یہ سیاست ہے، اب یہاں عزتیں اچھلتی ہیں

تحریر: قاضی عبدالقدیر خاموش
سیاست جب سے سوشل میڈیا پر منتقل ہوئی ہے زبان و بیان کا رنگ تہذیب و شائستگی کی حدوں سے گرتا چلا جا رہا ہے۔ سیاست کے میخانے میں پگڑی اچھلنے کی بات پرانی ٹھہری اب تو عزتیں اچھلتی ہیں ،وہ بھی اپنوں کے ہاتھوں۔پہلے چند سیاسی جماعتوں میں ہی گالی بریگیڈ ہوا کرتے تھے ، لیکن جب سے دین کے نام پر قائم جماعتوں نے بھی سیاست کو ہی اوڑھنا بچھونا بنالیا ہے ، بات اتنی بڑھی کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ ہر سوجذبات کا دریا چڑھا ہوا ہے، زبانیں اس طرح کھلتی ہیں کہ بدزبانی بھی شرما جائے۔ شرافت اور شائستگی کو تو یارو اغیار نے طاق نسیاں میں رکھ چھوڑاہے۔توقع تو یہ تھی کہ وارثان دین متین اپنی اخلاق وکردار کی دھاک بٹھائیں گے ، مگر وہ تو خود اسی دلدل کے ہو رہے ، بے گانے توبے گانے ان سے تو اپنے بھی محفوظ نہیں ۔اختلاف اتنا بڑا جرم ٹھہرا کہ شرفاء ان کارکنوں کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہیں۔ انسانی سطح پر ایسی بدزبانی اور ایسی بری ڈکشن کسی کم پڑھے لکھے آدمی سے بھی توقع نہیں کر سکتے، چہ جائیکہ وہ ایک عالم دین کہلاتا ہو اور ظلم کی بات تو یہ ہے کہ قرآن عظیم جیسی کتاب کا حافظ ہونے کا دعویدار ہو اور امت کی قیادت کا دعویٰ بھی رکھتا ہو ۔ ان کے بڑوں سے سیاسی اختلاف بھی جرم قرار پاے اور یہ جس کی چاہیں ماں بہن ایک کردیں ۔
ذرا لمحہ بھر کو سوچیں کہ صاحب اخلاق پیغمبر ۖ کو یہ کس قدر برا لگتاہوگا کہ ان کا نام لینے والے ، ان کی وراثت کے دعویدار کس زبان میں بات کرتے ہیں ، کس لہجہ میں دہائیوں تک ساتھ رہنے والوں کو مخاطب کرتے ہیں ۔ وہ تو جانوروں اور دشمنوں کو گالی دینے کو بھی پسند نہیں فرماتے تھے صحیح بخاری میں ہے کہ ”لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہۖ: کون سا اسلام افضل ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں۔ ”صحیح مسلم کی روائت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں کوئی آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنے باپ کو گالی دیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنی ماں کو گالی دیتا ہے۔”ایک دوسرے موقع پر فرمایا”گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہتے ہیں اس کا گناہ اس شخص پر ہو گا جس نے ابتدا کی ،جب تک کہ مظلوم اس سے تجاوز نہ کرے”(اگر وہ تجاوز کر جائے تو زیادتی و تجاوز کا گناہ اس پر ہو گا)۔کسی اور کو کیا کہیں اس روایت کو بعض میرے اہل حدیث مولویوں نے بھی اختیار کر ڈالا ہے۔ بد زبانی کے بعد وہ ٹھٹھہ مارتے ہیں اور تحسین کے طالب ہو تے ہیں، اور اگلے ہی لمحے مجمع خوشی خوشی ان کی یہ ضرورت پوری کر دیتا ہے۔ انسانی تاریخ میں اس بدتہذیبی کو کبھی پسند نہیں کیا گیا ، اس کو رواج پانے سے روکا گیا، اس کے آگے بند باندھے گئے، اسے ہمیشہ عامیانہ اور بازاری گنا گیا۔ اہل علم اور اہل دانش اپنے عمدہ طرز عمل اور الفاظ کے چنائو سے ہی جانے اور مانے جاتے رہے ہیں۔مگرمعاف کیجیے یہ زبان جو استعمال کی جارہی ہے یہ تو بازاری بھی کہلانے کی مستحق نہیں۔ بازار میں بھی کسی کے بارے میں یہ زبان اختیار کی جائے تو سننے والے دست وگریبان ہونے سے گریز نہ کریں گے۔یہ عوامی سطح پر جو تماشا بنا ہے اور” عالم دین ”کالفظ جس تضحیک اور تنقید کا نشانہ بنا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ کاش کوئی سوچے ۔
