وزیر خارجہ کا یورپی یونین کی خارجہ امور کمیٹی کے ساتھ ورچوئل ملاقات میں اظہار خیال۔عزت مآب جناب ڈیوڈ میک الیسٹر(David McAllister) یورپی یونین کے معزز اراکین میں پاکستان سے آپ کو صبح بخیر کہتا ہوں ۔اس باوقار فورم میں شرکت اور اہم امور پر پاکستان کا نکتہ نظر پیش کرنا میرے لئے انتہائی باعث مسرت ہے۔خارجہ، سلامتی، دفاع اور معاشی امور پر یورپی یونین کی پالیسز کی تشکیل میں یورپی پارلیمان کی خارجہ امورکمیٹی (اے۔ایف۔ای۔ٹی) کمیٹی کا اہم کردار ادا ہے۔مجھے یقین ہے کہ آج آپ کو مختلف امور پر پاکستان کا نقطہ نظر بہتر طورپر سمجھنے کا موقع ملے گا۔ یقیناً آپ کے ذہن میں بہت سے سوالات اور مشاہدات ہوں گے۔جن پر اس اظہارِ خیال کے بعد جواب دینے میں مجھے خوشی محسوس ہو گی۔پاکستان، یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ یورپی یونین پاکستان کا روایتی دوست اور بڑا معاشی شراکت دار ہے۔ ہمارے دو طرفہ روابط کی بنیاد یکساں جمہوری اقدار، اجتماعیت، باہمی ہم آہنگی اور احترام پر استوار ہے۔ مجھے یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ میں نے جون 2019 میں برسلز میں، یورپی یونین کی ۔اس وقت نمائندہ خصوصی برائے خارجہ امور فیڈریکا موغے رینی کے ساتھ “یورپی یونین – پاکستان سٹریٹیجک انگیجمنٹ پلان” پر دستخط کیےیورپی یونین – پاکستان اسٹریٹیجک انگیجمنٹ پلان “سے ہمارے دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت ملی۔یہ معاہدہ باہمی دلچسپی کے بہت سے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کی مضبوط بنیاد بنا-ان شعبہ جات میں، سیاست و دفاع ، تجارت و سرمایہ کاری، جمہوریت کا ارتقاء، قانون کی بالا دستی، بہتر طرز حکمرانی، انسانی حقوق، ہجرت و نقل و حرکت، پائیدار ترقی، تعلیم و تہذیب اور سائینس و ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ہمیں اطمینان ہے کہ تمام باہمی دلچسپی کے شعبہ جات میں ہمارے دو طرفہ تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ہم یورپی یونین کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے خواہشمند ہیں۔گذشتہ برس نومبر میں میری یورپی یونین کے اعلی عہدیدار جناب جوزف بوریل کے ساتھ بہت اچھی نشست ہوئی اور ہم نے تمام باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ہم اس کثیر الجہتی شراکت داری کے مزید فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔پاکستان کا نام ، یورپی یونین کے ساتھ دوبارہ داخلے کا معاہدہ کرنے والے چند ممالک میں شامل ہے۔غیر قانونی نقل مکانی کا تدارک ہمارے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے اور معاہدے کے مطابق اس پر عمل پیرا ہیں۔اسٹریٹیجک انگیجمنٹ پلان میں اس بات کا تذکرہ موجود ہے کہ قانونی نقل مکانی کے حوالے سے مذاکرات کیے جائیں گے ۔غیر قانونی نقل و حرکت کا تدارک کیا جا سکے ہم یورپی یونین کے ساتھ پارلیمانی سطح پر روابط کے فروغ کے متمنی ہیں تاکہ ہمارے دو طرفہ مراسم مزید وسعت پذیر ہوں۔معزز ساتھیوپاکستان، کووڈ 19 کے پھیلاو¿ کو روکنے کیلئے یورپی یونین کی کاوشوں کو سراہتا ہے میں، کرونا وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے فراہم کی گئی۔ بروقت معاونت پر آپ کا شکر گزار ہوں ہمیں مل کر اس وبائی چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا کیونکہ صرف اسی صورت میں محفوظ ہیں ۔جب ہر شخص اس وبا سے محفوظ ہے محترم رفقائ،تجارت ہمارے کثیر الجہتی تعلقات کا اہم پہلو ہے – جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے ہماری ایکسپورٹ کے حجم میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہم نے براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بہت سی اصلاحات کو متعارف کروایا ہے۔ ہم نے سو فی صد ایکوئیٹی اور کاروبار کے حقوق ملکیت کے ساتھ مارکیٹ کو ڈی ریگولیٹ کر دیا ہے۔ جہاں سرمایہ اور منافع کی مکمل واپسی کی سہولت میسر ہے گذشتہ پانچ سالوں میں ہماری آئی ٹی ایکسپورٹ کی شرح میں 151 فیصد اضافہ ہوا ہے، یورپی یونین ڈیجٹائیزیشن کے اہداف کی تکمیل کیلئے ہمارے آئی ٹی ہیومن ریسورس کو بروئے کار لا سکتی ہے۔ ہم نے حال ہی میں سپیشل ٹیکنالوجیکل زون اتھارٹی قائم کی ہے۔ جس کے تحت مختلف رعایتیں اور سہولیات دی گئی ہیں۔ اس اقدام سے مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے سرمایہ کاری کے بڑے مواقع پیدا ہوں گے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کی پاکستان کے ایکسپورٹ پروموشن زونز میں سرمایہ کاری دونوں کے لئے یکساں طورپر نفع بخش ثابت ہوگی۔ اس شعبے میں تعاون سے پاکستان اور یورپی یونین ریاستوں کے درمیان معاشی وتجارتی فروغ میں سہولت میسرآئے گی۔ ہم جیس ایس پی پلس سے متعلقہ 27 نکاتی عالمی کنونشنز پر موثر عمل درآمد کے لئے یورپی کمشن اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس (ای۔ای۔اے۔ایس) کے ساتھ قریبی روابط کے لئے پرعزم ہیں۔ اس ضمن میں ہم نے وفاقی اور صوبائی سطح پر ہم نے معاہدے پر عمل درآمد کے مراکز قائم کئے ہیں جو ان کنونشنز پر عمل درآمد اور اس کی نگرانی میں حکومتی مشینری کو سہولت فراہم کررہے ہیں۔ وزارت انسانی حقوق نے معاہدات سے متعلق اداروں اور جی ایس پی پلس رپورٹنگ سے متعلق اعدادوشمار جمع کرنے کے لئے انسانی حقوق مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لئے نئی قانون سازی کی گئی ہے۔ اس ماہ کے اوائل (6 مئی) میں وفاقی کابینہ نے صحافیوں اور میڈیا کے تحفظ اور جبری گمشدگیوں کے انسداد کا (فوجداری قانون ترمیمی) بل منظور کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں صحافیوں اور میڈیا کے تحفظ کا قانون کا مسودہ پیش کیاجاچکا ہے۔ معزز حاضرین کرام دیگر کے برعکس یورپی یونین کے ساتھ کئی سطحوں پر ہمارے روابط میں ہم ہمیشہ مختلف امور پر بات چیت کے لئے آمادہ رہے ہیں اور ہم نے بات چیت سے کبھی منہ نہیں موڑا۔ اس تناظر میں ہم پاکستان میں توہین رسالت سے متعلق قوانین کے بارے میں یورپی پارلیمنٹ میں منظور کردہ قرارداد پر مایوس ہوئے ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ یورپی پارلیمان میں ہونےوالا طرز عمل توہین رسالت کے قوانین سے متعلق ناسمجھی پاکستان میں اس سے جڑے مذہبی احساسات سے پوری واقفیت نہ ہونے کا مظہر ہے۔ ہمیں پیغمبر پاک کی ذات اور دیگرمقدس شعائر وعلامات سے وابستہ مذہبی جذبات کے ادراک کی ضرورت ہے۔کسی بھی اور جمہوری اور آزاد معاشرے کی طرح ہماری اظہار رائے کی اپنی اقدار ہیں تاہم اس حق کا دوسروں کے مذہبی احساسات اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے غلط استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ دانستہ اشتعال بھڑکانا اور اکسانا، نفرت پھیلانا اور تشدد کی ہرگز اجات نہ دی جائے اور عالمگیر سطح پر اسے قانون کے خلاف قرار دینا چاہئے۔ معزز حاضرین کرام ہماری حکومت نے یورپ میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور قرآن پاک کی بے حرمتی سے پیدا ہونے والی صورتحال کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ ہم نے حالیہ رپورٹس کے بعد ریڈیکل گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کی ہے۔ میں آپ کو یقین دلاسکتا ہوں کہ کسی مسلح یا پریشر گروپ کو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے اور حکومتی کو پالیسیز ڈکٹیٹ کرانے کی اجازت نہیں دی جارہی ۔ معزز حاضرین کرام دنیا غیرملکیوں اور اسلاموفوبیا کے خلاف بڑھتی ہوئی لہر کا مشاہدہ کررہی ہے۔ ہمیں مذہب یا عقائد کی بنیاد پر عدم برداشت، اشتعال انگیزی اور تشدد پھیلانے کے خلاف مشترکہ عزم دکھانا ہوگا۔ جیوپولیٹیکل فالٹ لائنز نہ صرف پھر جنم لے رہی ہیں بلکہ اور زیادہ گہری بھی ہورہی ہیں، تقریبا تمام خطوں میں سٹرٹیجک عدم استحکام، کا خطرہ لاحق ہے، ریاستوں کے درمیان باہمی اعتماد اور احترام ختم ہورہا ہے، موجودہ تنازعات مزید پیچیدہ تر ہوتے جارہے ہیں اور نئے تنازعات سر اٹھارہے ہیں، دہشت گردی کے ہمیشہ سے زیادہ خطرات پیدا ہورہے ہیں اور ہائیبرڈ اور سائیبر خطرات سے پیدا ہونے والی مشکلات سکیورٹی پہلو کو دنیا بھر میں تبدیل کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ جھوٹی اور جعلی اطلاعات کو ریاستی حربے کے طورپر استعمال کرتے ہوئے پھیلایاجارہا ہے۔ معزز حاضرین کرام پاکستان پرامن بقائے باہمی اور تحمل وبرداشت کی پالیسی میں یقین رکھتا ہے۔ لہذا ہمارے علاقائی نکتہ نظر کی رہنمائی بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے ان اصولوں سے ہوتی ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ”ہماری خارجہ پالیسی تمام اقوام عالم کے ساتھ دوستی اور خیرسگالی پر مبنی ہے۔“ پاکستان اقوام عالم میں ایک ذمہ دار اور جوابدہ رکن کے طورپر اور بھی زیادہ ذمہ داری نبھانے کے لئے آمادہ و تیار ہے۔ ہم دنیا میں معاشی تعاون میں خود کو سمونا چاہتے ہیں اور امن وترقی میں موجود ناگزیر تعلق کا کلیدی کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ ہماری توجہ جیوپالیٹیکس سے جیواکنامکس کی طرف بدل رہی ہے۔ ہم 220 ملین لوگوں کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہیں جہاں 30 سال سے کم عمر کے60 فیصد افرادبستے ہیں۔ پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری کے لاتعداد مواقع پیش کرتا ہے۔ معاشی سلامتی کے بیچ میں پاکستان کی توجہ (i) رابطوں کے ذریعے وسطی و جنوبی ایشیاءاور مشرق وسطی سے تجارت، ٹرانزٹ اور توانائی کے بہاو کا فروغ (ii) ترقیاتی حکمت عملی کے طورپر معاشی بنیادوں کی فراہمی (iii) داخلی اور خارجہ سطح پر امن کے قیام پر مرکوز ہے۔معزز حاضرین کرام افغانستان میں امن واستحکام ہمارے علاقائی معاشی یکجائی اور خطے سے پار رابطے استوار کرنے کے خواب کی تعبیر کے لئے نہایت ناگزیر امر ہے۔ پاکستان مذاکرات کے ذریعے حاصل ہونے والے سیاسی تصفیہ کے ذریعے افغانستان میں لڑائی کا خاتمہ دیکھنے کا خواہش مند ہے۔ ہم نے ہمیشہ سے یہی کہا ہے کہ افغانستان کا ”کوئی فوجی حل نہیں۔“ پاکستان نے ہمیشہ امن عمل کی حمایت کی ہے اور ہماری سہولت کاری سے امریکہ طالبان امن معاہدہ ممکن ہوا اور اس کے نتیجے میں بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے ہونے والا سیاسی تصفیہ ہی اس ضمن میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ افغانستان میں قیام امن پاکستان اور یورپی یونین کا مشترکہ مفاد ہے۔ ایک مشترکہ ذمہ داری کے طورپر پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کاری کا اپنا کردار جاری رکھے گا۔ معزز حاضرین کرام موجودہ امن عمل سیاسی حل کا تاریخی موقع فراہم کرتا ہے، تمام افغان فریقین کو تنازعہ کو ختم کرنے اور افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لئے اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ افغانستان کے اندر اور باہر ایسے عناصر موجود ہیں جو نہیں چاہتے کہ امن اور سلامتی بحال ہو۔ ہمیں ’خرابی‘ پیدا کرنے والے عناصر سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ افغانستان کے اندر بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات ہر ہمیں بڑی تشویش ہے۔ تنازعہ کے تمام فریقین تشدد میں کمی پر اتفاق کریں جو جنگ بندی پر منتج ہو۔ جاری تشدد میں امریکی اور نیٹو افواج کا انخلاءہونے سے افغانستان سے منشیات کی پیداوار اور دیگر ممالک کو اس کی ترسیل کا مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان افغانستان سے غیرقانونی ہجرت اور منشیات کی ترسیل روکنے کے لئے ایک چوکیدار کے طورپر کھڑا ہے۔ ہم لاکھوں افغان مہاجرین کی چار دہائیوں سے زائد عرصے سے میزبانی کررہے ہیں، عصر حاضر میں اتنی بڑی مہاجر آبادی کی مہمان نوازی اور دیکھ بھال کررہے ہیں۔ ہم عالمی برادری کی حمایت، وسائل کے حامل اور وقت کے تعین پر مبنی روڈ میپ کے ذریعے جلد، باوقار اور مستحکم انداز میں افغان مہاجرین کی اپنے گھروں کو واپسی کے منتظر ہیں۔ افغان امن عمل اور افواج کے انخلاءکے بعد مستقبل میں وہاں تعمیر نو اور معاشی ترقی میں کردار سے متعلق یورپی یونین کے مفادات سے ہم آگاہ ہیں۔ پاکستان یورپی یونین تعاون گزشتہ دو دہائیوں میں سیاسی، معاشی اور سماجی فوائد کو محفوظ کرنے اور افغان مہاجرین کی آبادکاری میں اہم ہے۔ 11 ستمبر 2021 تک عالمی افواج کی واپسی نے افغانستان میں ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جہاں عالمی برادری کو ہماری معاونت اور مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی۔ پاکستان تنازعہ کے بعد ترقی اور تعمیر نو میں افغانستان کی معاونت جاری رکھے گا۔ ہم اپنی اس امید کو دوہراتے ہیں کہ افغان فریقین اس تاریخی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اجتماعیت کے حامل، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیہ سے ہمکنار ہوں گے اور باہمی طورپر مسائل کو طے کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ معزز حاضرین کرام پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر مضبوطی سے کاربند ہے۔ بدقسمتی سے ہماری امن کے لئے کاوشوں کابھارت نے اسی جذبے سے جواب نہیں دیا۔ اس کے برعکس جموں وکشمیر کی حیثیت کو بدلنے کی غیرقانونی اور یک طرفہ کوشش کی گئی جسے اقوام متحدہ نے ایک متنازعہ خطہ تسلیم کیا ہوا ہے۔ اس طرح بھارت نے بات چیت کے ماحول کو خراب کردیا۔ اس ضمن میں سازگار ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری اب بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ تنازعہ جموں وکشمیر بلاشبہ جنوبی ایشیاءمیں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازعہ کا حل ناگزیر ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی روایتی پرخاش ، جدید فوجی اسلحہ اور حساس ٹیکنالوجیز کی فراہمی کے ذریعے بعض ریاستوں کی جانب سے امتیازی رویوں کو اختیار کرنے اور بھارت کی جانب سے جارحانہ رویے اور نظریات اختیار کرنے سے ماحول خراب کرنے سے خطے کے سٹرٹیجک استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔ یورپی یونین ڈس انفو لیب کے انکشاف سے بھارتی مذموم سرگرمیاں بے نقاب ہوئی ہیں اورہم یورپی یونین اتھارٹیز پر زور دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف اس بڑے پیمانے پر چلائی جانے والی غلط اور گمراہ اطلاعات کی مہم کا نوٹس لیں اور کسی تیسرے ملک کو یورپی یونین کے اداروں کے نام غلط طورپر استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ معزز حاضرین کرام ہم پختہ طورپر سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور یورپی یونین میں مختلف شعبہ جات میں تعاون کو وسعت دینے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ اگر میں ان شعبہ جات کی نشاندہی کروں جن میں مزید تعاون ہوسکتا ہے تو میرے نزدیک ان میں یہ ہیں:تجارت وسرمایہ کاری ماحولیاتی تغیر اور پائیدار ترقی ڈیجیٹلائزیشن ہجرت اور نقل وحرکت افغان امن عمل، گزشتہ دو دہائیوں میں حاصل ہونے والے سیاسی، معاشی اور سماجی ثمرات کو محفوظ بنانا افواج کی واپسی کے بعد افغانستان کی تعمیر نو سائنس و ٹیکنالوجی تعلیم وثقافت پارلیمانی روابط اور عوامی سطح پر رابطوں کا فروغ؛ اور بین المذاہب ہم آہنگی اور برداشت کے فروغ کے لئے مشترکہ کوششیں پاکستان یورپی یونین کے ساتھ مثبت اور فروغ پزیر شراکت داری کے قیام کے لئے اپنے حصے کا کام کرنے کے لئے تیار ہے۔ میں اس پیغام کے ساتھ اپنی بات ختم کروں گا کہ پاکستان یورپی یونین کو قابل قدر شراکت دار کے طورپر لیتا ہے اور تمام امور پر بات چیت کے لئے آمادہ ہے۔ عزت مآب چئیرمین میں آپ کی قیادت میں خارجہ امور کے لئے یورپی یونین کی کمیٹی میں شرکت کی دعوت پر بے حد شکریہ ادا کرتاہوں اور آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ اپنی سہولت کے مطابق پاکستان کا دورہ فرمائیں۔ ہم آپ کا پرجوش استقبال کرنے کے لئے چشم براہ ہیں۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اس معزز فورم پر مجھے بات کرنے کا یہ موقع فراہم کیا۔
وزیر خارجہ کا یورپی یونین کی خارجہ امور کمیٹی کے ساتھ ورچوئل ملاقات میں اظہار خیال



