اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ میں نے پریس کانفرنس میں 2 ججز کی بات کی تھی، اگر کوئی غلطی کی ہے تو معافی مانگوں گا، عدالت کا جوفیصلہ بھی ہوا اس پر عمل کروں گا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت نے ابھی مصطفیٰ کمال کا کیس سنا ہے، جب میرا کیس سنا جائے گا تو پتا چلے گا، معافی مانگنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن معافی کیلئے کوئی کام غلط بھی تو ہونا چاہیے، معافی تو تھڑے پر بیٹھے انسان سے بھی مانگی جاسکتی ہے، اس حوالے سے عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر عمل کروں گا۔
فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی والوں نے میری پریس کانفرنس پر ٹرولنگ کیں، مولانا فضل الرحمان نے بھی باتیں کیں، میں نے عدلیہ کے وقار کو140 ویں نمبر سے پہلے نمبر پر دیکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ اگر انصاف کا نظام ٹھیک ہوگیا تو پاکستان ترقی کرے گا، اس لیے اپنی پریس کانفرنس میں خط کی بات کی تھی، پریس کانفرنس میں 2 ججز کی بات کی تھی، چیف جسٹس اور ان کے بینچ کی پہلے بھی عزت کی ہے، تمام عدالتوں کا احترام کرتا ہوں۔
بتایا جارہا ہے کہ سینیٹر فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں غیر مشروط معافی مانگنے سے گریز کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا، جس میں کہا گیا ہے کہ دفاعی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے خلاف مہم زور پکڑ رہی ہے، اس صورتحال میں پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین کرنا نہیں تھا بلکہ پریس کانفرنس کا مقصد ملک کی بہتری تھا، سپریم کورٹ توہین عدالت کی کاروائی کو آگے بڑھانے میں تحمل کا مظاہرہ کرے، استدعا ہے توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی عزت کرتا ہوں، کسی بھی طریقے سے عدالت کا وقار مجروح کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، عدالت کو عوام کی نظروں میں بے داغ ہونا چاہیئے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے مسائل سے نکلنے کا واحد راستہ ایک منصفانہ، مؤثر اور مضبوط عدالتی نظام میں مضمر ہے جس پر پاکستان کے عوام کا مکمل اعتماد ہے، جج کا بنیادی فرض عوام کے سامنے انصاف کی تصویر پیش کرنا ہے۔



