شاسلام آ باد (نیشنل ٹائمز ) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ہمیں امداد نہیں تجارت چاہیے، وزیراعظم جہاں بھی جائیں یہی کہتے ہیں ہم کشکول توڑنا چاہتے ہیں، وزیراعظم بیرون ممالک جا کر کہتے ہیں ہمیں سرمایہ کاری چاہیے، ایس آئی ایف سی کے اندر 7 ڈیسک قائم ہوں گے، چائنہ، یو اے ای، سعودی عرب، قطر، یورپی یونین، امریکا اور فارایسٹ کو شامل کیا گیا ہے، ان تمام ڈیسک سے بہت مدد ملے گی اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، آپ کو نظر آئے گا جلد معاہدوں پر دستخط ہوں گے اور سرمایہ کاری آئے گی، جلد وزیراعظم چین کا دورہ کریں گے اس کی بھرپور تیاری جاری ہے، آئی ایم ایف کا وفد بھی یہاں سے مثبت پریس ریلیز جاری کر کے گیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریاض میں ورلڈ اکنامک فورم میں وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ بات کی کہ غزہ میں امن کے بغیر دنیا میں امن نہیں ہوسکتا، ریاض کا وہ ہال اس بات پر تالیوں سے گونج اٹھا تھا، یہ مقامات ہوتے ہیں جب آپ اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں، وزیر اعظم نے ناروے اور آئرلینڈ کی وزرائے اعظم سے بھی بات چیت کی ہے تو اس کا اچھا اثر پڑے گا اور مظلوم فلسطینیوں کو پتا چلے گا کہ کچھ ممالک ان کے حوالے سے بات کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین میں امن کے خواہاں ہیں، یہ جو دوسرے ممالک کے ساتھ روابط ہیں یہ بہت اہم ہے، ہم اس پر اظہار یکجہتی کرتے ہیں، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ دیرپا امن کے لیے اس کوئی حل نکلے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری کونسل میں اہم فیصلہ ہوا سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے، وزیر اعظم جہاں جارہے ہیں وہ بات کر رہے ہیں کہ ہم کشکول توڑنا چاہتے ہیں، ہمیں مالی امداد نہیں چاہیے ہم سرمایہ کاری اور تجارت چاہتے ہیں، ایس آئی ایف سی کو بہت پذیرائی مل رہی ہے جو دوست ممالک ہیں ان کے سرمایہ کار بہت خوش ہیں کہ ایک ہی فورم سے ان کے تمام معاملات حل ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ 7 ڈیسک قائم کیے جائیں گے جن میں چائنا ڈیسک، قطر ڈیسک، یو اے ای ڈیسک، سعودی ڈیسک، یورپی یونین ڈیسک، امریکا ڈیسک اور فار ایسٹ ڈیسک شامل ہیں، یہ ڈیسک ایس آئی ایف سی کے اندر قائم کیے گئے ہیں، جن کی توجہ سرمایہ کاری لانے اور تجارت کے حجم کو بڑھانے پر مرکوز ہوگی، متحدہ عرب امارات کی سرکاری ایجنسی نے 10 ارب ڈالر مختص کرنے کی خبر ریلیز کی، سعودی عرب کے ساتھ بھی 5 ارب ڈالر کی بات چیت چل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا چین کا دورہ ہونے والا ہے اور یہ بہت اہمیت کا حامل ہے سی پیک کے ھوالے سے اور سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے حوالے سے، آئی ایم ایف نے بھی مثبت پریس ریلیز جاری کی ہے، تجارتی خسارہ ہمارا کم ہوا، آئی ٹی ایکسپورٹس بڑھی، مہنگائی کم ہوئی، زر مبادلہ کے ذخائر بھی بڑھ ہیں، معیشت بہتر ہورہی ہے، میکینز ی کو ہائر کیا گیا ہے ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے، پی آئی اے کی نجکاری پر بھی کام چل رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کچھ ملک دشمن قوتیں اس وقت سرگرم ہیں، آج کی حکومت کو 1971 سے ملایا جارہا ہے تو یہ کون لوگ ہیں؟ یہ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں، پاکستان تا قیامت رہے گا اور پاکستان 27ویں رمجان کو بنا تھا اس پاکستان نے ترقی کرنی ہے اور آگے بڑھنا ہے، یہ لوگ جو خود کو شیخ مجیب سے ملاتے ہیں اس کا مقصد وہی ہے جو ہمیشہ ہوتا ہے، ایک جگہ عمران خان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا کہ اگر میں نا رہا تو پاکستان ٹوٹ جائے گا تو یہ اپنی سیاسی بقا کو پاکستان کی سلامیت سے جوڑتے ہیں، آپ چھوٹے مفادات کی خاطر پاکستان کے مفادات کو دا پر لگا دیتے ہیں۔
ہم کشکول توڑنا چاہتے ہیں، ہمیں امداد نہیں تجارت چاہیے ، عطا تارڑ



