سینیٹ کے 48 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینیٹ کے 48 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا، حلف اٹھانے والوں میں پی ٹی آئی کے 19، پیپلز پارٹی کے8 ، جے یو آئی ف کے 3، مسلم لیگ نون کے 5 سینیٹر کے علاوہ دیگر بھی شامل ہیں۔حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) ناشتے پر 51 سینیٹرز پورے کرنے میں کامیاب ہوگئی، چیئرمین سینیٹ کے حکومتی امیدوارصادق سنجرانی نے اپوزیشن نشستوں پر جا کر ممبران سے ملاقات کی۔سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کیلئے حکومت کی جانب سے صادق سنجرانی کو اپنا اُمیدوار نامزد کیا گیا ہے جبکہ اپوزیشن اپنے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو اِس عہدے پر دیکھنا چاہتی ہے۔سینیٹ کی موجود صورتحال کے تناظر میں اپوزیشن اتحاد کے پاس 51 اراکین کی اکثریت اور حکومتی اتحاد کے پاس 47 اراکین ہیں،تاہم جماعت اسلامی کا ایک ووٹ اور ممکنہ طور پر بی این پی اور اے این پی کا ایک ایک ووٹ انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ، لہٰذا اس الیکشن میں ایک ایک ووٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔سینیٹ میں دلچسپ پارٹی پوزیشن کے حساب سے 100 کے ایوان میں 99 ارکان موجود ، اسحاق ڈار حلف نہ اٹھانے کے باعث ایوان کا حصہ نہیں ہیں، اگر موجودہ اور نو منتخب سینیٹر میں پی ڈی ایم اتحاد کو اکھٹا دیکھیں تو انکے ارکان کی تعداد 51 بنتی ہے۔اس میں پیپلز پارٹی کے 21،مسلم لیگ نون کے 17، نیشنل پارٹی کے 2، پی کے میپ کے 2،جمیعت علمائے اسلام ف کے 5، بی این پی کے 2 اور اے این پی کے 2 ارکان شامل ہیں۔دوسری جانب حکومتی اتحاد کو دیکھیں تو پی ٹی آئی کے 27، بلوچستان عوامی پارٹی کے 12، ایم کیو ایم کے 3، مسلم لیگ فنکشنل کا 1، مسلم لیگ ق کے 1 ، فاٹا کے 3 سینٹرز شامل ہیں ، اس طرح حکومتی ارکان کی تعداد 47 بنتی ہے۔ایسے میں ایک ووٹ بچتا ہے جو جماعت اسلامی کا ہے، جواب تک غیر جانبدار ہے۔سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں چند سوئنگ ووٹ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، ان میں ایک ووٹ تو جماعت اسلامی کا ہے ، جو حکومتی یا اپوزیشن اتحاد کسی کو بھی مل سکتا ہے یا وہ ووٹنگ سے غیر حاضر بھی رہ سکتے ہیں۔بلوچستان میں اے این پی اتحاد کا حصہ ہے، ان کا ایک ووٹ حکومتی اتحاد کی جانب جا سکتا ہے ، ایسے ہی آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والی رکن بلوچستان عوامی پارٹی کے ووٹ سے کامیاب ہوئیں وہ بی این پی کا حصہ ہیں، لیکن انکا ووٹ حکومتی اتحاد کو جا سکتا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہو گا لہذا اس میں سوئنگ ووٹ کا کلیدی کردار ہو سکتا ہے ۔واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے نو منتخب ارکان سینیٹ کا حلف اور چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لئے سینیٹ اجلاس آج صبح 10 بجے طلب کیا تھا ، مظفر حسین شاہ پریزائڈنگ افسر ہوں گے۔سینیٹ اجلاس کے جاری کر دہ ایجنڈے کے مطابق سیکرٹری سینیٹ پریزائیڈنگ افسرکا اعلان کریں گے۔سیکرٹری سینیٹ نومنتخب سینیٹرز کو ویلکم کریں گے، نو منتخب ممبران سینیٹ حلف اٹھائیں گے اور ممبران کے رول پر دستخط کریں گے۔ اس کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے الیکشن کےشیڈول کااعلان کیاجائیگا اور اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا۔سینیٹ کا اجلاس پھر دوبارہ 3 بجے ہوگاجس میں چیئرمین سینیٹ کیلئے امیدواروں کا اعلان کیا جائیگا، خفیہ بیلٹ کےذریعے چیئرمین سینیٹ کا الیکشن ہوگا جس کے بعد نتائج کا اعلان ہوگا، نومنتخب چیئرمین سینیٹ حلف اٹھائیں گے۔اس کے بعد



  تازہ ترین   
انتظار کریں اور دیکھیں ایران کیخلاف کیا کرتے ہیں، صدر ٹرمپ کی نئی کارروائی کی دھمکی
زیلنسکی کی برطانوی وزیراعظم سے ملاقات، یوکرین کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال
سعودیہ پر حملوں کے منفی اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں: آئی ایم ایف نے خبردار کر دیا
سائبر خطرات نئی سطح پر پہنچ گئے، روس ڈیجیٹل خودمختاری مزید مضبوط کرے گا: صدر پوتن
ایران نے 40 روزہ جنگ کے بعد اسلحہ خانہ جدید ہتھیاروں سے مضبوط بنا لیا، پاسدارانِ انقلاب
سعودیہ پر حملوں میں اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے: عراقی وزیراعظم کی یقین دہانی
امریکا کو ایرانی قوم کے جائز مطالبات تسلیم کرنے ہوں گے، باقر قالیباف
قومی اسمبلی، سینیٹ اجلاس: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد منظور، اپوزیشن کا واک آؤٹ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر