اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری جنگ بندی کی منظور شدہ قرارداد پر اب تک عمل نہ ہوسکا، اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے علاقے المواصی میں مزید 12 فلسطینی شہید کردیے۔
قطری نشریاتی ادارہ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے خان یونس میں فلسطینیوں کے خیموں پر بم گرادیے، جبکہ اسرائیلی فوجیوں نے نصیر ہسپتال کا مکمل محاصرہ کیا ہوا ہے جہاں مریضوں کو مسلسل فائرنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی برائے فلسطین فرانسسکا البانیز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کو تباہ کرنے کے لیے 25 ہزار ٹن بارود استعمال کرچکا ہے، انہوں نے کہا کہ اسرائیل یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ غزہ میں مارے جانے والے مرد حماس کے جنگجو تھے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے نائب فوجی کمانڈر مروان عیسیٰ رواں ماہ کے شروع میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ جب کہ حماس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس ان کی موت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 32 ہزار 414 فلسطینی شہید اور 74 ہزار 787 زخمی ہو چکے ہیں۔ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے میں اسرائیل میں مرنے والوں کی تعداد 1,139 ہے۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد 25 مارچ کو اسرائیل کے اتحادی امریکا کی عدم شرکت کے بعد منظور کی گئی۔
یہ قرارداد مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اسرائیل نے امریکا کی ووٹنگ سے پرہیز کرنے کے عمل پر شدید ردعمل کا اظہار کیا کیونکہ ایسا کرنے سے امریکا نے سلامتی کونسل کے دیگر 14 ارکان کو قرارداد کو منظور کرنے کی اجازت دی۔ واضح رہے کہ غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ پہلی قرارداد ہے جس میں جنگ کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔



