خامہ اثر : قاضی عبدالقدیر خاموش
ایک بار پھر جہالت دین کے نام پر کلنک کا ٹیکہ بن کر سامنے آگئی ، ایک بار پر امت رحمۃ اللعالمین ﷺ نے اپنے آقا و مولا نبی رحمت ﷺ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ، بظاہر یہ ہجوم توہین مقدسات کے نام پر بپھرا ہوا تھا لیکن لا علم تھا کہ خود ہی توہین انسانیت سے لے کر توہین تعلیمات رسولﷺ تک کا مرتکب ہوا جاتا تھا ۔ایک ذہنی معذو ر جسے دین اسلام کے ہر قانون اور ضابطے سے استثنیٰ حاصل ہے ، جس کومرفوع القلم قرار دے کر شریعت اسلامی ہر ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دے رہی ہے ، جہالت کا شکار مقامی ہجوم نے ایک ذہنی معذور شخص کو توہین مقدسات کا الزام لگا کر تشدد کرکے قتل کردیا ۔ جو کہ انتہائی شرمناک اور اذیت ناک واقعہ ہے ، جس کی صرف مذمت کرنا کافی نہیں بلکہ اس واقعہ میں ملوث ذمہ داران کو نشان عبرت بنا دینا لازم ہے ۔ مقتول کا سال ہا سال سے ذہنی مریض ہونا ثابت ہے ، لیکن اگر وہ بقائمی ہوش وہواس اور مجرم بھی ہوتا تو کسی قیمت پر کسی کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ خود ہی جج ، خود ہی مدعی، خود منصف بن جائے اور جیتے جاگتے انسان کو قتل کردیا جائے۔ نظام اسلام کسی قیمت پر ایسے بہیمانہ طرز عمل کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی کوئی عالم دین ایسی کسی واردات میں کبھی ملوث پایا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیالکوٹ میں ہونے والا ایسا ہی واقعہ پاکستان کی ایکسپورٹ کے خلاف ایک سازش تھی اور میاں چنوں کا یہ واقعہ بھی ایسی ہی ایک سازش ہے ، جب بھارت انسانی حقوق کے معاملہ میں پوری دنیا میں بدنامیاں سمیٹ رہا ہے ، عین اسی وقت پاکستان میں واردات کرنا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہو سکتا ۔ یہ واقعات اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ ہمارے دشمن کو ایسے واقعات تقویت دیتے ہیں۔
کیسا عاشق ہے ترے ﷺنام پہ قرباں ہے مگر تیری ﷺہر بات سے انجان ہوا پھرتا ہے
پہلے سیالکوٹ اور اب میاںچنوں میں پیش آمدہ دلخراش اور انسانیت سوز واقعہ نے اہل پاکستان کے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں یقین نہیں آتا کہ انسانیت سے عاری یہ لوگ ہمارے ہی معاشرہ کا حصہ ہیں، سب سے زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ یہ شرمناک حرکت اسلام کے نام پر کی گئی جو سراسر سلامتی، امن اور محبت کا دین ہے اور بے رحم ہجوم نے سفاکیت کا یہ مظاہرہ کرنے کے لئے نبی رحمتﷺ، حضرت محمدﷺ کی ذات مقدس کی ناموس کا سہارا بھی لیا حالانکہ وہ تو صرف مسلمانوں نہیں، تمام انسانوں بلکہ پوری کائنات کے تمام جن و انس اور دیگر مخلوقات کے لیے رحمت وشفقت کا پیغام لے کر آئے اور خود خالق ارض و سما نے انہیں ’’رحمۃ اللعالمین‘‘ کے ابدی لقب سے نوازا۔ معلوم نہیں ان جنونیوں کی انسانیت کہاں دفن ہو گئی تھی جب انہوں نے کتاب ہدائت کی توہین کا الزام لگا کر ایک بے گناہ کو جان سے مار ڈالا ۔ دکھ کا مقام یہ بھی ہے کہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں، سیالکوٹ میں سری لنکن مینجیر سےچند برس قبل رمضان المبارک میں دو حافظ قرآن بھائیوں کو ذاتی رنجش کا بدلہ لینے کے لئےبے رحمی سے قتل کر دیا گیا، قبل ازیں ایک شخص پر قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کا الزام عائد کر کے گوجرانوالہ میں ایک مشتعل ہجوم نے بے دردی سے موت کی نیند سلا دیا تھا، پچھلے سال خوشاب میں ایک بنک کے گارڈ نے ملازمت سے فارغ کئے جانے پر بنک سے نکل کر شور مچا دیا کہ مینیجر نے اسے نماز پڑھنے سے روکا ہے جس پر وہاں ہجوم جمع ہو گیا اور بنک کو آگ لگا دی، جس سے الزام کا نشانہ بننے والا مینجر بھی جاں بحق ہو گیا، اسی طرح کے کئی دیگر واقعات بھی ماضی قریب میں پیش آ چکے ہیں۔ حد تو یہ ایسے واقعات میں شر انگیزی کرنے والوں کو دیکھا جائے تو ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ملے گی جنہیں شائد کلمہ بھی درست پڑھنا نہ آتا ہو ۔میاں چنوں واقعہ کے مرکزی ملزموں میں ایک ایسا بھی نکلا جس پر پہلے ہی منشیات فروشی کے مقدمات ہیں ۔
شب کو شیطان بھی مانگے ہے پناہیں جس سے صبح وہ صاحب ایمان ہوا پھرتا ہے
صد شکر کہ سیالکوٹ سے لے کر میاں چنوں تک تمام تر بلوہ گری میں کسی ایک بھی مسلک کا کوئی ایک بھی عالم دین شریک نہیں پایا گیا ،ممکن بھی کیسے ہے کہ جس نے دین متین کا مطالعہ کیا ہو، جو رحمۃ اللعالمین ﷺ کے فرمان کاعلم رکھتا ہو وہ انسانیت دشمنی پر اتر آئے ، اہل دین کا مزاج تو یہ کہ اگر کسی نے جرم کیا بھی ہے تو اسے خود سزا دینے کا کسی کو حق نہیں ، لازم ہے کہ قانون کے حوالہ کیا جائے ۔ اگر حکومت دور حاضر کی طرح دینی معاملات میں مستعد نہ ہو تو بھی کسی کو اسے خود سزا دینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ۔ہم میں سےاکثر نے امام ابن تیمیہؒ کی کتاب الصارم السملول تو ضرور پڑھی ہوگی یا سن رکھا ہوگا جس میں امامؒ نے توہین رسالت کی سزا کو ہمیشہ کے لیے ثابت کیا ہے لیکن اس کتاب کی تاریخ کے پیچھے بالفعل ایک توہین رسالت پنہاں ہے جو کے ایک عیسائی شخص سے ہوئی اور وہ عیسائی شخص ایک اعلی افسر کا کاتب تھا اور دمشق میں ہی رہتا تھا بازاروں میں چلتا پھرتا تھا اور سب اسے جانتے تھے لیکن اہل شہر میں سے کسی نے بھی اس کو قتل کرنے کی کوشش نہیں کی ، احتجاج کیا ، امامؒ کو خود بھی کوڑے پڑے کہ شہر میں فساد پھیلا رہے ہو ۔ لوگوں کا اس ملزم سے آمنے سامنے مقابلہ ہوا دونوں اطراف سے پتھر چلے ۔لیکن کبھی بھی کسی نے قانون ہاتھ میں نہیں لیا معاشرے میں شور بپا کئے رکھا کہ اہل سلطنت ملزم کوسزا دیں یہاں تک کے وہ مجبور ہوئے کہ اس سے اسلام قبول کروائیں وگرنہ اس کی سزا موت ہی بنتی تھی یہ ایک اسلامی معاشرے کا نظم ہے اس معاشرے کا جو ہم سے زیادہ اسلامی اور اچھے لوگوں پر مشتمل تھا اور جہاد پر قائم بھی ،لیکن کسی نے قانون ہاتھ میں نہیں لیا ،حالانکہ توہین سخت درجے کی تھی آخر ہم کب سیکھیں گئے ! اہل اقتدار کو مجبور کرنا کہ وہ قانون نافذ کریں نہ یہ ہے ہم خود قانوں ہاتھ میں لے کر اس معاملے کو اتنا نازک بنا دیں کہ معاملہ دوسری طرف چلا جائے۔ واللہ بہت بڑے بڑے دھوکے ہورہے ہیں اور دینے والوں کی نظر میں انسانی جان کی کوئی قدروقیمت نہیں ۔ ایک مخبوط الحواس شخص سے گستاخی کروانا کون سی بڑی بات ہے ہوش کے ناخن لیجیے ، اسلام بدنام ہورہا ہے اور ساتھ ہی توہین رسالت کا قانون خطرے میں پڑتا جارہا ہے۔سوال یہ ہے کہ علما ء قتل وغارت کے حامی نہیں ، معاشرہ رواداری کو عزیز جانتا ہے تو پھر یہ صورتحال کیوں کہ بقول شاعر
جانے کب کون کسے مار دے ’’کافر ‘‘کہہ کے شہر کا شہر ’’مسلمان‘‘ ہوا پھرتا ہے
درست ہے کہ بہت سارے لوگ توہینِ رسالت کے متعلق اسلامی قانون کے اصولوں بارے میں غلط فہمی کا شکار ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف دینی تعلیمات کے متعلق غلط فہمی کا نہیں۔ اسباب اور بھی ہیں۔ مثلا جب توہین رسالت کے مجرم قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہوں ، حکومتیں انہیں پروٹو کول دے کر بیرون ملک رخصت کرنے لگیں ، اور وہ آسیہ مسیح کی طرح دنیا بھر میں توہین رسالت کا شتہار بن کر پھریں، اور ہمارا چیف جسٹس پوری دنیا میں اس کریڈٹ لیتا پھرے تو کس کس کو سمجھاجاسکتا ہے کہ قانون اور شریعت کی منشاء کیا ہے ۔،جب ساہیوال میں سی ٹی ڈی والے کسی بے کس فیملی کا پیچھا کرکے اسے بھون دیتے ہیں، جب اسلام آباد میں پولیس ایک نوجوان کو بے گناہ مار دیتی ہے، جب قانون کے ہوتے ہوئے بھی کسی ایک بھی بندے کو توہین رسالت کے جرم میں سزا پر عمل نہ کیا جائے تو جذبات کا مشتعل ہونے کو کون اور کس طاقت سے روک سکتا ہے ؟ اور سب سے شرمناک یہ کہ جب اس طرح کے ہر واقعہ پر ایک خصوص وفاقی وزیر دینی تعلیمات اور نصاب تعلیم میں دینی تعلیم کو ذمہ دار ٹھہرائے ،اور طعنے بازی کرے تو ایسے کم علم مگر جذباتی نوجوانوں کو قانون کے احترام پر کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے، جس کی روح ان وزیروں اورملحدوں کے نظریاتی حملوں سے زخمی ہو چکی ہو ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تشدد بذات خود ملک اور دین کے لئے خطرناک ہے ، باعث ندامت ہے ، دشمن کی سازش ہے ، قانون توہین رسالت کے لئے زہر قاتل ہے ، لیکن اے ارباب اختیار کچھ اپنی ادائوں پر غور کریں ، کچھ اپنے لب ولہجے کے زہر کا بھی کوئی تریاق کریں ۔
کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے
ہم کو جکڑا ہے یہاں جبر کی زنجیروں نے اب تو یہ شہر ہی زندان ہوا پھرتا ہے
اب تو یہ شہر ہی زندان ہوا پھرتا ہے



