اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)لاہور ہائیکور ٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے تمام متعلقہ فریقن کو اکٹھے بیٹھ کر اس معاملے کا حل تجویز کرنے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس نے باور کرایا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر افسوس ہے ، ہم اس ملک کے شہری ہیں ، دنیا کے سامنے تماشا نہیں بننا چاہیے، معاملے کے حل کے لیے تمام فریقین کو 2 بجے تک کی مہلت دے دی گئی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے حمزہ شہباز ، دوست مزاری اور ق لیگ کی درخواستوں پر سماعت کی ، سیکرٹری پنجاب اسمبلی بھی ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قوانین کس مقصد کے لیے بنائے گئے ہیں ، کیا یہ اس لیے بنائے گئے ہیں کہ جب کسی کا دل کرے رولز کو مان لیں اور جب کرے تسلیم نہ کرے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ مناسب نہیں ہو گا کہ قوانین کو نہ مانا جائے، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وکلاء کو یہ باور کرایا کہ الیکشن میں تاخیر کیوں کریں ، وزیراعلیٰ کا انتخاب کل کیوں نہیں ہو سکتا۔چیف جسٹس نے یہ بھی ریمارکس دیئے کہ سوچیں کہ اجلاس جلدی کر لیں ، اگر آج آپ کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو کل بھی نہیں پہنچیں گے۔کارروائی کے دوران مسلم لیگ ن کے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہوٹل میں کوئی اجلاس نہیں ہوا ، وہ ایک سیاسی بیٹھک تھی وہاں تو اسمبلی کا چپڑاسی تک نہیں تھا۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ تمام فریقین ایڈووکیٹ جنرل کے آفس میں بیٹھ کر باہمی مشاورت کریں اور حل تجویز کیا جائے ۔چیف جسٹس امیر بھٹی نے سماعت کے دوران کہا کہ ہمیں متعلقہ اتھارٹی سے پوچھنا ہے الیکشن کیسے کرانا ہے، سب جواب دیں الیکشن کیسے ہوگا، الیکشن کا طریقہ کار کیا ہے۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز کی درخواست میں کئی حقائق چھپائے گئے ہیں۔
پنجاب میں وزیراعلیٰ کا انتخاب، معاملے کے حل کیلئے فریقین کو 2 بجے تک کی مہلت



