پشاور(نیشنل ٹائمز)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے انتخابی دھاندلی کے خلاف 9 مئی کو اگلا لائحہ عمل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو جعلی اسمبلیوں سے چلایا جا رہا ہے، ہم ملک بچانے نکلے ہیں اور آزادی کی تحریک کے ذریعے مسلط نظام کا خاتمہ کر کے حقیقی جمہوریت بحال کرینگے۔ 9مئی کو پشاور میں جمعیت علما اسلام کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، ہندوستان دنیا کی سپر طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے جبکہ پاکستان ڈیفالٹ سے بچنے کی تگ و دو کررہا ہے، نجی ٹی وی کے مطابقمفتی محمود مرکز پشاور میں منعقدہ تنظیمی اجلاس سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہجے یو آئی نے ہمیشہ انتخابی دھاندلی کے خلاف صف اول کا کردارادا کیا، 1977میں بھی دھاندلی کے خلاف مولانا مفتی محمود نے تحریک کی قیادت کی، 2018میں بھی بدترین دھاندلی ہوئی اور آج 2024میں بھی وہی ڈرامہ رچایا گیا، کل دھاندلی کے لیے آواز اٹھانے والے آج دھاندلی پر خاموش کیوں ہیں؟۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اقتدار کی جنگ لڑنے والوں نے دھاندلی سے اقتدار حاصل کرلیا، ہم غلامی کسی طور پر قبول نہیں کریں گے، ایوان اور پارلیمنٹ سے جے یو آئی کو دور رکھنے والے سن لیں ہم میدانوں میں آپ کے ظلم وجبر کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ گزشتہ 76سالوں سے ملک کو سیاسی معاشی اور جمہوری طور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا، ہم ملک بچانے نکلے ہیں اور آزادی کی تحریک کے ذریعے مسلط نظام کا خاتمہ کر کے حقیقی جمہوریت بحال کرینگے۔انہوں نے کہا کہ آج اسرائیل اور اس کے حواریوں نے غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم وجبر کا بازار گرم کر رکھا ہے معصوم بچوں خواتین بوڑھوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، جمعیت علما اسلام مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ظلم وجبر کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے، کوئٹہ اور کراچی کے بعد 9مئی کو پشاور میں عوامی میدان لگے گا اور قوم کو ملک کے خلاف ہونیوالی سازشوں سے آگاہ کیا جائے گا، کچھ قوتیں عوام کے ووٹ کے حق کو پامال کرتی ہیں بلکہ یرغمال بنا لیتی ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 2018 میں جب جھرلو پھیرا گیا تو ہم میدان میں اتر کر اس کا مقابلہ کیا،جب تک سیاسی جماعتوں میں یکسوئی نہیں ہے اس وقت تک جمعیت علمائے اسلام اپنے ہی پلیٹ فارم سے اس تحریک کو آگے بڑھائے گی۔ ہمارے ادارے ہمارے عقائد کو چھیڑ رہے ہیں بڑے معصومانہ انداز اور الفاظ سے چھیڑ رہے ہیں ہم اس کا تعاقب کریں گے، لوگوں کو میدان میں نکالیں اور بتائیں کہ اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سپر طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے جبکہ پاکستان ڈیفالٹ سے بچنے کی تگ و دو کررہا ہے، جمیعت علما اسلام ہمارے پاس اکابرین کی امانت ہے، ان کی آزادی کی تحریک آج ہمارے پاس امانت ہے،جو قوتیں آج ہمارے ملک کی غلامی کی ذمہ دار ہیں ان کی گرفت کو کمزور کردیا جائے۔
مولانا فضل الرحمن کا انتخابی دھاندلی کے خلاف 9 مئی کو اگلا لائحہ عمل دینے کا اعلان



