غزہ(نیشنل ٹائمز) فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں خاندانوں کے خلاف 6 قتل عام کیے جن میں 62 فلسطینی شہید اور 91 زخمیوں کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہسپتالوں میں داخل کیا گیا۔
وزارت نے اپنی روزانہ کی اپ ڈیٹس میں کہا کہ متعدد متاثرین اب بھی ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر ہیں اور ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ ان تک نہیں پہنچ سکتا۔وزارت صحت نے بتایا کہ گذشتہ اکتوبر کی سات تاریخ سے اب تک اسرائیلی جارحیت میں 32,552 شہید اور 74,980 زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ کے الشفاء ہسپتال میں 200 افرادشہید اور 1000 گرفتار
فلسطینی سرکاری میڈیا آفس نے کہا ہے کہ “اسرائیلی” قابض فوج الشفاء میڈیکل کمپلیکس اور اس کے اندر اور اس کے آس پاس موجود لوگوں کے خلاف اپنا جرم جاری رکھے ہوئے ہے۔ قابض فوجیوں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ کمپلیکس کے اندر سے انہوں نے 200 سے زائد بے گھر شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جب کہ ایک ہزار افرادکو جبری طورپر اغواء کرکے نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا گیا ہے۔
سرکاری میڈیا آفس کی سربراہ سلامہ معروف نے ایک پریس بیان میں مزید کہا کہ کمپلیکس کی عمارتوں کے اندر موجود طبی عملے اور بے گھر افراد کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ان کے سروں کے اوپر موجود عمارتوں کو بمباری سے تباہ کر دیا جائے گا۔ وہ تفتیش کے لیے باہر جائیں گے تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا اور انہیں شہید کردیا جائے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ الشفا میڈیکل کمپلیکس اور اس کے اطراف سے کچھ زندہ بچ جانے والوں کی شہادتوں کے مطابق قابض ٹینکوں نے کمپلیکس کی کئی عمارتوں پر بمباری کی اور اس کے بڑے حصوں کو آگ لگا دی، جب کہ وہ بمباری کرتے رہے اور گھروں اور شہریوں کو نشانہ بناتے رہے۔ ارد گرد کے علاقوں میں گھروں کو بشمول ان کے رہائشیوں کے سروں پر بمباری کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عینی شاہدین نے عندیہ دیا کہ قابض فورسز نے کچھ رہائشی عمارتوں کو سختی سے بند کر دیا جن میں رہائشی موجود تھے اور ان عمارتوں کو شیلنگ اور سنائپرز سے نشانہ بنایا جس سے ابتدائی طبی امداد نہ ملنے سے متعدد شہری شہید اور زخمی ہو گئے۔



