جنیوا(شِنہوا)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی نوول کروناوائرس کی ابتدا پر ڈبلیو ایچ او-چین کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ بڑے حجم کی کوششوں پر اتفاق رائے تھا لیکن ایک ایسے کام کا قطعی نتیجہ دینا بہت جلد ہوگا جس پر ابھی تک کام جاری ہے۔عالمی ادارہ صحت کی ماہرین کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پیٹرکے بین ایمبارک نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ رپورٹ کے نتائج ٹیم کے تمام ارکان کے ا تفاق رائے کا نتیجہ تھے جن میں 17غیر ملکی ماہرین اور 17چینی سائنسدان شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بحث میں ہمیشہ کی طرح یقیناً پہلے اور بعد میں مباحثہ کیا گیا، انہوں نے زور دیا کہ ہم تمام مسائل پر اتفاق رائے کے قابل تھے۔بین ایمبارک نے چینی ماہرین کے ساتھ تعاون کوسراہتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کا حجم اور اس میں مواد کی مقدار،نتائج، تجزیہ اور اعدادوشمار خود بیان کرتے ہیں کہ یہ تعاون کیسا رہا۔
عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ پر دستیاب 120صفحات کی رپورٹ میں نوول کروناوائرس کی ابتدا کے مختلف ممکنہ راستوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جس میں جانوروں سے انسان کو منتقل ہونے کے درمیانی میزبان کو ممکنہ سے بہت ممکنہ کا مفروضہ شامل ہے۔
وائرس کے ماخذ پر ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ تعاون کا کام ہے، ڈبلیو ایچ او ٹیم سربراہ



