کنشاسا(شِنہوا) جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کی حکومت گوما میں متواتر زلزلوں کے ردعمل میں احتیاطی طور پر انخلا کے منصوبے کو متحرک کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔وزارت مواصلات اور میڈیا نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ گوما اب بھی متواتر پھوٹنے اور زلزلوں کے مستقل خطرے سے دوچار ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت احتیاطی تدابیر کے طور پر رہائشیوں کے بتدریج انخلا کے منصوبے کو جلد از جلد متحرک کرے ، اس سے قبل کہ اس خطرے کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجائے۔صوبے کے فوجی گورنر ، جنرل کانسٹانٹ ندیما نے گوما شہر میں شدید زلزلہ کی سرگرمی کے بعد، شمال مشرقی صوبہ کے شمالی کیوو میں نائراگنگو آتش فشاں کے دامن کے ساتھ ساتھ اردگرد علاقوں اور ہمسایہ ملک روانڈا میں ممکنہ طور پر تازہ آتش فشاں پھٹنے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔گورنر نے کہا کہ زلزلہ کی سرگرمی اور مٹی کی تبدیل شدہ صورت بارے موجودہ اعداد و شمار سے گوما کے شہری علاقے کے نیچے آتش فشانی مادے کی موجودگی کی نشاندہی ہوتی ہے جس کے ساتھ کیوو جھیل کے نیچے توسیع ہے۔انہوں نے اس بارے میں بھی خبردار کیا ہے کہ پھوٹنے کا یہ عمل بہت کم یا بغیر کسی انتباہی علامات کے ساتھ ہوسکتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تباہی کے خطرے سے دوچار متعدد آباد علاقوں کو ان کے رہائشیوں سے خالی کر دیا جائے گا، جبکہ انہیں کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کو کہا جائے گا۔گوما کے مضافات میں آتش فشاں کے پھٹنے کا واقعہ ہفتے کی رات رپورٹ کیا گیا تھا۔ مقامی حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 32 ہوگئی ہے جبکہ تقریبا 2 ہزار مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔
جمہوریہ کانگو کا تازہ آتش فشاں پھٹنے کی صورت میں انخلا کو متحرک کرنے کا منصوبہ



