خامہ اثر :قاضی عبدالقدیر خاموش
مخبر صادق، آقا دوعالم ،النبی الخاتم سیدنا ومولاناحضرت محمد ﷺ کے فرمان عالی شان کا اک اک حرف زندگی کے حقائق اور عقل ودانش کی حکمتوں کا عکاس ہے ، جس نے اس حقیقت کو پالیا وہ فرد ہو یا قوم اس نے فلاح پائی ، کامیابی سمیٹی۔ جس نے علم وحکمت کے ان موتیوں کو نظر انداز کیا زندگی نے اسے نظر انداز کردیا ، آپ ﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ ’’کاد الفقر ان یکون کفرا‘‘ ( بیقہی، طبرانی) یعنی ’’ قریب ہے کہ تنگ دستی کفر تک پہنچا دے۔‘‘ ایک دوسرے مقام پر آپ ﷺنے فرمایا ”اللھم انی اعوذ بک من الکفر والفقر“ (ابوداؤد) یعنی اے اللہ تعالیٰ میں کفر اور افلاس سے پناہ مانگتا ہوں۔مزید کئی ایسے فرامین موجود ہیں کہ آپ نے فقر اور کفرکا یکجا بیان فرمایا۔ آپ کی تعلیمات اور تربیت کا ہی اعجاز تھا کہ خلافت عمر ؓ میں ایسا وقت بھی آگیا کہ ریاست مدینہ میں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملتا تھا ، آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کو دیکھیں تو ہر موقعہ پر آپ سب سے پہلے معاش کی فکر کرتے دکھائی دیتے ہیں ، ہجرت کے بعد کی مواخات میں بھی یہی پہلو سب سے نمایاں دکھائی دیتا ہے ، المیہ یہ ہے کہ آج کے دینی علما ء ہوں یا ریاست مدینہ کے نام نہاد دعویدار ان کی فکر یکسر تعلیمات نبوی کے برعکس دکھائی دیتی ہے ، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس وقت تنگ دستی اور عسرت کے اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ آپ کا فرمان کاد الفقر ان یکون کفرا‘مجسم حقیقت بن کر ہمارے سامنے ہے ۔ جن لوگوں کو دو وقت اپنے بچوں کے لئے پیٹ بھر کر روٹی دستیاب نہیں ، جنہیں مزدوری تک نہیں ملتی ، جو دن بھر کی مشقت کے بعد بھی بچوں کے چہروں پر افلاس کے سائے لہراتے دیکھنے پر مجبور ہوں ان کے نزدیک سب سے بڑی حقیقت روٹی ہے ، کوئی فلسفہ کوئی نعرہ ان کا پیٹ نہیں بھر سکتا ۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے ایسی ہی حقیقت کویوں بیان فرمایاکہ ’’مسجد کے ممبر پر بیٹھ کر کڑک لہجے میں لوگوں کے ذہن میں قیامت کا خوف بھرنے والے ملا ،شائدتم کو معلوم ہی نہیں کہ یہاں ہر مفلس کا بھوکا پیٹ نیا درد قیامت برپا کرتا ہے۔ بقول اکبر الہ آبادی
خالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیر اشراف کوبناتی ہے اک دٓن میں فقیر
عمران خان وزیراعظم بننے سے پہلے معاشی مساوات قائم کر کے ملک کو ترقی و خوشحالی اور خود انحصاری کی پٹڑی پر ڈالنے اورقرضوں کے بجائے خودکشی کرنے کو ترجیح دینے کی بات کیا کرتے تھے۔اقتدار میں آنے کے بعد ایسا یوٹرن لیا کہ جس کشکول کو توڑنا تھا اسی کو گلے میں ڈال کر غیر ملکی دورے کئے ، جس آئی ایم ایف کو استعمار کا شکنجہ کہا کرتے تھے اسی سے معاشی ٹیم مستعار لے کر پاکستان کو آئی ایم ایف کی چوکھٹ پرسجدہ ریزہونے پر مجبورکر دیا۔ یہ انہی معاشی افلاطونوں کی کارکردگی کا ہی نتیجہ ہے کہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی نے 70سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔عوام رشید حسرت کی طرح دہائی د یتے نظر آتے ہیں
مہنگائی کا اب آیا ہے طوفان یقیناً توڑے ہیں حکمرانوں نے پیمان
ستم بالائے ستم یہ کہ حکومتی وزیر مشیر حکومت کی ناکامی کا اعتراف کرنے کے بجائے عوام کو روٹی کم کھانے اور چینی کے نو دانے چائے میں کم
2
ڈالنے کے مشورے دے کر عوام کے زخموں پر مزیدنمک پاشی کر رہے ہیں ۔ ارباب اختیار کے سوئے فہم کااندازہ اس سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس کے ایک’’ وزیر بے تدبیر‘‘کا کہنا ہے کہ مہنگائی تو اللہ کی طرف سے ہے اور قیمتوں کا تعین فرشتے کرتے ہیں۔ عقل و خرد سے پیدل یہ حکومتی کار پر دازان مسائل کے حل پر توجہ دینے کی بجائے عوام کی بے بسی کا مذاق اڑاتے ہیں۔ حکمران یہ بھول گئے ہیں کہ عام آدمی کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ عالمی سطح پر آج تیل اور پام آئل کی قیمتیں کہاں تک بڑھ چکی ہیں وہ روٹی چاہتا ہے ، علاج کا مطالبہ کرتا ہے اور گرمی وسردی میں اپنے اور بچوں کے بچائو کی خواہش رکھتا ہے ۔کیونکہ کسی سیانے نے کہا تھا ’’ پیٹ نا پیاں روٹیاں تے سبھے گلاں کھوٹیاں ۔‘‘
عوام کو توصرف سستی روٹی‘ گھی‘ چاول اور دال‘ سبزی چاہئے۔ قیمتوں اور مہنگائی پر کنٹرول حکومت کا کا کام ہے۔جس میں وہ ناکام ہے ، اس کے نتیجے میں گلیوں بازاروں کی دکانوں اور چھوٹے بڑے سٹوروں پر لوگ حکومت کو کوس رہے ہیں،مہنگائی سے متاثر ہونے والے کروڑوں غریب گھرانوں کے باورچی خانوں سے چیخیں بلند ہو رہی ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق ہمارے 80 فیصد سے زیادہ ٹیکسوں کی وصولی درمیانے اور غریب طبقے سے بجلی، گیس، موبائل فون، پٹرول اور عام استعمال کی دیگر اشیا پر عائد ٹیکسوں سے حاصل کی جاتی ہے جبکہ امیر ترین طبقہ صرف 5 فیصد کے قریب ٹیکسوں کی ادائیگی کرتا ہے۔ غربت کی وجہ سے تقریباً 80 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق نائجیریا کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ بچے سکولوں میں نہیں جا پاتے۔یہ ان پڑھ بچے بڑے ہو کر غربت، بےروزگاری اور جرائم میں مزید اضافے کا باعث بنتے ہیں۔صرف پچھلے دو سالوں کے افراط زر کی وجہ سے تقریباً 40 لاکھ نئے لوگ غربت کا شکار بنے ہیں،2022 کے اعدادوشمار مزید تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔2018 میں پاکستان کی آبادی کی 31.3 فیصد تعداد یعنی تقریباً سات کروڑ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے رہنے پر مجبور تھے۔ 2020 میں یہ تعداد بڑھ کر 40 فیصد یعنی آٹھ کروڑ 70 لاکھ کے قریب پہنچ گئی اور اب 52فیصد۔ آٹا‘چینی‘گھی‘ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے فاقوں ماری قوم کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا ہے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 2015ء میں پاکستان میں1900افراد نے خودکشی کی جبکہ گزشتہ برس بھوک سے عاجز آ کر خودکشی کرنے والوں کی تعداد 7000سے تجاوز کر گئی۔خودکشیوں کے حوالے سے 183ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبرکا169ہے۔عالمی ادارہ صحت بار بار خبردار کر چکا ہے کہ پاکستان میں خودکشی کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ،مفلسی اور بھوک کی وجہ سے ہر روز 41پاکستانی خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ماضی میں تو لوگ اپنی ناکامیوں کی وجہ سے خودکشی کرتے تھے آج اپنے بیوی بچوں کو بھی اپنے ساتھ زہر دے رہے ہیں۔المیہ تو یہ بھی ہے کہ بھوک سے عاجزجو پاکستانی جان دینے کی ہمت نہیں کر پاتے ، بھوک ان کو اخلاقی جرائم کی طرف لے جاتی ہے۔ فاقوں نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق خودکشی کے 90فیصد واقعات ڈیپریشن میں مبتلا ہونے کی وجہ سے پیش آتے ہیں پاکستان ایسوسی ایشن فارمینٹل ہیلتھ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں مختلف شہروں میں ڈیپریشن کی شرح 22سے 60فیصد تک ریکارڈ کی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ہر چوتھے گھر میں ذہنی صحت کا مسئلہ ہے ۔
3
حکومت کے اپنے اعداد وشمار سے لے کر عالمی اداروں کے اعداد وشمار تک ایک ہی بات دہرائی جا رہی ہے کہ قوم کی قوت خرید جواب دے چکی ، پیٹ کی آگ سب کچھ بھسم کرنے کے درپئے ہے ، ایسے میں ملکی سلامتی سے لے کر ایمان تک سب کچھ روٹی کے ایک نوالے کی قیمت بن سکتا ہے ۔ جیسا کہ ہم پہلے آقا دوعالمﷺ کا فرمان پڑھ چکے ہیں کہ ’’مفلسی کفر تک لے جاتی ہے ۔‘‘
کھڑاہوں آج بھی روٹی کے چارحرف لئے سوال یہ ہے کتابوں نے کیادیامجھ کو
ہم سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کے سیاستدانوں سے لے کر علماء کرام تک بھوک کے خاتمہ اور غربت سے نجات کو اپنی اولین ترجیح قرار دیں ، ہر طرح کے اختلاف فکر اور بحث ومباحثہ کو ایک طرف رکھتے ہوئے ملک کی معاشی بحالی کو اولین ترجیح بنائیں ، زیادہ بہتر یہ ہے ، بلکہ واحد حل یہ ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اسی طرح یکسوئی کے ساتھ اکٹھی ہوں جس طرح کہ ملکی سلامتی کے’’ نیشنل ایکشن پروگرام ‘‘ کے لئے اکٹھی ہوئی تھیں ، اور کامل یکسوئی کے ساتھ میثاق معیشت کی بنیاد رکھی جائے ، تاکہ عوامی فلاح وبہبوداورغربت کے خاتمہ کا ایک مستقل اور طویل المدتی منصوبہ تشکیل دیا جاسکے ۔ عوام کی بے چینی بتا رہی ہے کہ اگر بھوک کا کوئی سدباب نہ کیا گیا تو شائد بہت دیر ہوجائے اور کوئی کچھ سننے کو بھی تیار نہ ہو ۔
سیر شکمی کا بھوک سے ہے ملاپ،روح کی تشنگی سنبھالئے آپ
شہر والے ہیں کھولتاہوا لاوا،گلی کوچوں سے اٹھ رہی ہے بھاپ



