اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے کہا ہے کہ بند کمروں میں آئی ایم ایف کا بجٹ بنا کر عوام کا سودا کیا جارہاہے ،گردشی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، ہر پاکستانی بچہ پونے دو لاکھ کا مقروض ہے،ملک میں بمپر کر اپس ہونے کے باوجود اشیاء خورد ونوش کی قیمتوں میں کمی نہیں آئی،رنگ روڈ کے سکینڈل کے علاوہ1200ارب روپے کا کورونا کا سکینڈل ہے، کرپشن کرنے والوں کو کلین چٹ دی جاری ہے،سندھ اور کے پی کو پانی نہیں مل رہا، ملک میں غربت کی سطح نو فی صد بڑھی ہے،پٹرولیم لیوی دس روپے سے تیس روپے تک بڑھا کرپٹرول کی قیمت میں بیس روپے اضافہ کرنے جارہے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی فارن آفس کی افغان بارے بریفنگ کو مسترد کرتی ہے، پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن میں اس ایشو پر بات کی جائے ۔ان خیالات کا اظہار رکن اسمبلی شازیہ مری ، پیپلز پارٹی کےسیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی رکن اسمبلی سید حسین طارق، پیپلز پارٹی کے فنانس سیکرٹری حید ر زمان قریشی اورنذیر ڈھوکی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شازیہ مری نے کہا کہ گیارہ جون کو بجٹ آرہاہے،جس گروتھ ریٹ کا حکومت دعویٰ کر رہی تھی وہ گروتھ ریٹ نہیں ہے، حکومت الفاظ کے گورکھ دھندے میں پڑی ہوئی ہے،2.3کھرب کے گردشی قرضے ہیں جو بڑھ رہے ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، آئی ایم ایف سے پاس کردہ بجٹ پیش کیا جارہا ہے، بند کمروں میں آئی ایم ایف کا بجٹ بنا کر عوام کا سودا کیا جارہاہے ،ہم نے آئی ایم ایف سے ڈیل کو پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کیاہے،ملک میں مہنگائی اور کرپشن بڑھ چکی ہے،عمران خان بتائیں کہ پاکستانی بچہ کتنا مقروض ہے؟ہر پاکستانی بچہ پونے دو لاکھ کا مقروض ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ آج سب سے بڑا کرپٹ آدمی عمران خان خود ہے، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل میں بھی ہماری رسوائی ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم متواتر آئی ایم ایف سے قرضے لے رہا اور آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حکومت کی کونسی کرپشن کہانی کی بات کریں، ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے،ملک میں بمپر کر آپس ہونے کے باوجود اشیاء خورد ونوش کی قیمتوں میں کمی کیوں نہیں آئی ،کیا روٹی ،چینی،آٹا،دوائیاں اور دیگر ضرورت کی اشیا سستی ہوئی ہیں؟رنگ روڈ کا سکینڈل آپ کے سامنے ہے،1200ارب روپے کا کورونا کا سکینڈل ہے، کرپشن کرنے والوں کو کلین چٹ دی جاری ہے،جہانگیر ترین کی انکوائری کے لئے بنائی گئی کمیٹی کی کیا قانونی حیثیت ہے ؟انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی فارن آفس کی افغان بارے بریفنگ کو مسترد کرتی ہے، پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن میں اس ایشو پر بات کی جائے،ملک میں دہشت گردی ڈکٹیٹر ز کے دیے گئے تحفے ہیں، فاٹا میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے سندھ کو اُس کا حق نہیں دیا جارہا ہے سندھ کے علاوہ وزرا اعلیٰ خاموش بیٹھے رہتے ہیں، وزیراعظم کے ساتھ یوٹرن اور جھوٹ کے علاوہ سب معاملات پرپارلیمنٹ میں ڈبیٹ کرنے کے لیے تیار ہیں، حکومت نے چیئرمین نادر طارق ملک کو تعینات کیا ہے ،پیپلز پارٹی کی ٹیم کے اچھے افسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڻ سندھ پانی کے لئے رو رہا ہے،کےپی کے وزیر اعلیٰ گونگے ہیں، کے پی میں پانی کم ہے کےپی کے وزیر اعلی ٰصوبے کا کیس نہیں لڑتا اس لئے پانی کے معاملے پر وزیراعظم کو براہ راست خط لکھیں گے۔ حسین طارق نے کہا کہ حکومت نے ہر معاملے پر یو ٹرن لیا ہے، عوام کو ایک پیسے کی سبسڈی نہیں دی، حکومتی تخمینہ عوام کو چکمہ دینے کے لیے ہوتاہے، ملک پر تباہی سرکار مسلط ہے، مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے،بجٹ کے بعد ایک اور منی بجٹ لایا جائے گا، پی ٹی آئی کے تین سال میں گروتھ ریٹ نہیں بڑھی منفی اعداد و شمار میں جارہے ہیں۔ حیدر زمان قریشی نے کہا کہ حکومت نے ہر معاملے پر یو ٹرن لیا ہے، عوام کو ایک پیسے کی سبسڈی نہیں دی ،حکومت تخمینہ عوام کو چکمہ دینے کے لیے ہوتے ہیں ملک پر تباہی سرکار مسلط ہے، مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے، ملک میں غربت کی سطح نو فی صد بڑھی ہے، ملک میں ایک کروڑ نوجوان بے روزگار ہوئے ہیں، ملک پر ٹیکس کی بھر مار کردی ہے ،گردشی قرضوں میں اضافہ ہورہا ہے ،پٹرولیم لیوی دس روپے سے بڑھ کر تیس روپے تک بڑھا رہے ہیں، پٹرول کی قیمت میں بیس روپے اضافہ کرنے جارہے ہیں، بجٹ کے بعد ایک اور منی بجٹ لایا جائے گا ،پی ٹی آئی کے تین سال میں گروتھ ریٹ نہیں بڑھی منفی اعداد و شمار میں جارہے ہیں۔حکومت نے تمام شعبوں میں مختص کیئے جانیوالے فنڈ ز کی پوری رقم فراہم نہیں کی بلکہ اہم شعبوں کو مختص رقم ادا نہیں کی۔کورونا کے دوران عوام کیلئے ،یوٹیلٹی سٹورز،پناہ گاہیں و لنگر خانے،انڈسٹری،گیس،زراعت سمیت تمام اہم شعبوں کو پورے فنڈز نہیں دیئے گئے تاہم این ڈی ایم کو کیلئے مختص کیئے گئے تمام فنڈز فراہم کیئے گئے۔
بند کمروں میں آئی ایم ایف کا بجٹ بنا کر عوام کا سودا کیا جارہاہے ،پیپلزپارٹی کا سنگین الزام



