بیجنگ (شِنہوا)ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کوویڈ19-کے علاج کے لئے وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی روایتی چینی دوائی (ٹی سی ایم) چھنگ فیئی پائیڈو سوپ اسپتال میں داخل مریضوں میں اموات کی شرح کو نصف تک کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔چائنہ ڈیلی میں پیرکو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق چائنہ اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے فووائی اسپتال اور پیکنگ یونین میڈیکل کالج کے محققین کی اس تحقیق میں گذشتہ سال جنوری سے مئی تک وبا کے دوران سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہوبے میں اسپتال میں داخل کوویڈ-19 کے 8ہزار 900سے زیادہ کیسز کا جائزہ لیا گیا۔تقریبا 30 فیصد مریضوں نے علاج معالجے کے طور پر چھنگ فیئی پائیڈو سوپ استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق روایتی چینی دوائی کو اپنے علاج کا حصہ بنانے والے مریضوں میں اموات کی شرح 1.2 فیصد جبکہ دوسرے مریضوں میں اموات کی شرح 4.8 فیصد رہی۔اس تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اسپتال میں داخل کوویڈ-19 کے مریضوں کی اموات میں 50 فیصد کمی چھنگ فیئی پائیڈو سوپ کے استعمال کی وجہ سے تھی اس کے استعمال سے جگر اور گردوں کو نقصان پہنچنے کا بھی کوئی بڑاخطرہ نہیں تھا۔اخبار نے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ لی جِنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوویڈ-19کی تشخیص اور علاج کی قومی ہدایات کی بنیاد پر ، چھنگ فیئی پائیڈو سوپ واحد دوا ہے جسے ہلکی سے لے کرتشویشناک حالت والے مریضوں کے علاج کے لئے تجویز کیا جاتا ہے۔
روایتی چینی دوائی کوویڈ19-کی شرح اموات نصف کرنے میں مدد گارہوسکتی ہے:رپورٹ



