اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) قو می اسمبلی میں حکومت نے اپوزیشن کے بھر پور احتجا ج کے باوجود تین آ رڈیننسز میں مزید 120دن کی توسیع منظور کرالی، اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے پرائیویٹ ممبرز ڈے کا ایجنڈا معطل کرکے سرکاری ایجنڈا لانے پر احتجاجاً ایوان سے واک آئوٹ کیا اور کورم کی نشاندہی کی جس پر حکومت کورم مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئی، اجلاس میں نفسیات کی صحت کی خدمات کو ریگولیٹ کرنے کے لئے نفسیات کونسل کے قیام کے لئے پاکستان نفسیات بل ، گھریلو ملازمین کے حقو ق کے تحفظ کے متعلق بل سمیت دیگر بلوں کی منظوری دے دی جبک گئی جبکہ انتخابات ترمیمی بل ،انسداد نشہ آور مواد ترمیمی بل، زخمی افراد کا لازمی علاج بل اورشراب نوشی کو اقلیتوں کی مذہبی تقاریب کے ساتھ منسلک نہ کرنے سے متعلق بل سمیت دیگر بل پیش کردئیے گئے ، سپیکر نے تمام نئے بلوں کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا۔منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اجلاس کے دوران ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے صحافی حضرات اور میڈیا پروفیشنل کی آزادی ، غیر جانبداری ، تحفظ اور آزادی اظہار کو فروغ دینے کے لئے اور تحفظ دینے کے لئے موثر انداز سے یقینی بنانے کا بل (صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کا تحفظ بل 2021) پیش کرنے کے لئے تحریک پیش کی جس کی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے مخالفت کی انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومت کا بل چوری کیا ہے اور نقل کرکے پیش کر دیا ۔ حکومت یہ بل پہلے سے پیش کر چکی ہے ۔ ہم نے اس بل پر ڈیڑھ سال محنت کی ہے اور صحافیوں سے مشاورت کی ہے ۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ ہم اس الزام کی مذمت کرتے ہیں یہ بل 2012 میں ہم نے پیش کیا تھا اور آج تک گھوم رہا ہے ۔ حکومت نے ہمارا بل چوری کیا ہے ۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ بل 2012 میں پیش کیا گیا اور 2015 اور 2018 میں اس پر نظر ثانی کرکے کمیٹیوں سے پاس کیا گیا لیکن آگے اس کو غائب کر دیا گیا ۔ حکومت یہ سب کریڈیٹ لینے کے لئے کر رہی ہے، ڈاکٹر با بر اعوان نے کہا کہ سپیکر خود دونوں کے بلز دیکھ کر فیصلہ کریں، اس پر اسپیکر نے کہا کہ میں بلوں کا جائزہ لے کر اس کا فیصلہ کروں گا انہوں نے یہ بل موخر کر دیا ۔سید محمود شاہ نے انسداد نشہ آور مواد ترمیمی بل 2021 ایوان میں پیش کیا ۔ آغا رفیع اللہ نے ہنگامی حالت میں زخمی افراد کو طبی امداد اور علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اسلام آباد زخمی افراد کا لازمی علاج بل 2021 ایوان میں پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حادثات کی صورت میں بروقت صحت کی خدمات کی عدم دستیابی کے باعث ہر سال سینکڑوں زخمی افراد مر جاتے ہیں، بل کا مقصد ترجیحی بنیادوں پر زخمی افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لئے قانون سازی کرنا ہے،کیسومل کھیل داس میں دستور ترمیمی بل 2021 کے آرٹیکل 37 میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا ۔ بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقو ق کی ضمانت دیتا ہے، اسلام میں شراب نوشی کی ممانعت ہے اور دوسرے مذاہب میں بھی ایسی تقریب کی اجازت نہیں ہے،شراب نوشی کو اقلیتوں کی مذہبی تقاریب کے ساتھ جوڑنا نامناسب بات ہے ، سید جاوید حسنین نے انتخابات ترمیمی بل 2021 ایوان میں پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں اس وقت 80جماعتیں رجسٹرڈ ہیں جبکہ انتخابات میں صرف20 جماعتوں نے حصہ لیا، شہرت حاصل کرنے کے لئے لوگ سیاسی جماعت بنا کر الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کر لینے ہیں،بل کا مقصد یہ ہے کہ 2فیصد سے کم ووٹ لینے والی جماعتوں اور پانچ فیصد سے کم حلقو ں میں سے انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کو الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کو ختم کیا جائے، نصرت واحد نے مغربی پاکستان خالص غذا ترمیمی بل 2021 ایوان میں پیش کیا ۔ بل میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ مصنوعات پر حلال فوڈ کی نشاندہی کی جائے، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے اسلام آباد انضباط محافظت صحت ترمیمی بل 2021 ایوان میں پیش کیا ۔نہوں نے کہاکہ جعلی ڈاکٹروں اور کلینکس چلانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے اور ان پر پابندی لگائی جائے، کشور زہرا نے دستورترمیمی بل 2021 آرٹیکل 140 الف میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا ۔ نوید عامر جیوا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ترمیمی بل 2021 ایوان میں پیش کیا ۔ سپیکر نے تمام بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو ریفر کر دیئے ۔ اجلاس کے دوران مولانا عبدالاکبر چترالی نے بوڑھے والدین اور بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود بل 2020 منظوری کے لئے پیش کیا جس کی حکومت نے مخالفت کی کہ یہ بل حکومت پہلے سے پیش کر چکی ہے ۔ سپیکر نے بل کو نظر ثانی کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا ۔ ریاض فتیانہ نے پاکستان نفسیات کونسل کے قیام کے لئے پاکستان نفسیات بل 2019 ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دی ۔ مہناز اکبر عزیز نے اسلام آباد میں گھریلو ملازمین ملازمتوں کو منضبط بنانے کے لئے علاقہ دارالحکومت اسلام آباد گھریلو ملازمین بل 2020 ایوان میں منظوری کے لئے پیش کیا جس کی ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دے دی ۔ بل کے تحت گھریلیو ملازمین کے حقو ق کا تحفظ کیا جائے گا، آغا رفیع اللہ نے برقی توانائی کی پیداوار ، ترسیل اور انضباط ترمیمی بل 2020 ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان میں کثرت رائے سے منظوری دی ۔ بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ان صارفین کی بجلی منقطع کر دیتی ہیں جو باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں،بل نہ ادا کرنے والوں کی سز ا بل ادا کرنے والے صارفین کو دینے کی روک تھام کے لئے نظام وضع کیا جائے، اجلاس کے دوران اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے پرائیویٹ ممبرز کا ایجنڈا معطل کرکے سرکاری ایجنڈا لانے پر احتجاج کیا اور ایوان سے واک آئوٹ کیا، نوید قمر نے کہاکہ آج پرائیویٹ ممبرز ڈے ہے اس کو معطل کر کے آ ردیننس لانے کا کیا مقصد ہے، ہائوس چلانے کے طریقہ کار پر عمل کیا جائے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، یہ قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ، ہم اس پر ایوان سے واک آئوٹ کرتے ہیں، بابر اعوان نے کہاکہ گزشتہ روز ہم نے اپوزیشن کی مشاورت پر سرکاری ایجنڈا معطل کرایا آج ان کو تعاون کرنا چاہیے، آ رڈیننس میں توسیع آئینی تقاضا ہے، سپیکر نے کہاکہ اجلاس ختم نہیں کر رہے ، اس کے بعد باقی ایجنڈا بھی دوبارہ لیں گے، ساتھ ہی کورم کی نشاندہی بھی سپیکر نے گنتی کرائی جس پر کورم مکمل نکلا۔ اجلاس کے دوران وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2021 میں مزید120 دن کی توسیع سے متعلق قرارداد پیش کی جسے رائے شماری کے بعد ایوان نے منظور کر لیا، جس کے بعد وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے انکم ٹیکس (ترمیمی) آرڈیننس 2021 اور پی اے ایف ایئر وار کالج انسٹی ٹیوٹ آرڈیننس 2021میں بھی مزید 120دن کی توسیع سے متعلق قرارداددیں پیش کیں ، ان دو قرار دادوں کو بھی رائے شماری کے بعد منظور کر لیا گیا۔ بعد ازاں قو می اسمبلی کا اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا گیا۔
قو می اسمبلی ،حکومت نے اپوزیشن کے بھر پور احتجا ج کے باوجود تین آ رڈیننسز میں مزید 120دن کی توسیع منظور کرالی



