اثر خامہ : قاضی عبدالقدیر خاموش
افریقہ کے ایک علاقے سے آنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاں بھوک اس قدر زیادہ ہے کہ بستیوں کی بستیاں صرف ایک وقت کی روٹی کی خاطر قادیانی جماعت کے بیعت فارم پر دستخط کرنے کو تیار ہوجاتی ہیں ، اگلے وقت کی روٹی کے لئے مسیحی این جی اوز کا تر نوالہ بننے کو تیار ہیں ۔ ایک درد مند نے سوال پوچھاکہ ایسے میں ہم کیا کریں ؟جواب تو یہ تھا کہ امت کے متمول حضرات اپنے مال ودولت کے ساتھ دوڑ لگاتے اورلوگوں کا ایمان بچالاتے ،لیکن۔۔انہیں فتویٰ بھیج دیا گیاکہ’’ مجبوری میں رخصت ہے ۔‘‘
وائے ناکامی کہ متاع کاروان جاتا رہا ۔
دل دہل دہل جاتاہے،عقل گنگ ہو جاتی ہے کہ حالات تو یہاں بھی ، بلکہ ہر جگہ اسی جانب سرک رہے ہیں ،اگر ایسی نوبت یہاں آگئی تو ؟؟اجتماعی طور پر نہ سہی انفرادری طور پر تو اب بھی ہمارے ہاں بھوک اور افلاس کا عفریت اپنے پنجے گاڑ رہا ہے، تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 54فیصد پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور یہ شرح تیزی کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک جانب بچے بھوک سے بلکتے ہوں اور دوسری جانب ایمان کے بدلے روٹی کی دعوت،کوئی آخر کب تک صبر کرے گا ؟ یہی وجہ ہے کہ شریعت محمدیہ ﷺ نے بھوکے لاچار کو حرام کھانے کی بھی اجازت دے ڈالی ہے ۔المیہ یہ ہے کہ معاملہ اب افریقی کہانیوں تک موقوف نہیں رہا بلکہ وطن عزیز میں بھی حالات اسی نہج پر تیزی کے ساتھ جا رہے ہیں کہ اگر سدباب نہ کیا گیاتو خدانخواستہ۔۔۔ خدا نخواستہ ………. عالمی بینک کی سالانہ رپورٹ انتہائی خطرناک ہے ،بتا رہی ہے کہ پاکستان اور اس جیسے ممالک میں آئندہ 3ماہ خطرناک ہیں، 50فیصد سے زیادہ آبادی کے لئے اپنا گھر چلانا مشکل ہوجائے گا ،اور80فیصد چھوٹے کاروبارناممکن ہوجائیں گے ۔ عالمی بینک نے 3ماہ شائد بہت احتیاط سے کہا ہے ورنہ ملک تو بڑی تیزی کے ساتھ عدم استحکام کی جانب بڑ ھ رہا ہے۔ عوام مہنگائی کے ہاتھوں دو وقت کی روٹی کے لئے بے حال ہیں تو حکومت اور اپوزیشن دونوں عوام کی پرواہ کئے بغیر کرسی کے لئے بر سر پیکار ہیں ،وزرا ء کی بے حسی کی انتہا یہ کہ انہیں مہنگائی اور بے روزگاری کے ستائے عوام کا مذاق اڑانے اور مہنگائی کے حوالہ سے ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دینے سے فرصت نہیں ۔عام آدمی کے لئے زندگی جتنی مشکل ہو چکی ہے، اس کا اندازہ وزراء کی سطح پر نہیں لگایا جا سکتا کہ جن کے تمام اخراجات قومی خزانے سے پورے ہوتے ہیں ، نہ وہ اشرافیہ اس مہنگائی کی اذیت کا اندازہ کر سکتی ہے ، جن کے کتے بھی درآمدی خوراک پر پلتے ہیں اور مہنگائی بڑھنے کی صورت ان کے بینک بیلنس میں اضافہ ہوتا ہے ،کمی نہیں ۔ مہنگائی ،اقتصادی ناہمواری ،بھوک اور افلاس نے معاشرتی بنیادوں کو یوں متزلزل کردیا ہے کہ اب تہذیب وتمدن ہی نہیں ایمان اور عقیدہ تک خطرے سے دوچار ہو نے کا خدشہ ہے ۔پڑھے لکھے ہنر مند ارباب دانش بھی سوال کناں ہیں کہ :
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لئے سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو
مرے وطن عزیز پر افلاس کے وہ سائے دراز ہوتے دیکھے جا رہے ہیں کہ جن کے پہلے مرحلہ کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ :
غربت نے میرے بچوں کو تہذیب سکھا دی سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے
لیکن غربت کے ساتھ جب آگہی کا عذاب اترتا ہے تو یہ بے چارگی بغاوت میں تبدیل ہوتی ہے، جو امن کو کھا جاتی ہے۔ کراچی سے پشاور اور بلوچستان سے وزیرستا ن تک کے حالات کے طیور کوئی اچھے نہیں ہیں ، بھوک بغاوت میں بدل رہی ہے ، سوال یہ ہے کہ ارباب سیاست کو چھوڑیے کہ یہ سب انہی کی دین ہے، مگر میرے دیس کہ ارباب علم ودانش کہاں ہیں ؟وہ غور کیوں نہیں کرتے کہ رب نے ایمان سے پہلے امن اور شکم سیری کو نعمت قرار دیا ہے ، کیوں نہیں پڑھتے وہ سورۃ قریش کی یہ آیات کہ ’’ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ(۳)الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْ عٍ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠۔‘‘ کہ’’ پس وہ عبادت کریں اس گھر کے رب کی ،جس نے انہیں بھوک میں کھلایااور خوف سے امن دیا ‘‘پہلے ایمان نہیں پہلے امن اور شکم سیری کی بات کرکے رب کبریا نے ہمیں ترتیب بتادی ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ سورہ قریش کی اس آئت میں بھوک کی حالت میں کھانا دئیے جانے اور خوف کی حالت میں امن دئیے جانے کا ذکر اس لئے ہے کہ بھوک اور خوف دو ایسی چیزیں ہیں جو معاشرے میں گناہوں اور بدکاریوں کی تعداد میں اضافہ کرنے ، جرائم کی شرح بڑھانے ،بے امنی اور بد سکونی پھیلانے میں انتہائی اہم اور مرکزی کردار ادا کرتی ہیں جبکہ بھوک کا ختم ہو نا اور خوف کا دور ہو جانا معاشرے میں پاکیزہ ماحول اور امن و امان کی فضا قائم کرنے میں بہت بڑا معاون ہے ۔ یوں سمجھ لیجئے کہ جہاں لوگوں کو سہولیات دی جاتی ہیں اور ان کی ضروریّاتِ زندگی پورا کرنے کے خاطر خواہ انتظامات ہوتے ہیں وہاں گناہوں اور بدکاریوں کی شرح کم ہو گی اور جہاں امن و امان قائم ہے وہاں جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہو گی اور لوگ پُر سکون زندگی بسر کریں گے۔ عالمی سطح پر لوگوں کے حالات کا جائزہ لیا جائے تویہ چیز واضح ہوگی کہ ان میں زنا، چوری، ڈاکے،لوٹ مار،چھینا جھپٹی،قتل و غارت گری،بے امنی،بد سکونی،بے چینی اور ان کے علاوہ طرح طرح کے جرموں ، گناہوں اور خوفوں کے عام ہونے کا بنیادی سبب بھوک ختم کرنے کے قابلِ قدر ذرائع کا نہ ہونا ،زندگی گزارنے کے لئے بنیادی سہولیات سے محروم ہونا اور امن و امان قائم کرنے کے لئے ضروری انتظامات کا نہ ہوناہے اور دینِ اسلام کے احکامات اور تعلیمات پر نظر کی جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح نظر آئے گی لوگوں کی بھوک کو ختم کرنا، انہیں سہولیات فراہم کرنا ،پاکیزہ معاشرے کا قیام اور امن قائم کرنا اسلام کی بنیادی ترجیحات اور خصوصیات میں سے ہے،کیونکہ خالق ارض وسما جانتا ہے کہ :
