نیویارک(نیشنل ٹائمز)انسانی دماغ اور کمپیوٹر کے باہمی تعلق (انٹرفیس) کےضمن میں اب ایک نئی ایجاد منظرِ عام پرآئی ہے۔ ان انتہائی باریک برقی ذرات کو ’نیورگرینس‘ یا عصبی ذرات کا نام دیا گیا ہے۔ یہ خود کار وائرلیس سینسر ہیں جن کی جسامت نمک کےبرابر ہے جو نہ صرف دماغ کی برقی سرگرمی کو نوٹ کرتے ہیں بلکہ دماغی کو تحریک دینے کا کام بھی کرسکتےہیں۔برین کمپیوٹرانٹرفیس ( بی سی آئی) کے تناطر میں بہت تحقیق ہورہی ہے کہ کسی طرح بیرونی طور پر دماغ کو سگنل پہنچا کران کےنقائص کا ازالہ کیا جائے۔ اس کےلیے عموماً مائیکروچپ کو دماغ کے اندر نصب کیا جاتا ہے اور اس کی بدولت بیرونی آلات مثلاً کمپیوٹر اور وھیل چیئر وغیرہ کنٹرول کئے جاتے ہیں۔
’برقی عصبی دانوں‘ سے دماغی امراض کا نیا علاج ممکن



