ویلنٹائن ڈے، یوم اباحیت

خامہ اثر:قاضی عبدالقدیر خاموش
جنگوں سے لے کر تہواروں اور تعلیم سے لے کرفیشن تک مارکیٹ اکانومی کی قوتوں نے اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے اور سرمایہ دارانہ استعمار دولت کی ہوس،اور ھل من مذید کی طلب میں پوری دنیا خصوصاً عالم اسلام کو ہدف بنائے ہوئے ہے ۔ سب سے خطرناک ہتھیار ،آزاد ی فکر کے نام پر اباحیت ،جنسی اختلاط اور بے راہ روی ہے ، جس کے فروغ کی خاطر میڈیا اور سوشل میڈیا پوری طرح سے مارکیٹ اکانومی کی قوتوں کے زیر اثر مستعمل ہے ۔ ایک جانب عالمی سرمایہ دارانہ استعمار میڈیااور سوشل میڈیامیں مارکیٹ فورسز سے سرمایہ کاری کرواکر کچی عمر کے بچوں اور بچیوں کے لئے اباحیت ،جنسی میلان ، آزادانہ اختلاط اور اس سے جڑی تمام قباحتوں اور حماقتوں کو فیشن اور فخر بنا کر پیش کرتا ہے اور ان کے اذہان وقلوب میں جنسی تلذذ کی طلب ،نفسیاتی خلفشاراور نا آسودہ جذبات کی آبیاری کرکے انہیں ایک پوٹینشیل گاہک کی حیثیت دیتا ہے تو دوسری جانب دنیا بھر میں ہشت پا کی طرح اپنے سینکڑوں پیر پھیلائے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعہ سے نت نئی اشتعال انگیز میڈیا مہمات ، اشتہاری کمپینز کے ذریعہ سے نئے سے نیا مال فروخت کے لئے پیش کیا جاتا ہے اور ہر عام آدمی کی جیب سے رقوم عالمی استعمار کے اکائونٹس میں منتقل کردی جاتی ہیں ،چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ جذبات سرد پڑجانے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے اس لئے مختلف ایام اور تقریبات کے نام پرنت اک نیا تماشہ تخلیق کیا جاتا ہے ،اور یہ سلسلہ پورا سال جا ری رہتا ہے۔14فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن اسی سلسلہ کی ایک بڑی اور مضبوط کڑی بلکہ اباحیت کی بنیاد ہے ۔
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گر شاخِ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات
کٹ مرا ناداں خیالی دیوتائوں کے لیے سکر کی لذت میں تو لٹوا گیا نقدِ حیات
پاکستان میں مشرف حکومت سے پہلے یہ ویلنٹائن صرف چند بگڑے عیاشوں کا دھندہ تھا ،چھپ چھپا کر تقریبات ہوتیں ، اکثر علاقہ کے لوگ ڈنڈے لے کر پہنچ جاتے ، مشرف حکومت میں جب کارپوریٹ کلچر نے پاکستان میں اپنے پیر پھیلائے تو ملٹی نیشنلز اپنے ساتھ اپنے تمام لوازمات بھی لے کر آئیں ، میڈیا کی قوت ،حکومت کی حمائت ،اور ہیجان انگیز تفریح کی آڑ میں اس اباحیت کو اب اس حدتک گوارا بنادیا گیا ہے کہ اچھے بھلے دین دار لوگ بھی” ہرج ہی کیا ہے ، ”کہہ خاموشی اوڑھ لیتے ہیں ۔ یعنی اقبال نے جو سوسال پہلے کہا تھا وہ اب ہم اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں ۔
یہ کوئی دن کی بات ہے اے مردِ ہوش مند! غیرت نہ تجھ میں ہو گی، نہ زن اوٹ چاہے گی
ویلنٹائن کی اس رسم قبیح کا جس انداز سے بھی جائزہ لیں ، جس زاویہ سے بھی اسے پرکھیں امر واقعہ یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے کمرشل رسومات کا جال ہے ،جو ایک جانب عالمی سرمایہ دارانہ استحصال کا ذریعہ ہے تو دوسری جانب مسلم نوجوانوں کو فحاشی اور اباحیت کی دلدل میں دھکیل کر انہیں ایمان سے محروم کرنے اور لبرلزم کے راستے سے الحاد کی منزلوں تک لے جانے کی سازش ہے۔آج اس رسم ِ بد نے ایک طوفان ِ بے حیائی برپا کردیا۔ عفت و عصمت کی عظمت اور رشتہ نکاح کے تقد س کو پامال کردیا۔ نوجوان لڑکو ں اور لڑکیوں میں آزادی اور بے باکی کو پیدا
2
کیا۔ معاشرہ کو پراگندہ کرنے اور حیا و اخلاق کی تعلیمات، اور جنسی بے راہ روی کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بر سرعام اظہار محبت کے نت نئے طریقوں کے ذریعہ شرم و حیا،ادب وشرافت کو ختم کرڈالا۔ پاکیزہ معاشرہ کو بڑی بے دردی کے ساتھ بد امن اور داغ دار کیا ہے۔ اخلاقی قدروں کو تہس نہس کیا ہے، اور رشتوں، تعلقات، احترام، انسانیت تمام چیزوں کو پامال کردیا ہے۔
سامان کی بکری، اشیا کے فروخت کی خاطر اور صارفیت کے فروغ کے لیے عورت کا استعمال اور پھر کرائم اور جرائم کا بازار گرم ہوتا ہے۔ من چاہی دوستی اور نباہ نہ ہونے کی شکل میں قتل کی بڑھتی ہوئی وارداتیں، زنا بالجبر اور اس کی پردہ پوشی کے لیے قتل کر کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردینا اس قدر عام ہو گیا ہے کہ ویمنس رائٹ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 31 ہزار مقدمات سال 2021 میں درج کیے گئے جو کہ 2014کے بعد اتنے زیادہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملے۔یہ سب ایسی ہی اباحیت کو قبول کرنے کا نتیجہ ہے ۔
سوال تو یہ بھی ہے کہ یہ ویلنٹائن ڈے آخر ہے کیا ؟ اس حوالہ سے تین کہانیاں سنائی جا تی ہیں ِ،اول یہ کہ روم میں سن 269 کی بات ہے جب کلاوڈیس نام کے بادشاہ کا دور تھا جو پیار ومحبت اور شادی بیاہ کو نوجوانوں کے لیے خطرناک اور ملک کے حق میں نقصان دہ سمجھتا تھا۔ اس وقت سینٹ ویلنٹائن نامی ایک نیک دل شخص نے نوجوانوں کی مدد کی اور انہیں ملانے اور ان کی شادی کروانے کا بیڑہ اٹھایا۔ وہ انہیں ملانے اور انہیں شادی کے رشتہ میں منسلک کرنے لگا لہذا اس جرم کی پاداش میں اسے جیل بھیج دیا گیا اور وہاں اس کے لئے پھانسی کی سزا تجویز کی گئی۔ اس نے جیل سے لکھے گئے خط میں جیلر کی اندھی بیٹی کو اپنی آنکھیں تحفہ میں دیتے ہوئے یہ لکھا، تمہارا ویلنٹائن۔۔ چنانچہ 14 فروری سن 269 میں اسے پھانسی کی سزا دی گئی۔ یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ 4996 میں پہلا ویلنٹائن ڈے رومنس تہوار کے روپ میں منایا گیا۔ لہذا پانچویں صدی تک 14 فروری کا دن پوپ گلوسیس کے ذریعہ ویلنٹائن ڈے کے نام سے خاص ہونے کا اعلان کردیا گیا اور اس دن یہ خاص کام متعین ہوا کہ اجتماعی شادیاں (Mass Marriages) کرائی جاتی تھیں۔
جس حوالہ سے بھی اسے دیکھا جائے ، یہ دن ہمارا نہیں ہماری معاشرت کا نہیں ، ہمارے مزاج کا نہیں، دین تو اس سے بہت اعلیٰ،ارفع اور اوپر ہے ۔ اس دن کی مناسبت سے نکاح اور شادی جیسے پاکیز ہ بندھن کی دھجیاں اڑاتا طوفان بدتمیزی عام ہو چکاہے۔ کس کی شام کس کے ساتھ گزرے گی۔ کس کی بیوی اور کون دوست ہے؟ نہ کوئی حیا ہے نہ شرم۔ کوئی بھی کسی کو آئی لو یو کہہ سکتا ہے سب جائز ہے۔ سب چلتا ہے بازار عشق و محبت میں۔ رات دیر تک نوجوانوں کی من مانی حرکتیں۔ مہنگے ہوٹلس ہاوس فل جس کا انجام اذیت ناک المناک اور شرمناک ۔
مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے
ویلنٹائن ڈے کے نام پر ڈیجیٹل ٹھگ، برانڈڈ کمپنیاں جھوٹ اور فریب کا سودا کرتی ہیں۔ ڈسکاونٹ کے نام پر موبائلز پر میسجز کی بھر مار ہوتی ہے۔مفت کوپن اور آن لائن آفر سے لوگوں کی جیبوں میں سیندھ لگائی جاتی ہے۔اس کے ساتھ فحاشی اور عریانیت کا وہ بازار گرم ہوتا ہے جسے اگر لڑکے اور لڑکیوں کا رنگ رلیاں منانے کا عالمی میلہ کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس طوفان میں اچھے اچھے گھرانوں کے لڑکے اور لڑکیاں بھی بہہ رہی ہیں۔ خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر وہ کام ہوتا ہے جسے مہذب سماج میں جگہ نہیں مل سکتی اور نہیں ملنی
