بحریہ ٹاؤن یا کرائم ٹاؤن

راجہ لیاقت
ملک ریاض نے یقینا برطانیہ کی ہائی کورٹ میں اپیل والی فائل کو بھی پہیے لگانے کی اپنی عادت اور کوشش کی ہوگی لیکن یہ ان کی بدقسمتی کہ برطانیہ, پاکستان نہیں ہے۔ انگریزوں کا وہ ملک ہے جہاں پر آج بھی کوئی مکمل تحریری ”آئین“ نہیں ہے، اس کے باوجود نیا کی سب سے مہذب قوم اور ملک شمار ہوتا ہے جہاں ”انسانی حقوق“ہی قانون ہیں۔ وہاں زرداری کسی پر ”بھاری“ ہوتا ہے نہ نوازشریف کے ”ووٹ“ کو عزت ملتی ہے۔ عدالتیں یہ بالکل نہیں دیکھتیں کہ سامنے ملک ریاض کھڑا ہے یا برطانیہ کا وزیراعظم۔ نہ ہی وہاں کے چیف جسٹس کو یہ کہنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب کو یکساں حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ وہاں ججز نہیں ,ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے دس سالہ ملٹی پل ویزے کی خبر پاکستانی میڈیا کے لئے بڑی ”بریکنگ“ نیوز تھی لیکن اینکرز، کالم نگار، تجزیہ نگاروں کی زبان اور قلم کو ”بریک“ لگ گئی۔ کسی نے بھی اتنی بڑی خبر کو اس قابل نہیں سمجھا کہ وہ اس پر پروگرام کرتے یا کالم لکھتے؟کیوں؟ کیونکہ پاکستان میں ملک ریاض کو ”پہیے“ لگانے کا وسیع تجربہ ہے۔ وہ میڈیا مالکان کو ہڈی سمیت اتنا گوشت ڈال دیتا ہے کہ ”آزادی اظہار، کا کیڑاہڈی چباتے چباتے سو جاتا ہے اور ملک ریاض کی ذات پر کوئی داغ دھبہ نہیں لگتا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک ریاض ملک کے تمام بڑے چینلز اور اخبارات کو اشتہارات کی آڑ میں اتنا مال دے دیتا ہے کہ بڑے بڑے اینکرز اور صحافی اپنی نوکری کی خاطر اپنے ضمیر کو تھپکی مار کر سلادیتے ہیں۔ ویسے بھی ہمارے ملک میں موضوعات کی کون سی کمی ہے۔ صبح شام نئے سے نئے سکینڈلز، کبھی علی احمد کرد کی تقریر، کبھی ثاقب نثار کی آڈیو، کالعدم قرار دینے کے بعد اسی تنظیم کے تمام حقوق بحال کرنے سے لیکر مہنگائی، پیٹرول، آٹا، چینی اور پتا نہیں کیا کیا۔
ویزا کیوں کینسل کیا گیا اور دس سال تک باپ، بیٹے کی برطانیہ میں انٹری کیوں بند کی گئی، عدالتی فیصلے میں اس کی تفصیل تو نہیں ہے لیکن کہا یہ جا رہا ہے کہ ملک ریاض کی برطانیہ میںاربوں روپے کی پراپرٹی اور بینک اکاؤنٹس تھے۔ برطانیہ کی سپیشل کرائم ایجنسی کو شک تھا کہ یہ پیسہ کرپشن کا ہے اور اس کرپشن کے پیسے کا زیادہ حصہ وہ تھا جو سندھ میں سرکاری زمینوں پر بحریہ ٹاؤن لانچ کر کے بنایا گیا تھا۔ اس میں زرداری خاندان اور بعض معاملات میں نوازشریف فیملی کا نام بھی آتا رہا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے جب اس سلسلے میں ملک ریاض کو 460 ارب روپے جرمانہ کیا تو ملک ریاض نے ہائیڈ پارک لندن میں اپنا ”فلیٹ یا اپارٹمنٹ“ بھی بیچا اور کہا یہ بھی جاتا ہے کہ یہ اپارٹمنٹ نوازشریف کے صاحبزادے نے 2007ء میں خریدا تھا۔ اس اپارٹمنٹ کی قیمت19کرو ڑ پاؤنڈ یعنی 40 ارب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ میں متعدد بار لندن کے ہائیڈپارک میں جا چکا ہوں۔ اس کے اردگرد مہنگے ترین اپارٹمنٹ ہیں جنہیں آپ ”محل“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ مذکورہ ”اپارٹمنٹ“ میں جم، سوئمنگ پول، سینما اور وہ سب کچھ ہے جو کسی محل میں ہی ہوسکتا ہے۔بظاہر یہ اپارٹمنٹ 2007ء میں ”نوازشریف فیملی“ نے خریدا تھا لیکن تھوڑے ہی عرصہ بعد اسے ملک ریاض کو ،،فروخت ،،کر دیا گیا تھا۔ جب نیشنل کرائم ایجنسی نے اس پر تحقیقات کیں تو انہیں شک ہوا کہ یہ پیسہ”صحیح“ نہیں اور کرپشن کا ہے۔ اگرچہ ملک ریاض کو اس میں کوئی سزا نہیں دی گئی لیکن ”مشکوک ٹرانزیکشن“ کی وجہ سے باپ بیٹے کا ویزا کینسل کیا گیا تھا جس کے خلاف ملک ریاض نے ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔جس کا فیصلہ26 نومبر2021ء کو رائل کورٹ آف جسٹس لندن کے تین رکنی بنچ نے سنایا۔ ایک خاتون جسٹس کے علاوہ بنچ میں لارڈ جسٹس SNOWDEN اور لارڈ جسٹس NUGEEشامل تھے۔ ملک ریاض اور اس کے بیٹے احمد علی ریاض کی طرف سے اپیل کی گئی تھی اور ہوم سیکرٹری ،برطانیہ نے اس اپیل کے خلاف دفاع کیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے 460 ارب روپے کیا گیا جرمانہ حکومت پاکستان کے خزانے میں جمع ہوا ہے یا نہیں، لیکن پاک فوج اور بحریہ ٹاؤن ”جوائنٹ پارٹنر“ کے طور پر متعدد منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔ ملک ریاض کو آج تک کسی عدالت نے قبضے، کرپشن، یہاں تک کہ قتل کے مقدمات میں سزا تو دور کی بات، حوالات کی سیر بھی نہیں کرائی کیونکہ یہاں، خود ملک ریاض کے مطابق وہ پٹواری سے لیکر ملک کے چیف ایگزیکٹو تک، سب کو ”پہیے“ لگانے کا فن جانتے ہیں۔ رہ گیا ”آزاد اور خودمختار“میڈیا، تو راولپنڈی، اسلام آباد میں بحریہ ٹاؤن جسے میں ”کرائم ٹاؤن“ لکھتا ہوں، میں قتل، زنا، قبضہ، کارچوری، اغواء برائے تاوان کی صورت میں بھی بحریہ ٹاؤن کا نام لکھنا جرم ہے۔ صرف ”نجی ہاؤسنگ سوسائٹی“لکھ کر اور بول کر کام چلایا جاتا ہے۔ البتہ اس ”کرائم ٹاؤن“ انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی ”فنکشن یا ایونٹ“ ہو تو تمام مرکزی میڈیا اس کی لائیو کوریج کا پابند ہے۔ بٹوا چوری سے بکری چوری، معمولی لڑائی جھگڑے میں لاکھوں ”مجرم“ پاکستان کی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں لیکن ملک ریاض سنگین ترین مقدمات کے باوجود ایک پرندے کی طرح آزاد ہے۔



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر