یہ الگ بات کہ اپنی نا اہلی اور مفاد پرستی کے سبب پاکستان کی بے ہنر قیادت کسی دور میں بھی استفادہ سے محروم رہی ورنہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کا کمال یہ ہے کہ اسے کسی وقت بھی عالمی سیاست سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس وقت جب بھارتی اورامریکی واسرائیلی لابیاں پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں، دنیا کے تمام اہم دارالحکومتوں اور میڈیا میں سب سے بڑی خبر اور بحث پاکستان ہے ۔ امریکہ سمیت دنیا منتظر ہے کہ امریکہ کو اڈے دینے کے حوالہ سے پاکستان کیا فیصلہ کرتا ہے؟ امریکہ ، چین اورروس کی تمام تر سفارتی سرگرمیاں اسی ایک پوائنٹ پر فوکس ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکی اڈے کا مقصد صرف طالبان پرنظر رکھنا ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے ، اگر ایسا ہوتا تو چین ، روس ، ایران اور عرب ریاستوں یہاں تک کہ اسرائیل تک کو اس میں کوئی دلچسپی نہ ہوتی اور امریکہ بھی چترال یا کسی دوسرے علاقے میں اڈے کا مطالبہ کرتا ۔ امریکہ کی جانب سے گوادر یا اس کے قریب کسی مقام پر اڈے کے لئے اصرار بتاتا ہے کہ طالبان کا بہانہ ہے ،جبکہ سی پیک اور گوادر اس کا نشانہ ہے ۔ سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ گوادر میںایسا کیا ہے کہ پوری دنیا کے اہم دارالحکومت کسی نہ کسی طرح دلچسپی لے رہے ہیں اور امریکہ ،چین اور روس میں باقاعدہ افراتفری جیسی سرگرمیاں جاری ہیں ۔اس کا جواب گوادر کی جغرافیائی اہمیت اور آبنائے ہرمز سے اس کے تعلق میں پنہاں ہے ۔دوسری جانب یہم بھی حقیقت ہے کہ گوادر آج دنیا کی کشمکش کا مرکز نہیں بنا بلکہ یہ کشمکش پون صدی پرانی ہے جسے جانے بغیر گوادر کی اہمیت اور حالیہ کشمکش کو سمجھنا ناممکنات میں سے ہے ۔
سٹریٹجی کے عالمی ماہرین کی متفقہ رائے ہے پاکستان اسی روز عالمی سیاست کا محور بن گیا تھا جب اس نے اپنی کسمپرسی کے باوجودچپکے سے گوادر کی ویران ساحلی پٹی بھاری معاوضے پر خرید کر بھارت اور امریکہ کو یہاں سے چلتا کیا ۔ قیام پاکستان کے وقت گوادر ریاست عمان کا حصہ تھا ، ساحل مکران کا یہ حصہ عمان کی عملداری میں کیسے گیا ،یہ ایک لمبی تاریخ ہے جس کا یہاں موقع نہیں لیکن یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ ریاست عمان کے اس حصے کو بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک مورچے کی شکل دے رکھی تھی ، یہاں بھارتی کرنسی اور ہندو تاجروں کا راج تھا ، جو پاکستانی معیشت کو سمگلنگ کے ناسور کے ذریعہ سے تباہی سے دوچار کئے ہوئے تھے ، بھارت کو یقین تھا کہ وہ ریاست عمان سے گوادر حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا ۔ عالمی جریدے ٹائمز کا انکشاف ہے کہ امریکہ بھی ان دنوں گوادر کی کاروباری اور تزویراتی حیثیت کے سبب اسے حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا ۔ جبکہ ایران گوادر کو چاہ بہار کے ساتھ ملانے کی خواہش ہی نہیں رکھتا تھا بلکہ عمان کو طاقت کے ذریعے گوادر چھین لینے کی دھمکی بھی دے چکا تھا ،کہا جا سکتا ہے کہ
چہرے وہی پرانے ہیں ،دشمن بھی جانے پہچانے ہیں انداز محبت مگر بدل گیا ہے،جذبہ رقابت بدل گیا ہے
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اپنی بقا ء کی جنگ لڑتا پاکستان عالمی طاقتوں کے جبڑوں سے یوں گوادر چھین لے جائے گا ، مگر یہ ہونا تھا، ہو کر رہا ۔پاکستان نے 1949 میں ہی گوادر کے حصول پر سنجیدگی سے توجہ دینی شروع کردی تھی ،1956میںجب فیروزخان نون وزیر خارجہ بنے تو انہوں نے یہ فائل دوبارہ نکلوائی اور عمان سے سلسلہ جنبانی کاآغاز کیا ،اگلے ہی برس 1957میں جب وہ وزیر اعظم بن گئے اور بلوچ سردار ہمارے دوست نواب اکبر بگتی وزیر دفاع بنائے گئے تو ان دونوں نے اس پر کام کو خفیہ مگر تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھایا ، وزارت خارجہ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ فیروزخان کی اہلیہ وکٹوریہ جس کا اسلامی نام وقار النساء تھا ،انہوں نے اپنی برطانوی شہریت اور تعلقات کو بھرپور استعمال کرتے ہوئے اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم کی حمائت حاصل کی اور عمان کو گوادر پاکستان کے حوالہ کرنے پر راضی کرلیا گیا ، جس کی قیمت اس وقت کے آغا خان نے ادا کی ۔
ستمبر1958 میں گوادر کے انضمام کا اعلان اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم فیروز خان نون نے پارلیمان کے اجلاس میں کیا اور قوم کو بتایا کہ عمان کے سلطان اعلیٰ حضرت سعید بن تیمور نے یہ علاقہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت پاکستان کے حوالے کیا ہے۔ رسمی طور پر قبضہ حاصل کرنے کے لئے وفاقی حکومت کے سیکریٹری کابینہ آغا عبدالحمید سمندری راستے سے کراچی سے گوادر پہنچے تو وہاں کی مقامی آبادی بندر گاہ پر امڈ پڑی جبکہ کشتی بانوں اور ماہی گیروں کی ایک بڑی تعداد نے گردن گردن گہرے پانی میں تیرتے ہوئے کروز تک پہنچ کر ان کا استقبال کیا۔دنیا بھر نے اس واقعہ کو پاکستان کی تاریخی کامیابی اور بھارت کی ہزیمت کے طور پر دیکھا۔لیکن کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ کسی اور کے دل پر بھی چھریاں چل گئی ہیں ،وہ تھا امریکہ ، جس نے دو ہفتے بعد ٹائمز میگزین کے ذریعہ سے پاکستان کو نیچا دکھانے کی سازش کے تحت یہ انکشاف کیا کہ ” پاکستان کو گوادر کا یہ قبضہ جذبہ خیر سگالی کے طور پر بلا معاوضہ حاصل نہیں ہوا بلکہ اس کے لئے ایک خطیر رقم یعنی 4 کروڑ 20 لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔” اس کے دو دن بعد ہی 24 ستمبر 1958کو گورنر مغربی پاکستان نواب مظفر قزلباش نے اپنے ایک پالیسی بیان کے ذریعے خاموشی کو توڑیاور بتایا کہ ”: یہ درست ہے کہ پاکستان نے گوادر کے حصول کے لئے رقم ادا کی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بھارت بھی گوادر میں دلچسپی رکھتا تھا اور اس نے اِس کے حصول کے لئے عمان کے سلطان کو پاکستان کے مقابلے میں دس گنا زیادہ معاوضے کی پیشکش کے ساتھ ساتھ کئی ایسے ملکوں کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش بھی کی جو اس معاملے میں اثر انداز ہو سکتے تھے۔”بھارت نے یہ پھیلا رکھا تھا کہ گوادر کی اکثریتی آبادی ہندو ہے، اس لیے پہلا حق اس کا ہے۔ حالانکہ اس وقت گوادر کی کل آبادی 20 ہزار تھی، جن میں صرف ایک ہزار ہندو تھے۔ البتہ بزنس پر قبضہ انہی ہندووں کا تھا ۔معاوضے کی پیشکش اور سفارتی حمایت کے حصول میں ناکامی کے بعد انڈیا نے آخری کوشش یہ کی کہ اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے کے ذریعے کروایا جائے۔ اس مقصد کے لئے حکومتِ ہند نے وزیر اعظم فیروز خان نون کو ایک خط بھی لکھا اور مطالبہ کیا کہ استصواب رائے کے انعقاد کے لئے انڈین افسرون کو بھی وہاں آنے کی اجازت دی جائے۔ پاکستان میں شمولیت کے وقت وہاں کے بازار قیمتی ساز و سامان اور غیر ملکی کپڑے سے بھرے ہوئے تھے۔ پھر یہ سامان راتوں رات غائب ہونا شروع ہو گیا جس کے ذمہ دار وہ ہندو تاجر تھے جن کی مارکیٹ پر اجارہ داری تھی۔ٹائمز نے اپنی اسی اشاعت میں یہ انکشاف بھی کیاتھا کہ ” پاکستان اس مقام پر ایک بڑا ایئرپورٹ اور بحری اڈہ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے” ، یہ الگ داستاں کہ اس دعوے کو سچ ہونے میں پون صدی کا عرصہ بیت گیا ۔
اب آتے ہیں دوسرے سوال کی جانب گوادر میں ایسی کونسی بات ہے کہ دنیا اس کے حصول میں لڑ مر رہی ہے ۔ وہ ہے اس کا جغرافیہ، یہ بندرگاہ بحیرہ عرب کے سرے پر خلیج فارس کے عین دھانہ پر واقع ہے۔عالمی تجارت کے مرکز آبنائے ہرمز سے صرف 180میل دور ، آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان خلیج فارس کا وہ تنگ دھانہ ہے،جس کی چوڑائی صرف 3کلومیٹر ہے۔یعنی کل تین بحری جہاز اگر برابر آجائیں تو راستہ بند یا کوئی ایک بحری جہاز یہاں تباہ کردیاجائے تو راستہ بلاک ۔ جس کا مطلب ہے کہ مغربی ممالک کے خیلج سے جانے والے تیل اور مغرب سے آنے والے مال تجارت کا مکمل روڈ بلاک ۔گوادر اس آبنائے ہرمز سے انتہائی کم فاصلے اور ایسی سمت میں ہے کہ یہاں سے ایک توپ کا گولہ بھی عالمی تجارت کی اس رگ حیات کو دبوچنے یا کسی دبوچنے والے سے بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس سے قبل ایران اس آبنائے کو بند کرنے کی دھمکی دیا کرتا تھا ، لیکن اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح خود ایران بھی بحری محاصرے کا شکار ہو سکتا ہے ، صرف پاکستان کو یہ سہولت حاصل ہے کہ اسے کراچی کی بندگاہ اس محاصرہ کی کیفیت سے باہر رکھتی ہے ۔دوسری اہمیت یہ کہ افغانستان اور توانائی کی دولت سے مالا مال وسطی ایشیائی ریاستوں کی قریب ترین گرم پانی کی بندرگاہ ہے۔جہاں تک رسائی کے لئے سوویت یونین نے خود کو ٹکڑے کروالیا ۔ ایک تیسری اہمیت اس کی یہ ہے کہ اگر امریکہ آبنائے ملاکا کو بند بھی کر دے توپاکستان کے لئے بحیرہ عرب کا تجارتی راستہ ہمیشہ کے لئے کھلا رہے گا۔ جبکہ گوادر بندرگاہ کے ذریعے پاکستان خلیج فارس میں تیل کی ترسیل کے لئے گزرنے والے تمام جہازوں کی نقل و حمل کو مانیٹر کر سکتا ہے ، روک سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی بحریہ کے سربراہ سریش مہتہ نے پاکستان کے گوادر پورٹ کو ہندوستان کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا ”آبنائے ہرمز سے محض 180 میل کی دوری پر بلوچستان کے ساحل پر تعمیر ہونے والی گوادر بندرگاہ سے پاکستان گیس اور تیل کی ایک اہم آبی عالمی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کر لے گا، آبنائے ہرمز اپنی تزویراتی اہمیت کے اعتبار سے پوری دنیا کے لئے تیل کی سپلائی میں شہ رگ کا درجہ رکھتی ہے۔”مغربی دنیا میں اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگالیں کہ گزشتہ برس یورپی یونین کے آٹھ ممالک بیلجئم ، ڈنمارک ، فرانس، جرمنی ، یونان، اٹلی، ہالینڈ اور پرتگال نے آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لئے نئی عالمی فوج کے قیام کی تجویز بھی دی ، جس کا صدر دفتر ابو ظہبی میں ہوگا ۔ یعنی ایک گوادر نے امریکہ ،یورپ اور بھارت سمیت عرب امارات تک کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے، اور امریکہ اسی اہمیت کے پیش نظر یہاں اڈے کے لئے سر توڑ کوشش میں ہے ۔
مگر سوال یہ ہے ، آج سے کامل پون صدی پہلے جب پاکستان کے پاس اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے کو پیسے نہ تھے ، سربراہ مملکت کو سلامی دینے کے لئے توپوں میں ڈالنے کو پورے 21گولے تک نہ تھے ، اس وقت بھارت ،ایران اور امریکہ کے جبڑوں سے گوادر چھین لیا تھا تو کیا آج یہ پکی پکائی کھیر پاکستان امریکہ کے حوالہ کردے گا ؟
سوال اہم ہے ۔
اس کا جواب اگلی قسط میں ۔۔۔۔انتظار کیجئے ۔
پاکستان میں امریکی اڈے کا قضیہ: اثر خامہ، قاضی عبدالقدیر خاموش