3
چاہیے۔ مگر کیا کیجیے کہ سماج کے لوگ ہی تہذیب سے عاری ہو چکے ہیں جب احساس ہی مرچکا ہے اور برائی برائی نہیں بلکہ کامیابی و ترقی اور ماڈرنٹی کی ضمانت سمجھی جا رہی ہے اور کسی کو مہذب اور پاکیزہ معاشرہ کی فکر ہی نہیں ہے۔ جب اولاد سے یہ سوال ہی جرم بنادیا جائے رات کہاں گزار ی ہے۔ جب اس فکر کا مذاق اڑایا جائے کہ نئی نسل کس راہ اور کس ڈگر پر جارہی ہے۔ میرا جسم میری مرضی م کا نعرہ حق قرار پائے تو ،نسل نو تہذیب وتمدن کے عالمی لٹیروں اور لبرلز ازم کے نام پر مذہب دشمنوں کا شکار نہیں بنے گی تو اور کیا کرے گی ، ایک سازش کے تحت یوم اباحیت کے نام پر احساس جواب دہی کو ہی ختم کیا جا رہا ہے :
جو بناتے ہیںنمائش کا کھلونا تم کو ان کی خاطر یہ زحمت نہ اٹھانا ہرگز
خرابی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے ،اورمعاشرت ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھ کسی مصلح ،کسی مسیحا کی راہ تک رہی ہے ، اللہ کا قرآن پکار پکار کر برائیوں کے مقابل اصلاح احوال کی سبیل کرنے والوں کی نشاندہی کر رہا ہے اور انہیں ذمہ داریوں کا احساس دلا رہا ہے ۔ سورة آل عمران میں ہے کہ ”کنتم خیر ام اخرِجت لِلناسِ تمرون بِالمعروفِ وتنہون عنِ المنرِ وتمِنون بِاللہِ ولو امن اہل الِتبِ لان خیرا لہم مِنہم الممِنون واثرہم الفسِقون”ترجمہ :تم بہترین امت ہو جو نکالی گئی ہو لوگوں کے لیے تم نیکی کاحکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور تم اللہ پہ ایمان لاتے ہو اور یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا، اگرچہ ان میں کچھ لوگ مومن ہیں اور اکثریت ان میں سے فاسق ہے۔”
آقائے دوعالم حضرت محمد ۖ کا فرمان عالیشان ہے کہ ”جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی ایسی قوم میں ہو کہ جن میں اللہ کی نافرمانیاں کی جارہی ہوں اور وہ لوگ اسکو بدلنے پہ قدرت رکھتے ہوں اور اس کے باوجود وہ ان کی اصلاح نہ کریں تو اللہ تعالی ان سب کو انکے مرنے سے پہلے عذاب دے گا۔””حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایارسول اللہ کا فرمان ہے کہ، تم بھلائی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو اور نیکی پہ ابھارتے رہو ورنہ اللہ تم سب کو عذاب سے تباہ کردے گا یا تمہارے برے لوگوں کو تم پہ حکمران بنادے گا اور تمہارے نیک لوگ دعائیں کریں گے، لیکن تمہاری دعائیں قبول نہ ہونگی۔” کیا آج ہم اسی صورتحال کا شکار نہیں ، برائی عام نہیں ،ہم پر برے لوگ حکمران نہیں ، ہماری دعائیں ، قبولیت سے دور نہیں ہوتی جا رہیں ؟ کیا ابھی کچھ انتظار کیا جائے گا ؟ کیا وقت نہیں آگیا کہ ارباب علم ودانش، وارثان ممبر ومحراب ، صاحبان جبہ ودستار میدان میں آئیںاپنے علم اور عمل سے ، دلیل اور حجت کے ساتھ حکمت اور بصیرت کے تحت نوجوان نسل کو سمجھانے اور ان کے ایمان بچانے کی فکر کریں ، ذمہ داری سب کی ہے لیکن میرے خیال میں میرے اہل حدیث علماء کا فرض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہے ، تحریک اہل حدیث کا تو مقصد ہی امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے ۔ علمائے کرام سے دست بستہ گزارش ہے کہ کچھ کرلیں سدباب کرلیں ورنہ فحاشی کے پیچھے پیچھے الحاد ہمارے معاشرے کو نگل رہا ہے، کل قیامت کو ہمیں اس کا جواب دیناپڑے گا ۔تیاری کرلیں ۔



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر