کابل(نیشنل ٹائمز)طالبان اور سرکاری فورسز کے درمیان کئی ہفتوں کی شدید جھڑپوں کے بعد طالبان عسکریت پسندوں نے جمعہ کے روز افغانستان کے جنوب میں واقع اہم شہروں لشکر گاہ اور قندھار پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر کہا ہے کہ انہوں نے جمعرات کی رات صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں صوبائی پولیس ہیڈ کوارٹرز سمیت سرکاری دفاتر پر قبضہ کر لیا۔ ہلمند گزشتہ دو دہائیوں کے دوران طالبان کامضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے لیکن افغان فوجیوں کا لشکر گاہ اور کئی مضافاتی اضلاع پر کنٹرول برقرار تھا۔انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ عسکریت پسندوں نے ہمسایہ صوبہ قندھار کے دارالحکومت قندھار شہر کے تمام حصوں پر قبضہ کر لیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج کے مطابق طالبان جنگجو جمعہ کو صبح سویرے شہر میں گشت کر رہے تھے۔طالبان نے جمعرات کی رات اعلان کیا کہ انہوں نے ملک کے مغربی حصے میں ہرات اور قلعہ نو شہروں پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مغربی شہر فیروز کوہ بھی طالبان کے قبضے میں آگیا ہے۔افغان حکومت نے تاحال طالبان کے اس دعوی کی تصدیق نہیں کی ہے۔افغانستان میں مئی کے بعد سے لڑائی نے شدت اختیار کی ہے اور طالبان عسکریت پسندوں نے حال ہی میں بڑے شہروں پر دبا بڑھا دیا ہے۔
طالبان کا افغانستان کے 2 بڑے شہروں پر کنٹرول کا دعوی



