*نذیر نامہ *
تحریر نذیر ڈھوکی
Nazirdhoki8@gmail.com
چیئرمین پیپلزپارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری کا عوامی مارچ مزار قائد کراچی سے روانہ ہوا ،ٹھٹھہ ،بدین، حیدرآباد، اور سکھر سے ہوتا ہوا سندھ کے آخری شھر کموں شہید کے بعد پنجاب میں
داخل ہوا چیئرمین پیپلزپارٹی کا کارواں جہاں سے بھی گزرا خلق خدا نے ان کا فقیدالمثال استقبال کیا، بزرگ، نوجوان، خواتین عوامی مارچ
کا حصہ بن گئے ، چیئرمین پیپلزپارٹی جس شھر سے گزرے انہوں نے عوام کو بتایا کہ وہ عوامی مارچ کیوں کر رہے ہیں اور ساتھ عوام کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی اس طرح ان کا کافلہ تاریخی کارواں بنتا گیا ملک کا میڈیا ان کا
شریک سفر رہا ،میڈیا کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی کا کارواں جب سندھ اور پنجاب کی سرحد عبور کر رہا تھا تو ان کافلہ 10 کلومیٹر طویل تھا جنوبی پنجاب کے شہروں صادق آباد، رحیم یار خان ، بہاولپور، ملتان اور خانیوال سے ہوتا ہوا وسطی پنجاب کے شھر چیچاوطنی پہنچا تو 20 کلومیٹر طویل بن گیا، اس طرح عوامی مارچ جب روات پہنچا تو 30 کلومیٹر طویل ہو گیا تھا، در اصل جناب بلاول بھٹو زرداری کا بیانیہ عوام کے دل کی ترجمانی کر رہا تھا۔ پیپلزپارٹی کے مخألفین اور ناقدین کہتے تھے کہ پنجاب سے پیپلزپارٹی ختم ہو چکی ہے مگر صادق آباد سے پنڈی تک عوام نے جس پرجوش انداز میں ان
کا استقبال کیا اور ان کے کارواں میں شامل ہوگئے اس نے پیپلزپارٹی کے مخألفین کی ساری غلط فہمی اور خوشفہی کو کو ختم کردیا، حق بات یہ ہے چیئرمین پیپلزپارٹی نے عوامی مارچ کرکے ثابت کردیا ہے کہ
وہ اس وقت ملک کے سب سے بڑے لیڈر ہیں اور لاکھوں عوام نے ان کے
کارواں میں شریک ہوکر ان کی قائدانہ صلاحیت کا اظہار کیا ہے۔
یہ میں نہیں کہتا ملک کا میڈیا کہتا ہے پنجاب میں عوام نے صبح سے لیکر شام تک چیئرمین پیپلزپارٹی کے کارواں کا انتظار کیا بلکہ وہاں عید جیسا سماں پیدا کیا۔ کوئی مانے یا نہ مانیں مگر سچ ہے کہ بھٹو
کے جیالوں نے اپنے عزم ،ثابت قدمی، اور وفا کی جو تاریخ رقم کی
ہے کسی اور پارٹی کے کارکنوں کے بس کی بات نہیں ہے ،یہ ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ سالگِرہ کے کیک پر بھی لڑتے ہیں مگر موت سے نہیں
ڈرتے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی قیادت نے انہیں ڈرنا سکھایا ہی نہیں ہے حتاکہ موت سے بھی۔
جیالے 10 روز تک دن رات عوامی مارچ میں شریک رہے اور پیپلزپارٹی کے ایم این اے، ایم پی اے، وزرا، مرکزی، صوبائی، لیڈر بھی خیمہ بستیوں میں رہے ان کے چہروں پر تھکن کے کوئی آثار تک نہیں تھے ۔
سندھ کے بعد پنجاب میں جس انداز میں عوام نے چیئرمین پیپلزپارٹی جناب بلاول بھٹو پر عقیدت اور محبت نشاور کی اور بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان کے جیالوں نے اسلام آباد میں ڈیرہ جمالیا تو پھر عمران خان کا تو گھبرانا بنتا ہے، اگر خان صاحب جہلائے ہوئے انداز میں گالم گلوچ پر
اتر آئے تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے، ایک کارٹون نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے بارے توہین آمیز بات کی تو سمجھا جائے کہ ان
کا آجر کس کیفیت میں مبتلا ہیں،
اگر کسی نے فلم ردالی نہیں دیکھی تو وقت ملے تو ضرور دیکھیں سچی بات یہ ہے مجھے یہ سارے کارٹون
شاہی ردالیاں لگ رہی ہیں شاہ کے اقتدار کا روح پرواز ہونے سے قبل آہ و بقا کا سماں پیدا کرکے دہاڑی کمانے کے چکر میں ہیں۔ ایک کارٹون نے موجودہ پاکستان کی دوبارہ تعمیر کرنے والے شہید قاٸد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے بارے توہین آمیز زبان استعمال کی سچائی بات یہ مجھے اس اجرتی کارٹون پر کوئی افسوس نہیں ہوا اس حوالے سے اردو زبان کا محاورہ ہے کہاں راجہ بھوجن کہاں گنگو تیلی، حقیقت یہ ہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی کے عوامی مارچ نے اقتدار میں گھس بٹھائے ہوئے کٹھپتلی کے اقتدار کو چیلنج کیا تھا اور جمہوری سیاست کے امام
جناب آصف علی زرداری نے ایسے سیاسی حالات پیدا کردیئے ہیں ہیں جو سلیکٹڈ وزیراعظم کو جز بز کر رہے ہیں ۔