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی
میرے دیس کے حالات کو دیکھا جائے تو سیاست ناکام ہو چکی ، وہ دینی سیاست ہو یا لبرل سیاست ،حالات ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں اور بعض ارباب دانش کے بقول اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حالات کی ڈور دانستہ اس حد تک الجھائی جا رہی ہے کہ بھوک اور بدامنی کی کدال سے کھودی گئی زمین پر الحاد کی کھیتی کاشت کی جا سکے۔میں سمجھتا ہوں کہ علماء پرلازم آگیا ہے کہ وہ ایک ہاتھ میں روٹی اور امن اور
دوسرے ہاتھ میں ایمان کی دعوت لے کر اٹھیں ، اورخلق خدا کو خدا کے پیغام الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْ عٍ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠۔‘‘کی
عملی تفسیر دکھادیں ،اب درس گاہوں سے نکل کر عوام میں جانے اور ان کے دکھ درد میں کام آنے کا وقت ہے ، اگر اب بھی ہم اپنے خول سے نہ نکلے اور خدمت اور امن کا میدان خالی چھوڑے رکھا تو کل بہت خوفناک ہوگا۔ یہ بل گیٹ جیسے گدھ جب عالمی عالمی این جی اوز کی آڑ میں روٹی کے ساتھ آئیں گی تو لقمے کے ساتھ اپنے عقائد بھی دیں گی ، پھر آپ کا واویلا شرپسندی اور بد امنی قرار پائے گا ۔
ہمیں ہر وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے پڑے ہیں ڈھیر سارے کام اور مہلت ذرا سی ہے
دنیا اس وقت مجموعی طور پر افلاس کے شکنجے میں ہے اور سرمایہ دارانہ نظام عفریت دانستہ طور پر دنیا کے تمام وسائل پر قابض ہوکر خلق خدا کو غلام بنانے کے درپئے ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت انسانیت کو جس غلامی کے چیلنج کا سامنا ہے اس کا علاج صرف اسلام کے پاس ہے ، جو رہبانیت نہیں دین کے طور پر دنیا کو امن اور خوشحالی کا پیغام دیتا ہے ، جو سرمائے کو بروئے کار لانے اور دنیا میں امن وخوشحالی سے روشناس کروانے کی ترتیب بتاتاہے ۔حقوق کی چھینا جھپٹی کے بجائے ایثار اور اپنے اپنے فرائض کو پورا کرنے کا اصل دیتا ہے ،یہ دین اسلام کی تعلیمات ہی ہیں جواپنے اندر یہ صلاحیت رکھتی ہیں کہ معاشرے کو بھوک سے خوشحالی اور بد امنی سے امن کی جانب لے کر آسکیں ، اور یہ ذمہ داری بنیادی طور پر علماء کی ہے ، سیاست نے تقسیم کردیا ، سرمایہ داری نے سب کچھ چھین کر دنیا کو مفلسی کی راہ پر ڈال دیا ۔ اب اہل ایمان کا فرض ہے کہ قدم بڑھائیں ، دنیا کو سورۃ قریش کی تفسیر پڑھانے کے بجائے عملا کر کے دکھا ئیں ۔ یقین کریں نہ صرف یہ کہ مسلمان خوشحال ہوجائیں گے ، بلکہ دنیا بھر کی انسانیت اسلام کی پناہ میں آنے کو بے تاب ہوگی۔ اگر غفلت برتی اور بیدار ہونے کے بجائے خواب غفلت میں پڑے رہے تو پھر جو ہوگا ، اس کا تصور کی کیا جا سکتا ہے ۔
اے علمائے ملت زمانہ بدل گیا پر مثل زلف یار تمہارا نہ بل گیا
پیٹو گے کب تلک سررہ تم لکیرکو بجلی کی طرح سانپ تڑپ کرنکل گیا
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی



