خامہ اثر : قاضی عبدالقدیر خاموش
بھارت میں بی جے پی کی جانب سے مسلم کش فسادات کے لئے زمین ہموار کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ، کرناٹک میں انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل کے غنڈوں نے شیوا موگا میں مسلمانوں کے گھروں پر پتھراؤ کیا۔، گلی گلی مارچ کیا۔،مسلمانوں کی دکانوں پر حملے کئے اور متعدد گاڑیاں نذر آتش کر دیں۔ کرناٹک کے وزیر نے مسلمانوں کو ’’غنڈہ‘‘ قرار دے دیا ہے۔خطرہ ہے کہ کرناٹکا دہلی اوران تمام علاقوں میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں مسلم کش فسادات کسی بھی لمحے شروع ہو سکتے ہیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ کہ یہ محض چند شر پسند نہیں بلکہ بی جے پی بطور حکومت مسلمانوں کے خلاف بروئے کار ہے اور اب وزیر اعظم مودی اپنا گجرات کی وزارت علیا کے دور کا مسلم کشی کا تجربہ پورے ملک میں دہراناچاہتا ہے،جس کی ابتداءکرناٹک سے کی جا رہی ہے۔مسلم بھارتی صحافیوں کی جانب سے بجا طور پر امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ بھارتی مسلمانوں کے جان ومال کواس وقت شدید خطرات لاحق ہیں اور اگر کوئی سانحہ ہوتا ہے جو نوشتہ دیوار ہے تو اس کی ذمہ داری مودی کے ساتھ ساتھ اسےہلا شیری دینے والے امریکہ ہی نہیں بلکہ سعودی عرب پربھی عائد ہوگی جو مسلم دشمنی کی وارداتوں کے باوجود مودی کی پشت پر کھڑاہے،اور ان مظالم پر بات تک کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔انسانیت شرم سے سر جھکالیتی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کا جان ومال ہی نہیں بلکہ اسلامی اقدار اور اسلامی شعائر تک کو خطرات لاحق ہیں ، ہندو توا کے پجاری سر عام جتھوں کی شکل میں مسلمانوں کو ختم کرنے کے نعرے بلند کرتے ہیں اور گزشتہ 3ماہ سے مسلمانوں کے قتل عام کے لئے جلسے اور حلف برداریاں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اس پر دنیا بھر کے انسانی حقوق کےا دارے احتجاج کر چکے ہیں ، یہاں تک کہ او آئی سی بھی ،کویت کی پارلیمنٹ میں بل پیش کیا جا چکا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کے خلاف انسایت سوز اقدامات کے بدلے میں بی جے پی کے لیڈروں کے کویت میں داخلہ پر پابندی عائد کی جائے ۔ اس سب المناک ، اذیت ناک اور شرمناک صورتحال میں اگر کوئی ملک مسلم کش مودی کی پیٹھ تھپکتا دکھائی دے رہا ہے تو وہ کوئی اور نہیں مسلمانوں کی قیادت اور حرمین کی خدمت پر اصرار کرنے والا سعودی عرب ہے، جسے ماضی میں مسلمانوں کے باپ کی حیثیت حاصل تھی ، وہی سعودی عرب کہ جس کے بادشاہ شاہ فیصلؒ نے 1969میں ایران سمیت کئی ممالک کی کھلی حمائت کے باوجود بھارت کو یہ کہ کر او آئی سی میں مبصر کی حیثیت سے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا کہ ’’ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوجاتا ، بھارت سے کوئی تعلق نہیں رکھا جاسکتا‘‘ میزبان مراکش کے بادشاہ اور شاہ فیصل کے ذاتی دوست شاہ حسن بن محمد الثانی نے بھارت کی حمائت کرنا چاہی تو شاہ فیصل اٹھ کھڑے ہوئےاور تاریخی جملہ کہا کہ’’ اگر بھارتی وفد یہاں ہوگا تو میں جارہا ہوں ۔‘‘ اس سعودی عرب کے آرمی چیف نے ایک ایسے وقت میں دہلی کا دورہ کیا کہ جب پوری دنیا دہلی سرکار پر تھوک رہی ہے ، بھارت کی سر زمیں پر خون مسلم کی ارزانی ہے۔ صرف دورہ ہی نہیں کیا بلکہ عالمی میڈیا کو جاری کرنے کے لئے تصویر بھی وہ منتخب کی گئی جس کے پس منظر میں پلٹن گرائونڈ ڈھاکہ کی منظر کشی کی گئی ہے۔ سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ ایک اسلامی ملک کا ایک حربی کافر ملک کے ساتھ عسکری معاہدہ اور تعاون شریعت محمدیہ کی رو سے جائز بھی ہے یا نہیں ؟ حربی کافر بھی وہ جو ایک مسلم ملک پاکستان پر دہشت گردی کی جنگ مسلط کئے ہوئے ہے ، جس
2
نے ایک مسلم علاقے کشمیر کو جہنم میں بدل رکھا ہے اور جو اپنے مسلمان شہریوں کو زندہ رہنے کا حق دینے کو بھی تیار نہیں ، روز خون کی ندیاں بہتی ہیں ۔ علمائے کرام ، مفتیان دین متین ،اور ارباب دانش کیااس پر روشنی ڈالنا پسند کریں گے؟یہ ان کا فرض منصبی ہے ۔
معاملہ صرف سعودی آرمی چیف کے اس دورے کا نہیں ہے جسے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے ، کیونکہ کسی بھی سعودی آرمی چیف کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے۔ دہلی ریاض محبت کا آغاز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سریر آرائے مسند نشین ہونے کے بعد ہوچکا تھا ، پہلا ٹھوس قدم اکتوبر 2019 میں وزیر اعظم نریندر مودی کا سعودی عرب کا دورہ تھا جس کے دوران ایک ’سٹریٹجک کوآپریشن کونسل‘ بھی قائم کی گئی ، سوال تو بنتا ہے کہ کس کے خلاف بھارت کی دشمنی تو پاکستان سے ہے،سعودی عرب کا دشمن ایران تو بھارت کا اتحادی ہے ۔محبتیں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ کورونا وبا کے دوران جب پاکستان سے سعودی عرب آمد ورفت دوبرس تک پابندیوں کی زدمیں رہی عمرہ تک کی اجازت نہ تھی،بھارتی اور سعودی عرب کے فوجی افسران ایک دوسرے کے ممالک کے اداروں میں تربیت حاصل کر تے رہے ہیں۔ گزشتہ 3برسوں میں بھارت اور سعودی عرب کے درمیان دفاع کے حوالے سے بہت کچھ ہوا ہے،انٹیلیجنس معلومات اور سائبر سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کی معلومات کا تبادلہ اسی کے تحت کئی کشمیری مجاہدین کی انفارمیشن سعودیوں نے بھارت کو دی جو بے چارے سعودی عرب کو اپنا دوست سمھ کر وہاں رہ رہے تھے ،جیسے ہی بھارت واپس پہنچے سعودی معلومات کی روشنی میں پکڑے گئے اور مارے گئے ،کئی ایک کو ریاض سے گرفتار کرکے بھی بھارت کے حوالہ کیا گیا ۔سفارتی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت نے 5اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹانے کا اعلان کیا تو سعودی عرب اس کے ساتھ کھڑا تھا۔ بھارت کے تعلقات نہ صرف سعودی عرب بلکہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی کافی بدل چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت متحدہ عرب امارات بھی مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کو جائز تسلیم کرتے ہوئے وہاں کئی پروجیکٹس میں پیسہ لگا رہا ہے۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کا یہ طنز اپنے اندر بہت کچھ لئے ہوئے ہے کہ ’’ ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ ایسا تعلق ہے جیسے چولی دامن کا ساتھ، تاہم اب پاکستان کے بجائے سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم نے پاکستان سے سعودی عرب کو چھین لیا ہے ۔‘‘ بقول آغا حشر :
طعنہ دیتے ہیں بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں
ہندوستان ٹائمز خود سعودیوں کو رسوا کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ’’ تعلقات میں یہ تبدیلی بھارت کی ضرورت نہیں تھی ، بلکہ اس کی شروعات سعودی عرب کی جانب سے ہوئی ہے، جہاں کبھی پاکستان کی فوج کی ایک پوری بریگیڈ سعودی عرب میں تعینات ہوا کرتی تھی۔محمد بن سلمان نے بہت سی تبدیلیاں کرنا شروع کی ہیں، اب پاکستان کی بریگیڈ کو ہٹا دیا گیا ہے،وہ بھارت کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسے کسی اسلامی ملک پر بھروسہ نہیں۔ ‘‘سوال یہ ہے کہ پاکستانی بریگیڈ تو تحفظ حرمین کے لئے تھی تو کیا اب حرمین کا تحفظ بھی رام لعل اور دھوتی پرشاد کریں گے ؟
بھارتی میڈیا ڈنکے کی چوٹ کہ رہا ہے کہ بھارت اور سعودی عرب کا ایک دوسرے پر انحصار بہت بڑھ گیا ہے، یہی وجہ ہےکہ کبھی پاکستان کی
3
مکمل حمایت کرنے والا سعودی عرب اب بھارت کے قریب ہے۔بھارت چاہتا ہے کہ شدت پسندی پرایک بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائے اس سلسلہ میں سعودی عرب اور بھارت میں کافی تعاون ہو رہا ہے۔ بھارت نے جب جب کسی مطلوبہ شخص کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے سعودی عرب نے انکار نہیں کیا۔ان سب حالات و معاملات کے تناظرمیں تجزیہ کیا جائے تو حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ بھارت اور سعودی عرب کے تجارتی تعلقات ایک طرف اور بھارت کی ایک ارب 30 کروڑ کی مارکیٹ کی کشش کے ساتھ ایک اور کشش سعودی شاہی خاندان کی نئی نسل کے لئےہے وہ ہے رنگین و پرکشش بھارتی فلم انڈسٹری، سعودی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انھیں جدت کے ساتھ دنیا کے قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے تو انھیں فن و ثقافت اور شوبز کی جانب خصوصی توجہ دینی ہوگی اور اس کام کے لئےبھارتی بالی وڈ انڈسٹری سے بہتر کیا ہوگا،جبکہ سعودی شہری پہلے سے ہی انڈین فلموں اور فلمی ستاروں کے دیوانے ہیں، یہ معاملہ اب کوئی ایسا راز بھی نہیں رہا ، بھارتی اد اکاروں کو سعودی عرب بلا کر جشن منانا اورمحمد بن سلمان کاہندوانہ انداز میں پرنام کرناسب کچھ عیاں کر رہا ہے، سعودیوں کی اس کمزوری سےمودی بخوبی واقف ہی نہیں بلکہ وہ اپنی فلم انڈسٹری کو کس طرح استعمال کرتے ہوئے سعودیوں سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کروارہا ہے تاکہ اپنی ڈوبتی معیشت کو سہارا دے سکے۔
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے
خادم حرمین سے خادم ہردوار تک



