یوں تو ارض فلسطین گزشتہ 70 سال سے آگ و خون کا دلخراش منظر پیش کر رہی ہے۔ یہودی اس خطہ فلسطین میں کس طرح آباد ہوئے، اسرائیلی ریاست کا منصوبہ کہاں بنا اور کیسے روبہ عمل ہوا۔ فلسطینیوں کو اپنے ہی گھر میں کس نے کس کی شہ پر بے آباد اور مہاجر کیا، کس طرح 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کو شکست ہوئی اور کتنی قیمتی اور نایاب زمین اسرائیل کے ہاتھ لگی۔ پھر وقتاً فوقتاً کس طرح اسرائیل نے فلسطینوں پر ظلم و بربریت کا بازار گرم رکھا۔ اس دوران مسلم امہ کی خوفناک خامشی اور جن مسلم لیڈرز نے فلسطین کاز کی عملی حمایت کی کاوش کی ان کا عبرت ناک انجام، یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے لہٰذا اس پر مزید کچھ لکھنا وقت کا ضیاع ہے۔
حالیہ بدترین اسرائیلی دہشت گردی ناقابل بیان غم و الم کی ایک نئی داستان رقم کر رہی ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں پرامن فلسطینی نمازیوں پر مسجد اقصٰی کی حدود میں گھس کر تمام اخلاقی و مذہبی اقدار کو پامال کرتے ہوئے نہتے نمازیوں پر جدید اسلحہ کے زور پر بے پناہ تشدد اور دہشت گردی کہ دیکھنے والے حیران و ششدر۔ قصور فلسطینی عوام کا فقط اتنا کہ وہ بیت المقدس کو جو نہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے بلکہ ان کا قبلہ اول بھی ہے وہاں عبادت کرنا اپنا حق اور فرض سمجھتے ہیں۔
دوسری طرف طاقت کے نشہ سے سرشار گریٹر اسرائیل اور عظیم صہیونی ریاست بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے اسرائیلی پولیس اور فوج بزور بازو اس عبادت کو روکنے کی سعی کرتے ہوئے۔ اسرائیل کہ جسے دنیا کی سپر پاور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بھرپور اعانت، ہمدردی، مدد اور آشیر باد حاصل ہے، وہ بدمست ہاتھی کی طرح نہتے فلسطینی عوام کو کچلتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ کیا دلخراش نظارے ہیں کہ دل لہو لہو ہے، آنکھیں پرنم اور بے بسی اور بے کسی کا عجب عالم ہے کہ اسرائیلی فوج جدید اسلحہ سے لیس ٹینکوں اور توپوں سے پیش قدمی کر رہی ہے اور ان کا مقابلہ نہتے عوام جن میں اکثریت ننھے منے بچوں اور لڑکیوں کی ہے، وہ ہاتھوں میں پتھر لیے غنیم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مقتل میں ڈٹے ہوئے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ابھی فائرنگ شروع ہو جائے گی اور ان میں سے اکثر اسی میدان اور انہی سڑکوں پر زخمی پڑے ہوں گے اور بے گور و کفن لاشیں ہوں گی۔
اہل خانہ، دوست احباب ان جوان لاشوں پر ماتم کناں ہوں گے۔ مگر اس بھرپور یقین کے ساتھ کہ وہ نہتے ہو کر بھی صف شکن ہیں، سرنگوں نہیں، وہ پتھر اٹھا کر اسرائیلی فوجیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔ اور یہی جرات رندانہ ان کی شناخت اور پہچان ہے۔ البتہ ایک غلطی کے وہ مرتکب ہو رہے ہیں۔ وہ مسلم امہ سے اسی جرات رندانہ، بہادری، جوانمردی، دلیری اور شجاعت کی توقع رکھ رہے ہیں جو کہ مناسب نہ ہے۔
مسلم امہ، اگر یہ کہیں ہے، تو اس وقت خواب استراحت میں ہے، عید کی خوشیاں منا رہی ہے، مختلف قسم کے پکوان تیار ہو رہے ہیں اور رنگ برنگ زرق برق پوشاکوں کی بہار ہے۔ ابھی مسلم امہ کے پاس وقت ہی نہ ہے کہ وہ فلسطین کے گمبھیر مسئلہ ٔ پر کچھ غور و فکر کرے۔ اس وقت سارے یورپ اور امریکہ میں بڑے بڑے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ فلسطینی عوام کے ساتھ یک جہتی اور اسرائیل کی مذمت ہو رہی ہے۔ جبکہ کسی بھی مسلمان ملک میں سوائے بیان بازی کے کچھ بھی عملی طور پر نہ ہو رہا ہے کہ تمام اسلامی ممالک ایک آدھ کو چھوڑ کر امریکہ بہادر کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
ابھی تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یا سیکورٹی کونسل کا کوئی بامعنی اجلاس بھی نہیں ہو سکا۔ یہ بھی اس وقت ممکن ہو گا جب امریکہ اس کی اجازت دے گا۔ اس وقت تک معاملات اسی طرح چلتے رہیں گے۔ جب اسرائیل اپنے ”مطلوبہ مقاصد“ حاصل کر لے گا تو سیکورٹی کونسل کی طرف سے مذمت نہیں بلکہ فریقین کو حوصلہ اور برداشت کی تلقین کرتے ہوئے پرامن رہنے کی اپیل کی جائے گی۔ پھر مسلمان ملکوں کے کچھ وزرا خارجہ سفارتی سطح پر متحرک ہو کر دو چار ملکوں کے ہنگامی دورے کریں گے۔
اور اس وقت تک ہم صرف مذمتی بیانات اور میڈیا کی حد تک فلسطین کے ساتھی و غم گسار نظر آئیں گے۔ گزشتہ تقریباً ستر سال سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ مظلوم فلسطینیوں پر ان کی اپنی سر زمین ہی تنگ ہو رہی ہے۔ ان کے مکانات اور جائیدادوں پر جبراً قبضہ کیا جا رہا ہے اور اب تو انہیں مسجد اقصٰی میں عبادت سے بھی روکا جا رہا ہے۔ مگر مسلم امہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے کسی معجزہ کے انتظار میں ہے۔ لیکن معجزے بھی جرات و بہادری اور شجاعت و جواں مردی کے نتیجہ میں ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
اگر صرف ہماری دعاؤں اور بد دعاؤں سے ہی بات بن سکتی تو اب تک اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہوتا مگر بات عزم صمیم کی، جرات رندانہ کی، مالی و عسکری وسائل کو بروئے کار لانے کی، ایک امہ بن کر روبہ عمل آنے کی، یکجہتی اور یگانگت کی اور سب سے بڑھ کر مخلص، نڈر اور دلیر قیادت کی ہے۔ اس سارے عمل میں مسلمان ممالک کی سب سے بڑی تنظیم او۔ آئی۔ سی بالکل غیر متحرک اور بے معنی نظر آ رہی ہے۔
کیا مسلم امہ جو تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی پر مشتمل بے شمار انسانی و مادی وسائل سے مالا مال تقریباً 60 کے قریب اسلامی ممالک بشمول ایٹمی طاقت کیا اس قابل بھی نہیں کہ کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو سکیں۔ اگر عملی طور پر جارحیت کو روکنا ممکن نہیں تو کیا سفارتی اور سیاسی سطح پر بھی ایسا ممکن نہ ہے۔ اور یا پھر پوری امہ اقبال کے اس شعر کی عملی صورت گری کرتی نظر آتی ہے۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات



