خامہ اثر:ـ قاضی عبدالقدیر خاموش
پشاور کی امام بارگاہ میں ہونے والی دہشت گردی انتہائی دلخراش اور افسوس ناک واقعہ ہے،جس کی صرف مذمت کافی نہیں بلکہ لازم ہے کہ فوری طور پر پاکستان دشمن عناصر کے خلاف حتمی کارروائی کو یقینی بنایا جائے ۔ یہ واردات پاکستان کی حالیہ آزاد پالیسی ، پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ بحال ہونے اور پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے میں ناکام رہنے والے علاقائی اور عالمی سطح کے پاکستان دشمن عناصر کی کارروائی اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کا حصہ ہے، ملک دشمن عناصر پاکستان میں خلفشار اور امن خراب کرنا چاہتے ہیں۔اس دھماکے میں وہی لوگ ملوث ہیں جو پاکستان کی ترقی برداشت نہیں کرسکتے۔یہ عناصر کسی بھی علاقے، مسلک، مذہب، لسانی اکائی سے ہو سکتے ہیں ان کا نظریاتی تعلق اور پس منظر کوئی بھی ممکن ہے ، لیکن پاکستان اور پاکستانیوں کے نزدیک ایسے تمام عناصر کی بلا استثنیٰ اور بلا تمیز ایک ہی شناخت ہے کہ یہ صرف دہشت گردہیں،ان کاہر حال میں ، ہر قیمت پر اور ہر صورت میں قلع قمع ہونا چاہئے ۔اس میں دوسری رائے ممکن ہی نہیں کہ 9/11 کے بعد پاکستان کے امریکی اتحادی ہونے کے باوجوپاکستان پر بھارتی دہشت گردی مسلط کی گئی ،جس میں 2001کے بعد سے لمحہ موجود تک19ہزار سے زائد دہشت گردانہ حملے ہوئے، 83ہزار شہری شہید ہوئے اور 126 ارب امریکی ڈالرز سے زائد کا معاشی نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑا ۔اب ایک بار پھر غیر جانبداری کی سزاکے طور پر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا آزمودہ ہتھکنڈہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ کھلاڑی وہی پرانے ہیں ، لیکن ٹھکانہ دبل گیا ہے، پہلے کابل سے آپریٹ ہوتے تھے ، اب ایک دوسرا پڑوسی ملک ان کا مرکز ہے ۔ لیکن ماضی میں ہم انہی دہشت گردوں کے خلاف لڑ کر جیت چکے ہیں ، انہیں موت یا فرار پر مجبور کیا جا چکا ہے ۔ اب ایک بار پھر وہ وقت آگیا ہے کہ ہم ایک حتمی فیصلہ کریں اور پاکستان کے اندر اور باہر دشمنوں کے لئے سرنڈر یا موت کے سوا کوئی آپشن باقی نہ رہنے دیا جائے ۔
آئے کوئی مسیحا ، لاٹھی خدا کی بن کر کوئی تو ان کو روکے،کیا ظلم ڈھا رہے ہیں
مستی میں ڈوبے لوگو ،اُجڑے گھروں میں جاکر دیکھو کہ لوگ کیسے،لاشیں اٹھارہے ہیں
ماضی اور حال میں ایک بڑا فرق افغانستان میں طالبان حکومت کاہے۔جو ہماری ہی طرح داعش کی دہشت گردی کا شکار ہیں اور جن سے مل کر ہم دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارورائی کرسکتے ہیں،لیکن دوسرا فرق یہ ہے کہ دہشت گرد اب افغانستان اور ایران دووں کے پڑوسی ملک میںٹھکانے بنا چکے ہیں ۔ جو وہاں کی حکومت کی سرپرستی اور معاونت کے بغیر ممکن نہیں ۔ ان سے کس طرح سے نمٹا جائے؟یہ دیکھنا ہوگا۔مستند اطلاعات ہیں کہ بھارت نے بلوچستان کی تمام دہشت گرد تنظیموں کو متحد کرکے BRAS کے نام سے دہشت گردوں کا کمانڈ سینٹر قائم کردیا ہے ،داعش اور ٹی ٹی پی کے اس کمانڈ سنٹر سے اتحاد کی خبریں بھی موجود ہیں ۔ پاکستان کے ادارے دو سال قبل اقوام متحدہ میں پیش کردہ اپنے ایک ڈوزیئر میں یہ ثابت کر چکے ہیں کہ داعش خراسان نام کا ناسور بھارت کا پروردہ ہے ۔ ہم اس سب کے پس پردہ بھارتی را کے خفیہ ہاتھوں کو پوری طرح سے پہچانتے ہیں اور جانتے ہیں،لیکن یہ اس وقت تباہی مچاتی داعش ہے کیا؟ ا س کی اصلیت کی
2
