کراچی(نیشنل ٹائمز) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ بجٹ میں صحت کے شعبہ کے لئے 21.72ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ حالات میں ناکافی ہیں جبکہ ہومیوپیتھی سمیت متبادل طریقہ علاج کے تمام شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ملک صحت عامہ کے سنگین بحران سے گزر رہا ہے جس سے نمٹنے کے لئے مزید فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہ بات کمال لیبارٹری کے سی ای او ڈاکٹر اسد پرویز قریشی، ڈاکٹر امتیاز گوندل ، ڈاکٹر اعظم اور دیگر سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انھوں نے کہا کہ صحت عامہ کا ملک کی اقتصادی ترقی سے بنیادی تعلق ہے اس لئے اس شعبہ کو بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک پڑوسی ملک میں ہومیو پیتھی کی درجنوں یونیورسٹیاں اور دو سو پچیس کالج ہیں جبکہ بجٹ میں اس شعبہ کی ترقی کے لئے اربوں روپے رکھے جاتے ہیں مگریہاں اسے سرکاری سطح پر مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔پاکستان میں ہر صوبے میں ایک ہومیوپیتھک کالج اور عالمی معیار کے ایک ریسرچ سینٹر کی فوری ضروری ہے۔ اگر حکومت ت وجہ دے تو ملک بھر میں ہومیوپیتھک ڈسپنسریوں کا جال بچھا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر اسد پرویز قریشی فری میڈیکل کیمپس میں مفت ادویات فراہم کر رہے ہیں جو انسانیت کی خدمت ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر اسد پرویز قریشی نے کہا کہ ہومیو پیتھک علاج سستا اور ادویات بے ضرر ہیں ۔ اس طریقہ علاج کے سائیڈ افیکٹس نہیں ہوتےاور اس سے ہاضمہ خراب ہوتا ہے نہ انسان کی وقت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔ری ایکشن سے پاک اس طریقہ علاج کو سرکار کی فوری سرپرستی کی ضرورت ہے۔
بجٹ میں متبادل طریقہ علاج کو نظر انداز کیا گیا ہے