عوامی ہمدردی یا وقتی تالی کسی سیاسی ذہن کو تو عزیز ہو سکتی ہے،لیکن دینی مزاج اور اخلاقیات تاریخ کے کسی بھی عہد میں کو ایسی سوچ کو بھی اپنے اندر آنے کی اجازت دینے کی روادارنہیں رہیں۔ دیکھنے کی بات ہے کہ کوئی مہذب آدمی بدزبانی کیسے کر سکتا ہے؟ ۔۔۔مگر سن بھی کیسے سکتا ہے؟ اگر راستے میں آکر کوئی گالیاں بکنا شروع ہو جائے یا پھر غرانے لگے تو حل کیا ہے، کان لپیٹ کر نکل جانا چاہیے یا پھر زیادہ اونچی آواز میں جواب دیا جائے۔ ہش ہش کر کے ڈرانے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ مان لیا جائے، بلکہ ماننا ہی ہو گا کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے تو حل کیا رہ جاتا ہے۔ہمیں تو یہاں مولانا ابو الکلام کارویہ ہی درست معلوم ہوتا ہے ، لاہور آئے تو ریلوے سٹیشن پر مخالف سیاسی کارکن نے دھوتی کھولی اور ننگا ہو کر دکھا دیا ، دہلی پہنچنے پر کسی صحافی نے پوچھا تو یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ”ان کے پاس اس متاع عزیز کے سوا ہے ہی کیا ”۔
آج کل ہر کوئی یہ گلہ کرتا پایا جاتا ہے کہ معاشرتی اقدار تبدیل ہورہی ہیں،یعنی تنزلی کی جانب مائل ہیں۔ بدزبانی ایک وبا کی صورت میں پھیل رہی ہے،بولنے ہی نہیں، بلکہ لکھنے میں بھی ۔سوشل میڈیا کا کردار اس میں کلیدی سہی لیکن بنیادی ذمہ دار سیاسی قائدین ہیں جو ہر صبح گالیاں دینے والوں کا ماتھا چومتے اور انہیں شاباش ہی نہیں دیتے بلکہ ہلا شیری در دوسروں کے لئے مثال قرار دیتے ہیں ، شنید تو یہ ہے کہ گالیاں گھڑنے اور الزامات وائرل کرنے کی خاطر سیل بنے ہوئے ہیں ، جو وٹس ایپ پر کارکنوں کو ترغیب دیتے اورگالیاں سکھاتے ہیں ، جناب وزیر اعظم تو باقاعدہ سرکاری اہتمام سے ملک بھر سے دشنام طرازوں کا اجلاس بلاتے ہیں ، انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔جاتی عمرہ میں بھی ایسی محافل سجانا معمول ہے۔ دینی شناخت والی جماعتوں میں بھی ترقی درجات کا یہی اک معیار رہ گیا ہے ۔ لطف تو یہ ہے کہ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کی اکثریت خود شاخ نازک پر بیٹھی ہے، ورنہ مسٹر کلین کون ہے؟
اے ارباب دانش،ارباب سیاست وسیادت ایک لمحہ رک کر سوچ لیں،دین اور آخرت کو چھوڑ دیں کہ اس کا خوف ہوتا تو زبانیں اس حدتک کھلتی ہی کیوں ؟ بس اتنا سوچ لیں کہ یہ وقت گزر جائے گا ، مگر جو آپ نے بویا ہے کل کاٹنا پڑا تو کیا کریں گے ؟ ایک دوسرے کے بارے میں جو بدزبانی آپ نے کردی ،کل اسی کو آپ کے مخالفین نے دلیل بنالیا تو کہاں منہہ چھپائیں گے ، کیچڑ میں مسکن بنائیں گے توچھینٹے تو اڑیں گے ۔ دامن آپ کا ہی داغدار ہوگا۔سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے ؟یہ متعفن ماحول ہمارا نہیں ، نہ ہی زیادہ دیر اس کے ساتھ چلا جا سکتا ہے ، نہ ہی ایسا کرناممکن ہے، تو پھر حل کیا ہوگا؟ اصلاح احوال کس طرح ممکن ہو سکے گی ۔ معاملہ مشکل ضرور ہے مگر لاینحل نہیں ، بنیادی مشکل یہ ہے کہ قیادتیں خود تو بدگو نہیں مگر اس بدگوئی کی سر پرستی ضرور کر رہی ہیں ،اور نہیں جانتیں کل وہ خود بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ ایسے میں حل صرف ان تمام جماعتوں کی اس خاموش اکثریت کے پاس ہے ، جو اس گالم گفتار بریگیڈ کے شر سے خود کو مامون رکھنے کی خاطر الگ ہوتے جا رہے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ راست فکر لوگ اپنے اپنے نظم میںاخلاقیات اور اختلاف رائے کے سلیقے کی تربیت پر زور دیں ،کارکنوں کی تربیت جو ایک دور میں ہر دینی جماعت کا طرہ امتیاز ہواکرتی تھی اب ختم ہو چکی ہے ،اس کی بحالی بہت ضروری ہے ۔ صالح فکر کارکنوں کو چاہئے کہ اپنے اپنے نظم کو اس کے لئے مجبور کریں کہ کارکنوں کی اخلاق حسنہ کی روشنی میں تربیت کا بندوبست کیا جائے،تربیتی ورکشاپس اور سیمینارز کا بندوبست کیا جائے، اختلاف کا طریقہ سکھایا جائے ۔ ایک دوسرے کی عزت نفس کے احترام کا احساس دلایا جائے ۔ سب سے بڑھ کر ان کارکنوں کو ان کی اپنی عزت نفس کا ادراک عطا کیا جائے ۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ گالی وہی دیتاہے جو خود گالی کھانے پر آمادہ ہوتا ہے ۔ دوسروں کی عزت سے وہی کھیلتا ہے جسے اپنی عزت کا احساس نہ رہے ۔ اس لئے جب ان کی اپنی عزت نفس کا احساس دلا جائے گا تو یقینا وہ گالی نہیں دیں گے ۔ایک بار آزما کر تو دیکھیں ۔



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر