تحریر نذیر ڈھوکی
Nazirdhoki8@gmail.com
سندھ کے عوام کی منتخب اسمبلی نے سندھ کے نئے بلدیاتی نظام کا قانون پاس کیا اس پر ہر آمر کی پاکٹ تنظیموں نے کراچی میں زمین و آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے ، وزیر آعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، اور وزیر اطلاعات سعید غنی نئے بلدیاتی نظام کی مخالفت کرنے والوں کو بار بار دعوت دیتے رہے ہیں
کہ آو بیٹھتے ہیں آپ بتائیں اس قانون میں غلط کیا ہے اگر کچھ غلط ہے تو اس کو درست کرتے ہیں مگر نئے بلدیاتی نظام کے مخألفین بضد ہیں کہ انہیں نیا بلدیاتی نظام
قبول ہی نہیں ہے ۔ معلوم انہیں بھی ہے اس قانون کے تحت منتخب نمائندوں کے اختیارات میں اضافہ ہوا ہے ، ضلعی حکومتوں کو بااختیار
بنایا گیا ہے ، وہ محکمے جو میئر کے پاس نہیں تھے وہ محکمے بھی میئر کو دیئے گئے ہیں اس نئے نظام میں
کراچی کے شہریوں کا پیسہ کراچی کے شہریوں پر خرچ کرنے کو یقینی بنایا گیا ۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر
ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو کون سے
خدشات لاحق ہیں رہی بات جی ڈی اے اور فنکشنل لیگ کی تو وہ نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں کیوں اچھل کود کر رہے ہیں ؟
پنجابی زبان میں محاورہ ہے
روندی اے یاراں نوں
لے لیکے نام بھراواں دا
دراصل کراچی کے ضمنی انتخابات
میں پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل کی فتح سے پیپلزپارٹی کے تمام مخألفین پاوں سے زمین نکل گئی ہے ۔ پیپلزپارٹی کے جیالے سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی
نے کراچی میں پیپلزپارٹی کے مخألفین کی نیندیں اڑا کر رکھ دی ہیں جس نے بلا کسی تفریق کے کراچی شہر کے کونے کونے میں پہنچ کر عوام کے مسئلے حل کرکے
پیپلزپارٹی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں
سعید غنی محنت کشوں کے غیر متنازعہ لیڈر شہید عثمان غنی کے صاحبزادے ہیں ان کا خاندان قیام پاکستان سے قبل کراچی میں آباد تھا اس لیئے انہیں کراچی بھی عزیز ہے اور کراچی میں بسنے والے بھی ۔ کراچی کے عوامی ایڈمنسٹریٹر مرتضی وہاب جو بھی بنیادی طور
جیالے ہیں ترقی پسند وہاب صدیقی
اور جیالی فوزیہ وہاب کے صاحبزادے ہیں آعلی تعلیم یافتہ نوجوان ہیں مگر صاحب بات صرف
آعلی تعلیم یافتہ کی نہیں بات سیاسی شعور کی ہے کوئی شک نہیں کہ مرتضی وہاب نے پیپلزپارٹی
کی عظیم جیالی والدہ فوزیہ وہاب
کی گود میں نہ صرف پرورش پائی
بلکہ سیاسی شعور بھی سیکھا ۔
مرتضی وہاب نے کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کا منصب سنبھالنے کے
بعد جس طرح اپنی خدمات سرانجام دی ہیں اس سے بھی پیپلزپارٹی کے مخألفین پریشان ہیں
اور انہیں انہیں آئندہ بلدیاتی انتخابات میں اپنی شکست نظر آ رہی ہے کیونکہ بات ہے شہر اور شہر
کے عوام کی خدمت کی ۔
جنرل ضاع کی حکومت میں جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی کو کراچی کا میئر بنایا گیا تھا اس دور میں کراچی کے عوام پانی کی بوند کیلئے ترس رہے تھے
اور شھر بھر کی دیواروں پر تحریر تھا ” پی گیا سارے شھر کا پانی ہائے افغانی ہائے افغانی ” سوال یہ ہے کہ
کراچی شھر کا بلدیاتی نظام تو کئی
دہائیوں تک یا تو جماعت اسلامی یا ایم کیو ایم کے پاس رہا ہے کبھی فاروق ستار ، کبھی نعمت اللہ خان،
کبھی اور پھر مصطفی کمال اور الطاف حسین کے آخری وفادر کے
پاس ۔ در اصل کراچی اب بدل چکا ہے ، کراچی کے شہریوں کو بھتہ گیروں سے نجات مل چکی ہے جیالے سعید غنی کراچی کے باسیوں کے دل جیت چکے ہیں انہوں نے سیاسی مگر مچھوں جو خود کو کراچی کے
ٹھیکیدار سمجھتے تھے کو بےروزگار
کردیا ہے . مان لیا پیپلزپارٹی تیرہ سال سے سندھ میں حکومت میں ہے
مگر کراچی کا نظام تو یا ایم کیو ایم کے پاس رہا ہے یا جماعت اسلامی کے یہ الگ کہانی ہے جماعت اسلامی کو کراچی کی میئر شپ یا تو جنرل ضاع یا پھر جنرل مشرف کے دور میں ملی جبکہ ایم کیو ایم
کراچی شہریوں کو ووٹ کرنے کی زحمت ہی نہیں دیتی تھی ۔ اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں کراچی کے وسائل پر ” بھائی ” کی اجارہ داری ختم ہو چکی اب خوف کا ماحول ختم ہو چکاہے ایسے حالات میں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے
درمیان قربانی کے جانوروں کی کھالیں کے حوالے سے طاقت آزمائی بھی ختم ہو چکی ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی اور پی ایس پی کی کوئی نمائندگی ہے وہ سندھ اسمبلی
کے فیصلے کو چیلنج کر رہی ہے ،
ایم کیو ایم عملی طور ختم ہو چکی ہے ،پی ٹی آئی کے چور دروازے سے
آنے کے راستے بند ہو چکے ہیں آتوار کے روز پیپلزپارٹی کے تمام مخألفین نے کراچی میں دو تین سو افراد جمع
کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ،
اس مظاہرے نے پیپلزپارٹی کے مخألفین کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ , لطف کی بات یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے ایل ایف او کو آئین میں نتھی کرنے والے ایک زبان ہوکر سندھ اسمبلی کے منظور شدہ نئے
بلدیاتی نظام کو کالا قانون قرار دے
رہے ۔ دراصل بات یہ ہے کراچی کے عوام کے دل پاکستان پیپلزپارٹی جیت چکی ہے جس کی وجہہ سے
پیپلزپارٹی کے مخألفین کو اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے ۔



