اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)برطانوی نشریاتی ادارہ، آنجہانی شہزادی ڈیانا کے سابق پرائیویٹ سیکرٹری پیٹرک جیفسن کو خاطر خواہ رقم کی ادائیگی کردی ہے۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی نشریاتی ادارے نے آنجہانی شہزادی ڈیانا کے سابق پرائیویٹ سیکرٹری کو نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے خاطر خواہ رقم کی ادائیگی کردی ہے، جوکہ اُنہیں 1995میں ڈیانا کے برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ ہونے والے انٹرویو کی وجہ سے ہوا۔گزشتہ برس مئی میں ایک رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ برطانوی نشریاتی ادارے کے صحافی مارٹن بشیر نے ڈیانا کا انٹرویو لینے کے لیے دھوکہ دہی کا سہارا لیا تھا جس کی وجہ سے اس وقت ایک سنسنی پھیل گئی تھی۔ اس انٹرویو میں شہزادی ڈیانا نےاپنے افیئر کا اعتراف کیا اور شہزادہ چارلس سے اپنی شادی کی تفصیلات بھی بتائی تھیں۔رپورٹ کے مطابق، ، برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اب ادارے کا پیٹرک جیفسن کے ساتھ سمجھوتہ ہو گیا ہے، جوکہ 1997 میں ایک کار حادثے میں شہزادی ڈیانا کی موت سے پہلے تک اُن کے لیے کام کرتے تھے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’برطانوی نشریاتی ادارے نے کمانڈر جیفسن کو پہنچنے والے نقصان کے لیے ان سے معافی مانگی اور اس کی قانونی قیمت ادا کر دی ہے‘۔ ذرائع کے مطابق، برطانوی نشریاتی ادارے نے کمانڈر جیفسن کو ہرجانے میں خطیر رقم بھی ادا کی ہے، جسے وہ اپنے نامزد کردہ برطانوی خیراتی اداروں کو عطیہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس حوالے سے جیفسن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ’آخرکار اس دردناک واقعہ کے نتیجے پر پہنچنے کے بعد اب سکون ملا ہے‘۔سابق سینئر جج جان ڈائیسن کی سربراہی میں تیار کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’بشیر نے ڈیانا کے بھائی کو جعلی بینک اسٹیٹمنٹس دے کر شہزادی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کیاتھا۔ان بینک اسٹیٹمنٹس میں بتایا گیا تھا کہ ’شہزادی ڈیانا سیکیورٹی سروسز کی جانب سے دھوکہ دہی کا شکار ہیں اوران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے دو سینئر معاونین کو ادائیگی کی جارہی ہے‘۔ اس انٹرویو کے حوالے سے شہزادی ڈیانا کے بڑے بیٹے شہزادہ ولیم کا کہنا ہے کہ ’پینوراما انٹرویو نے ان کے والدین کے تعلقات میں زہرگھول دیا اوراس کےعلاوہ کئی بے شمار تکالیف سے دوچار کیا‘۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی شہزادی ڈیانا کے سیکرٹری کو خاطر خواہ رقم کی ادائیگی



