سکواش کی کہانی

 

تحميد صادق- انگلينڈ
سکواش تقريبا بيسویں صدی کے وسط تک ايک غير معروف کھيل رہا۰اوائل ميں يہ اُمراء اور بڑے سرکاری افسران کا کھيل ہوا کرتا تھا۰ پاکستان کے معرضِ وجود ميں آنے سے پہلے انگريز بہادر نے اپنے کھيلنے کے لئيے سکواش کورٹس بنوائے اور ان کورٹس ميں وہ بطور فن اور فٹنس کے لئيے سکواش کھيلا کرتے تھے جبکہ لوکل لڑکے بطور خدمتگار گيند پکڑنے ميں ان کی مدد کيا کرتے تھے۰
ہاشم خان اور روشن خان جو کہ پشاور ائير فورس ميس کے سکواش کورٹ ميں صرف “بال پِکر” تھے مگر اپنے اندر کھيل کا اس قدر جنون رکھتے تھے کے دونوں بھايئوں نے 1949 پاکستان پروفشنل سکواش ٹورنامنٹ ميں حصہ ليا اور ہاشم خان نے ديگر 32 شريک اُميدواروں پر سبقت ليتے ہوئے يہ ٹورنامنٹ جيت ليا۰
ہاشم خان کی اس جيت اور کھيل سے اس وقت کے پی ايم ائے کاکول کے کمانڈنٹ برگيڈئر “انگل” بہت متاثر ہوئے اور اُن کے کھيل اور عمدہ تيکنيک کو بے حد سراہا۰ ہاشم خان کی اس شاندار کارگردگی کی خبر جب اس وقت کے ائير فورس چيف تک پہنچی تو اُنہوں نے 37 سالہ ہاشم خان کو اپنی سرپرستی ميں ليتے ہوئے انہيں سکواش کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ “برٹش اوپن” ميں شرکت کے لئے نا صرف نامزد کيا بلکہ انھيں چارٹرڈ طيارے پر لندن بھيجنے کا بندوبست بھی کيا۰ ہاشم خان نے اپنےپہلے ہی ٹونامنٹ کو جيت کر سکواش کے ورلڈ چارٹ پر پاکستان کا نام ثبت کر ديا۰ اس کے بعد انکی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور سکواش کےتمام ورلڈ ٹائيٹلز اور رينکگ پراسی خاندان کا چار دہائيوں تک راج اور قبضہ رہا اور انُہوں نے کسی بھی ورلڈ ٹائيٹل کو اس خاندان سے باہر نہيں جانے ديا۰
1- ہاشم خان۔ 1951,1956,1958
2- روشن خان-1958
3- اعظم خان- 1959-1962
4- محب الّلہ- 1963
5- قمر زمان- 1975
6- جہانگير خان- 1981-85,1988
7- جان شير خان- 1987, 1989,1990, 1990-96
اس کھيل کی کاميابی پاکستان ميں صرف ايک ہی خاندان کےمرحومِ منت اور اسی خاندان گرد گھومتی رہی اور انہوں نے ہی فتوحات کا پرچم پاکستان کے لئيے بلند کيے رکھا۰ ان کی اس کاميابی کے عوض اپنے اپنے وقت کی حکو متوں نے سب کو اعٰلی سِول اعزازات سے نوازااور اندرون اور بيرون مُلک ان سب کو زاتی حيثت ميں بہت پذيرائی ملی۰
مگر بطور کھيل اس کی سرپرستی کوئی بھی حکومتی ادارہ اس طرح نہ کر پايا جس کی يہ حقدار تھی۰
اب جب کےاس کھيل کی سر پرستی پاکستان ائير فورس کے ذمہ ہے مگر وہ اسقدر چست اور مستعد ادارہ ہونے کے باوجود پاکستان ميں اس کھيل سے نيا ورلڈ کلاس ٹيلنٹ نکالنے ميں کامياب نہ ہو پايا جو کہ پاکستان کا اس کھيل ميں خاصہ ہوا کرتا تھا۰ جب سے يہ کھيل اس خاندان سے ختم ہوا ہے تو پاکستان سے بھی نامور کھلاڑی نکلنا بند ہو گئے ہيں۰
اس کھيل کے زوال کی ايک وجہ اس کی عوامی سطح پر پذيرائی نہ ہونا ہے اور سکواش کورٹس کا نا پيد ہونا بھی ہے۰
اسوقت سکواش کورٹس آرمی، ائير فورس اور سوشل کلبوں ميں ہی پاے جاتے ہيں جن تک صرف اشرافيہ کی رسائی ہے اور عوام و ناس کی پہچ محدود ہے اور اشرافيہ صرف اپنی فٹنس کے لئے ہی سکواش کھيلتے ہيں۰ 1980کی دہائی ميں لاہور قذافی اور ہاکی سٹيڈيم کے ساتھ ايک سکواش کورٹ کی تعمير شروع ہوئی جو گرے سٹرکچر تک بن پايا اور اب وہاں جانوروں کا بسيرا ہے۰
حکومتِ وقت سے درخواست ہے کے اپنی توجہ اس کھيل کے فروغ پر بھی صرف کرئے جس نے نصف صدی تک پاکستان کا نام روشن کيے رکھا۰



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر