بیجنگ(نیشنل ٹائمز)چین کے صحت ماہرین نے ایک بار پھر بچپن میں موٹاپے کا شکار ہونے کے مسئلہ کو اجاگر کیا ہے ، چین میں 20 مئی کو 14 ویں پانچ سالہ منصوبہ کی مدت (2025-2021) کیلئے پہلا چینی طلبا کی غذائیت کا دن منایا گیا۔اگرچہ گذشتہ برسوں کے دوران چین میں بچوں کی غذائیت میں نمایاں بہتری آئی ہے مگر چینی شہریوں کی غذائیت اور دائمی بیماری کی حیثیت سے متعلق کیے جانیوالے ملک گیر سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزن کے مسائل سے پریشان بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔سروے کے مطابق 6 سال سے کم عمر کے 10.4 فیصد بچے زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ 6 سے 17 سال کے بچوں میں یہ تعداد 19 فیصد ہے۔متوازن غذا سے متعلق اپنی تحقیق میں چینی غذائیت سوسائٹی (سی این ایس) نے بچوں میں شوگر ڈرنکس کی مقبولیت کو اس اعلی شرح کی وجہ قرار دیا ہے ، جو موٹاپے اور ذیابیطس کا سبب بن سکتا ہے۔ضرورت سے زیادہ نمک اور تیل کی مقدار کو بھی غیر متوازن غذا کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ سی این ایس کی تحقیق سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ایسے افراد جو باقاعدگی سے باہر کھانا کھاتے ہیں یا باہر سے آرڈر پر کھانا منگواتے ہیں وہ خاص طور پر اس طرح کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔سی این ایس کے نائب صدر ڈنگ گانگ چھیانگ نے متوازن غذا کا ایک ڈھانچہ تجویز کیا ہے جس میں اناج ، سبزیوں ، پھلوں ، سمندری خوراک اور ڈیری مصنوعات پر زور دیا گیا ہے جبکہ اس میں متوازن غذا کے ایک سپلیمنٹ کے طور پر کھیلوں کی سرگرمیوں کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
چین کے صحت ماہرین کا بچپن میں موٹاپے کے بارے میں انتباہ



