اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وفاقی وزراء اور تین وزرائے اعلیٰ شریک ہوئے، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
قومی اقتصادی کونسل (این ای سی ) کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی گئی جبکہ رواں مالی سال 26-2025 کے ترقیاتی بجٹ کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس میں صوبوں کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں (ADP) پر بریفنگ اور پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔
اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال 27-2026 کے پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ رواں مالی سال کے پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ پر بھی غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں یکم اپریل 2025 سے 31 مارچ 2026 تک سی ڈی ڈبلیو پی کی پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ اسی مدت کے دوران اسکیموں کی ای سی این ای سی اور ایکنک سے منظوری کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشکلات کے باوجود کوشش کی کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل پیرا ہوں، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، برآمدات میں اضافہ اور مجموعی معاشی بہتری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، خطے کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس چیلنج کے باوجود حکومت نے عوام کو تیل کی قیمتوں کی مد میں 128 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا، دنیا کے کئی ممالک میں پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں، تاہم بروقت اقدامات کے باعث پاکستان میں پٹرول کی فراہمی برقرار رہی اور عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اس تمام عمل میں صوبوں نے بھرپور تعاون کیا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، حکومت نے عوامی توقعات پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کی اور آئندہ بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ کئی ہفتوں سے مشاورت جاری ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبوں کے ساتھ مزید وسائل پیدا کرنے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے، دفاع کیلئے وسائل کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے اضافی وسائل درکار ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پوری قوم، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں اور سکیورٹی فورسز کی خدمات قابل تحسین ہیں، دہشتگردی کے ناسور کا متحد ہو کر خاتمہ کرنا ہوگا اور باہمی اتحاد و اتفاق سے ہی اس چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات ان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے بات چیت ہوئی، جنہوں نے پاکستان کی مخلصانہ معاشی کوششوں کو سراہا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کیلئے معیشت کے مختلف شعبوں کو مراعات دینا ہوں گی تاکہ ترقی کا عمل تیز کیا جا سکے اور پائیدار معاشی استحکام حاصل ہو۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی علالت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صحت کی خرابی کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہوسکیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت کاملہ عطا فرمائے۔



