نیویارک (نیشنل ٹائمز) فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس پر جاری اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت اور اور ظالمانہ حملوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا فوری اجلاس آج (جمعرات) نیویارک میں ہو گا۔ یہ اجلاس اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) گروپ کے چیئرمین اور عرب گروپ کے سربراہ کی مشترکہ درخواست پر منعقد کیا جا رہا ہے ۔ اس حوالے سے او آئی سی کے چیئرمین عبدلباری اور عرب گروپ کے سربراہ سفیان ممونی نے خط پر دستخط کر کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکیر کو دیا جس کے بعد صدر نے گزشتہ روز اجلاس کی طلبی کا اعلامیہ جاری کیا۔ “مشرق وسطی کی صورتحال “اور “فلسطین کاسوال” کے موضوع پر مبنی اس اجلاس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کریں گے جو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایات پر فلسطین کی حمایت کے سفارتی مشن کو فروغ دے رہے ہیں۔ جنرل اسمبلی کے صدر کے ترجمان برندن ورما نے نیوز بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ فلسطین کی صورتحال پر بات چیت کے لیے طے شدہ اجلاس آج(جمعرات ) ہو گا لیکن ابھی تک کوئی قرارداد جمع نہیں کی گئی ہے۔ جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مطالبے پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام ہو گئی ہے جبکہ اس حوالے سے سلامتی کونسل کے 4 اجلاس ہو چکے ہیں جو بے نتیجہ ختم ہوئے اور کوئی مشترکہ اعلامیہ بھی جاری نہیں ہوا۔
فلسطین، اسرائیلی جارحیت سے پیدا شدہ صورتحال پر بحث کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس، پاکستانی وفد کی نمائندگی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کریں گے