گواہی گزشتہ روز سامنے آچکی ہے۔’’روس کی فارن انٹیلی جنس سروس (ایس وی آر) نے انکشاف کیاہےکہ امریکہ نےداعش کے دہشت گردوں کو تربیت دے کر روسی دستوں سے لڑنے کے لئے یوکرین بھیجا ہے،تاہم مقابلے میں اکثر جنگجو مار ے گئے ہیں، جبکہ سی آئی اے مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک میں نئے دستے بنارہی ہے۔روسی خبر رساں ادارے کے مطابق ایس وی آر کا کہنا ہے کہ ’یوکرین میں لڑنے والے داعش کے درجنوں دہشت گرد روس یا دیگر سی آئی ایس (آزاد ریاستوں کی کامن ویلتھ) کے شہری ہیں جنہیں امریکہ نے 2021 کے اواخر میں شامی فورسز کے کرد ونگ کے غیر قانونی مسلح گروہ کے قیدخانوں سے رہا کروایا تھا ۔یہاں سے ان سب کوشام میں ہی امریکی اڈے ’’التف‘‘ پر رکھا گیا اور انہیں بعد ازاں ’’ڈونباس‘‘کے علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے خصوصی تربیت دی گئی ۔ انہیں اینٹی ٹینک، اینٹی ایئر کرافٹ میزائل سسٹم، ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم اور ڈرون حملوں سمیت جدید ہتھیار استعمال کرنا سکھایا گیا۔ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو پھر شمالی عراق کے فوجی اڈے لے جایا گیا جہاں سے انہیں یوکرینی علاقے میں منتقل کر دیا گیا۔ایس آر وی کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روس کے ’خصوصی فوجی آپریشن‘ کے آغاز سے اب تک ’اکثر جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں ۔ تاہم سی آئی اے اور امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ نے مشرق وسطیٰ اورافریقی ممالک میں داعش کے نئے دستے بناناشروع کردئیے ہیں۔ انہیں پولینڈ کے راستے یوکرین بھیجنے کی تیاری ہو رہی ہے تاکہ وہ دہشت گردی کی کارروائیاں کر سکیں۔اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے حالیہ ہفتوں کے دوران پولینڈ کے علاقے میں ہتھیاروں اور جنگجوؤں کا مرکز قائم کیا ہے جو مشرق وسطیٰ سمیت دیگر ممالک سے منتقل کیے جا رہے ہیں۔ایک اوررپورٹ میں انٹرفیکس نے ایس وی آر کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور بعض نامعلوم نیٹو ممالک کے خفیہ ادارے یوکرینی حکام کوروسی مسلح دستوں کے منصوبوں اور نقل و حرکت کے منصوبے منتقل کر رہے ہیں۔‘‘سوال یہ ہے کہ داعش کے نام پر ایک گروہ کو یوکرین میں استعمال کیا جا سکتا ہے تو بھارت کے ہاتھوں تربیت یافتہ داعش خراسان کو امریکی پاکستان کے خلاف استعمال کیوں استعمال نہیں کر سکتے؟
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
اس سب کے باوجود اس دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ، پاکستانی اہل تشیع پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ہمارے بھائی ہیں ، ان پر ان کی عبادت گاہ میں ہونے والا حملہ سفاک طرز عمل کی بدترین مثال ہے ۔ لیکن ہم اپنے ان بھائیوں سے بھی گزارش کرنا چاہیں گے کہ یہ کب تک کسی اور کی پراکسی جنگوں کا ایندھن بنتے رہیں گے ۔ ایک موت ، ایک قتل اور ایک انسان کے مارے جانےکا دکھ سیاست کے بیوپاری نہیں سمجھ سکتے ، یہ ان مائوں سے پوچھیں جن کے جگر گوشے منوں مٹی تلے جاسوئے ، ممتا شیعہ سنی نہیں ہوتی ، ایک سا دکھ سہتی ہے، ان بہنوں سے پوچھیں جن کے بھائی نہ رہے اور جن سہاگنوں کے سر کا سایہ چھن گیایا جو بچے یتیم ہوگئے ، ان سے پوچھیں کیا بیتتی ہے جب کسی گھر سے جنازہ اٹھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بس جنازہ ہی تو اٹھ جاتا ہے پورے گھر کا ۔ کیا وقت نہیں آگیا کہ سوچا جائے کہ کیوں بے گناہوں کا خون بہتا ہے ؟ کیوں یہ لاشیں گرتی ہیں ؟ اور کب یہ سلسلہ رکے گا ۔کیوں نہ پڑوسیوں سے ہی کہا جائے کہ وہ دوسرے ممالک میں مداخلت اور
3
خونریزی بند کرے تاکہ کسی بدبخت دہشت گرد کو جواز نہ مل سکے۔ بہر حال ہم بلا کسی اگر ، مگر چونکہ ، چنانچہ کے پشاور سمیت ہر جگہ ، ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور دہشت گردی سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں ۔ وہ پشاور کی امام بارگاہ میں ہو ، شام ، عراق ، افغانستان یا پاکستان کی کسی مسجد میں ، دہشت گرد جو بھی ہو ، قابل نفرت ہے ۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں



