اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)یورپین پارلیمنٹ کی امور خارجہ کمیٹی (AFET ) کے چیئرمین ڈیوڈ میک السٹر کی دعوت پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا یورپین پارلیمنٹ خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس سے ورچوئل خطاب۔چیرمین قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ ملک احسان اللہ ٹوانہ، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی مس زرتاج گل، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات میاں فرخ حبیب، پارلیمانی سیکرٹری خارجہ مس عندلیب عباس، پارلیمانی سیکرٹری قانون و انصاف، مس ملیکا بخاری،پارلیمانی سیکرٹری ہیومن رائٹس، لال چند ملہی، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے وزیر خارجہ کے ہمراہ ورچوئل اجلاس میں شرکت کی۔وزیر خارجہ نے یورپی پارلیمنٹ امور خارجہ کمیٹی کے ساتھ ورچوئل ملاقات اور اظہار خیال کی دعوت پر چیرمین کمیٹی اور اراکین کا شکریہ ادا کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان، یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان اور یورپی یونین کے مابین اسٹریٹیجک انگیجمنٹ پلان “نے ہمارے کثیر الجہتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔پاکستان اور یورپی یونین کے مابین پارلیمانی سطح پر روابط کے فروغ کے متمنی ہیں۔پاکستان اور یورپی یونین کے مابین مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔پاکستان، یورپی یونین کے ساتھ نتیجہ خیز اور تعمیری شراکت داری کا خواہاں ہے۔یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس سہولت دو طرفہ اقتصادی تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ میں معاونت کا باعث ہے۔ہم نے اپنی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو جغرافیائی اقتصادی ترجیحات میں تبدیل کیا ہے۔وزیر خارجہ نے کرونا عالمی وبائی چیلنج کے دوران یورپی یونین کی معاونت کو سراہا ،یورپین یونین کی جانب سے پاکستان کے توہین رسالت قوانین کے خلاف قرارداد پر مایوسی ہوئی۔عالمی برادری کو مسلمانوں کی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ جذباتی وابستگی کا ادراک ہونا چاہیے۔وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کسی صورت قابلِ قبول نہیں ۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی بھی مذہب کی توہین اور ان کے پیروکاروں کی دل شکنی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔زینوفوبیا، اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش ہے۔بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے پاکستان اور یورپی یونین کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے علاقائی معاشی استحکام کے وژن کی تکمیل کیلئے افغانستان میں قیام امن ناگزیر ہے۔پاکستان، خلوص نیت کے ساتھ افغان امن عمل میں مصالحانہ کردار ادا کرتا آ رہا ہے ۔مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ہندوستان نے پاکستان کی امن کی خواہش کو پس پشت ڈالتے ہوئے، اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کیا، وزیر خارجہ مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر جاری بھارت سرکار کے منظم مظالم اور آبادیاتی تناسب میں غیر قانونی تبدیلیوں کو فی الفور روکا جائے ۔ ای – یو ڈس انفولیب کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کو کسی تیسرے ملک کو اپنے اداروں کا نام استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے۔ چیرمین یورپین یونین خارجہ امور کمیٹی نے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین اسٹریٹیجک تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، دو طرفہ تعلقات کے استحکام کیلئے یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے ہر ممکن معاونت کی فراہمی کا یقین دلایا۔
یورپین پارلیمنٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین ڈیوڈ میک السٹر کی دعوت پر وزیر خارجہ کا یورپین پارلیمنٹ خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس سے ورچوئل خطاب



