مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو دو سال مکمل، مقبوضہ وادی میں یوم سیاہ کشمیر منایا گیا

سرینگر (آئی این پی ) بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے دو سال مکمل ہو نے پر مقبوضہ وادی میں یوم سیاہ منایا گیا، کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر تنظیموں کی جانب سے ہڑتال کی کال پر مکمل ہڑتال کی گئی ،سرینگر میں لال چوک تک مارچ روکنے کے لیے بھارتی فوج تعینات کر دی گئی ہے اور سرینگر کے داخلی و خارجی راستے رکاوٹیں لگا کر بند کر دیئے گئے ۔ جمعرات کو مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت پر بھارت کے ڈاکے کو دو سال گزر گئے جس کے خلاف کنٹرول لائن کے دونوں جانب یوم استحصال کشمیر منایا گیا ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے 2 سال مکمل ہونے پر کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر تنظیموں کی جانب سے ہڑتال کی کال پر مکمل ہڑتال ہے اور مقبوضہ وادی میں اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر میں لال چوک تک مارچ روکنے کے لیے بھارتی فوج تعینات کر دی گئی ہے اور سرینگر کے داخلی و خارجی راستے رکا وٹیں لگا کر بند کر دیئے ۔مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند رہنما سید علی گیلانی نے کہاہے کہ تاجروں کو ہڑتال کرنے پر بھارتی پولیس نے سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے، تاجروں کو ہڑتال سے باز رکھنے کے لیے دھمکی بھارتی پولیس کا نیا ہتھکنڈا ہے۔ حریت کانفرنس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مقبوضہ وادی میں 5 اگست سے 15 اگست تک عشرہ مزاحمت منایا جائے گا، 11 اگست کو شیخ عبدالعزیز اور دیگر شہدا کے یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کریں گے۔ حریت کانفرنس کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر 14 اگست کو ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا جبکہ 15 اگست کو بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ یاد رہے 5 اگست 2019 کو آر ایس ایس کے انتہا پسندانہ نظریہ پر کاربند مودی سرکار نے بھارتی پارلیمان سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو کالعدم قرار دلوا کر مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کر دی اور لداخ کو کشمیر سے الگ کر کے وفاق کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا۔ اس اقدام کے ساتھ ہی مقبوضہ سرزمین پر آبادی کا تناسب بدلنے کے منصوبے کا آغاز ہوا، مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کو اقلیت بنانے کی مکروہ منصوبہ بندی کی گئی، بھارت بھر سے ہندوں کو بلا کر انہیں کشمیر کا ڈومیسائل دیا گیا اور کوڑیوں کے بھا وزمین الاٹ کی گئی۔ کشمیریوں کے ردعمل کے خوف سے بھارت نے فوج کی تعداد 8 لاکھ سے بڑھا کر 9 لاکھ کر دی، وادی کو قید خانے میں بدل دیا مگر کشمیریوں کی آواز بند نہ کی جاسکی۔ بہادر کشمیری سر بکف ہوگئے۔ نہتے مظاہرین پر پیلٹ گنز اور گولیاں برسائیں گئیں، سینکڑوں ماں کی گود اجاڑ دی گئی، سینکڑوں خواتین بیوہ ہوگئیں، ہزاروں نوجوان بینائی سے محروم ہوگئے۔ کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں بھارتی فوج نے 15 ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا، 410 نوجوانوں کو شہید کیا، 59 کشمیریوں کو قید میں اذیتیں دے کر مارا گیا۔ 2 ہزار سے زائد نوجوان مظاہروں اور جیلوں میں زخمی ہوئے۔ 1 ہزار سے زائد گھروں کو جلا دیا گیا اور 115 خواتین کی عزتیں لوٹیں گئیں۔ اس دوران عالمی برادری خاموش تماشائی بنی رہی، نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کے خلاف کوئی اقدام کیا گیا اور نہ ہی سلامتی کونسل نے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کی۔



  تازہ ترین   
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے پا گیا
آزاد کشمیر انتخابات کا تیسرا مرحلہ، پونچھ اور پلندری میں پولنگ ملتوی
ترک صدر آج سعودیہ پہنچیں گے، شہباز شریف، محمد بن سلمان سے ملاقات طے
خیبرپختونخوا میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 10 خارجی ہلاک
عدالت نے ایل پی جی کمپنیوں کی اضافی پریمیم وصولی فوری روک دی
سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت
تحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی، ایاز صادق کا مؤقف
تھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 9 افراد ہلاک، 15 زخمی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر