نے اُس پروردگار کو ناراض کیا جو اپنے محبوب کی شان میں ایک رمق بھر، ایک رتی جتنی گستاخی نہیں برداشت کرتا،ہائے ، ہائے صرف گستاخی ہی نہیں کی لوگوں کو نماز سے روکااور پھر اس پر فخر کرتے ہو۔ بد نصیبو! تم اس مقدمے میں پھنس چکے جس کا مدعی، کوئی اور نہیں، خود خداوندِ قدوس ہے! آج تک، ان ساری صدیوں میں، ان سارے برسوں میں، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی گستاخ دنیا ہی میں نشانِ عبرت نہ بنا ہو!
تاریخ کے جھروکوں سے دیکھیں تو حرم نبوی کی پہلی توہین قاتلین عثمانؓ نے کی تھی ، مسجد کی توہین اور لوگوں کو نماز سے روکا ۔ اس کے بعدایام حرہ میں یزید کی فوجوں نے یہ سیاہ بختی کمائی مسجد کی توہین کی ، لوگوں کو نماز سے روکا ، اس کے بعد آج تک حرم مکی میں بد امنی اور توہین کے واقعات ضرور ہوئے مگر حرم نبوی کی توہین کی کسی کو جرات نہیں ہوئی ، یہاں تک کہ اب یہ رو سیاہی پاکستانی سیاست کے اس جتھے کے حصے میں آگئی ۔شہنشاہ سخن غالب نے کیا خوب کہا تھا ۔
ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است
( اللہ کی بارگاہ میں ، میں نے محمد کی ثنا کی۔ فقط وہی ایک ذات ِ پاک ہے، جو ان کے مقام و مرتبے سے آشنا ہے)۔ اللہ کی مقدس کتاب میں ، جہاں کہیں سرکار کاتذکرہ ہے ، موتی ایک دوسرے رنگ کے ہیں۔ وما ارسلنٰک الّا رحمتہ للعالمین۔ ہم نے تجھے نہیں بھیجا، مگر دونوں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(الاحزاب) اللہ اور اس کے فرشتے بھی محمد پر درود بھیجتے ہیں ۔ وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳)اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ( النجم ) وہاپنی طرف سے وہ کچھ نہیں کہتے مگر وہی جو ان پر نازل کیا گیا“ ۔ ”
ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر نفس گم کردہ می آید ، جنید و بایزید ایں جا
(محمدﷺ کا مرقد مبارک، آسمان تلے ایسی ادب گاہ ہے کہ عرش سے بھی نازک تر ، جنید و بایزید جیسے جلیل القدر یہاں سانس لینا بھول جائیں)۔کسی دوسرے نے کہا
قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
جو علم و ادراک رکھتا ہو۔ قانون کےسیاق و سباق سے آشنا ہو،وہ جانتا ہے کہ ان کے بغیر ایمان نہیں، نجات نہیں، روشنی نہیں۔ کوئی امید اورامکان ہی باقی نہیں رہتا۔ اس دنیا میں وہ ہادیﷺ ، دوسری دنیا میں وہ شافعﷺ۔مسلمان کو گوارا کہ اس کی گردن کاٹ دی جائے لیکن سرکار کی توہین نہیں۔ جذباتیت نہیں ، و اللہ نہیں ،یہ ایمان کا تقاضہ ہے ، مسلم تاریخ کے بہترین دماغوں ، سب سے زیادہ روادار رہنماؤں اور عارفوں کا شیوہ یہی تھا۔
وہ دانائے سُبل،ختم الرُّسل مولائے کل جس نے غبار راہ کو بخشا فروغِ وادئ سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآن، وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ
سیاست کے اسیر نہیں سمجھ سکتے کہ مسلمان کو سرکارﷺ اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں ۔ شخصیت نہیں ، بخدا وہ ایک شخصیت نہیں ہیں ۔ محض ایک ادارہ بھی نہیں ۔ اسلام کی ساری عمارت تین ستونوں پر کھڑی ہے ۔ اللہ ، اس کا رسولﷺ ا ور اس کی کتاب۔ اللہ کی طرف وہﷺ لے کرگئے اور کتاب وہ لے کر آئے ۔
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حجاب
بخدا،دل سخت ملول بھی ہے اور پشیمان بھی، دل و دماغ میں بار بار ندامت سے ایک ہی سوال گردش کررہا ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم اس حد تک پستی میں گرچکے ہیں کہ اب ہمارے نزدیک مقامات مقدسہ اور کائنات کی سب سے مقدس ہستی کا بھی احترام نہ رہا، وہ مبارک ہستی جو وجہ تخلیق کائنات ہیں، جن کی شفاعت کا ہر امتی متلاشی ہے آج اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ان کے احترام سے بھی عاری ہوچکے ہیں ۔۔۔۔ ایک اختر شیرانی مرحوم تھے جو باوجود نشے میں ہونے کے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی آنے پر تڑپ اٹھے اور ان سے برداشت
نہ ہوا اور ایک ہم ہیں کہ واقعہ پر نادم ہونے کے بجائے طرح طرح کی تاویلات پیش کر رہے ہیں۔۔۔۔کیا واقعی ہم اتنے بیباک ہوچکے ہیں کہ اس قبیح ترین فعل پر بھی تاویلات گھڑ نے کی جرات رکھتے ہیں۔عشق نبیﷺ صرف جذبہ ہی نہیں بلکہ ہمارے ایمان کی تکمیل کا لازمی جزو اور عنصر ہےلا يُؤْمِنُ أحدُكم حتى أَكُونَ أَحَبَّ إليه مِن وَلَدِه، ووالِدِه، والناس اجمعین ۔(بخاری )۔کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ مجھے اپنے والدین ، اولاد اور پوری انسانیت سے زیادہ محبت نہ کرے ۔(بخاری )۔ بیٹھ کر کسی وقت سوچئے گا ضرور آج اس پرفتن دور میں ہمارا دین سے، اللہ اور اس کے رسول سے تعلق کس نوعیت کا ہے اور پھر ان سب سے بڑھ کر خود سے سوال کیجئے گا ہمارے نامہ اعمال میں روز محشر پیش کرنے کو ہے ہی کیا ماسوائے اس کے کہ ہم اس نبی کے گنہگار امتی ہیں، روز محشر جن کی شفاعت ہی ہمارا سب سے بڑا آسرا ہے ۔
آج عمر ؓ ہوتے تو اپنا کوڑا لہرا دیتے ، سزا کا علان کرتے اور کھال کھینچوادیتے ۔ عن السائب بن يزيد، قال: كُنْتُ قَائِمًا في المَسْجِدِ فَحَصَبَنِي رَجُلٌ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بنُ الخَطَّابِ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَأْتِنِي بهَذَيْنِ، فَجِئْتُهُ بهِمَا، قَالَ: مَن أنْتُما – أوْ مِن أيْنَ أنْتُمَا؟ – قَالَا: مِن أهْلِ الطَّائِفِ، قَالَ: لو كُنْتُما مِن أهْلِ البَلَدِ لَأَوْجَعْتُكُمَا، تَرْفَعَانِ أصْوَاتَكُما في مَسْجِدِ رَسولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ؟! (صحيح البخاري، الرقم : 470)حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد نبوی میں کھڑا تھا، کسی نے میری طرف کنکری پھینکی۔ میں نے جو نظر اٹھائی تو دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سامنے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ سامنے جو دو شخص ہیں انہیں میرے پاس بلا کر لاؤ۔ میں بلا لایا۔ آپ نے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلہ سے ہے یا یہ فرمایا کہ تم کہاں رہتے ہو؟ انھوں نے بتایا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر تم مدینہ کے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیے بغیر نہ چھوڑتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آواز اونچی کرتے ہو؟؟‘‘
یا اللہ ہم گستاخی کرنے والوں کے ہم وطن ضرور ہیں ، طرفدار نہیں ، یا ارحم الراحمین ہم ایسوں سے بری الذمہ ہیں ، ہمیں معاف فرما ۔
غافل قدم کو رکھیو اپنے سنبھال کر یاں ہر سنگ رہگذر کا دکان شیشہ گر ہے



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر