اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا فلسطین کی صورتحال پر اہم بیان۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کل او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں، میں نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں فلسطینی کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔فلسطین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے دو ٹوک موقف کو سراہتے ہوئے،اس کٹھن گھڑی میں فلسطینیوں کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی فلسطین کی صورتحال پر سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشرفین شاہ سلیمان بن عبدالعزیز ،ترک صدر رجب طیب اردگان اور فلسطین کے صدر محمود عباس کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔میں نے اس حوالے سے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ بشمول امریکہ، چین سعودی عرب، ترکی، فلسطین کے ساتھ رابطے کیے اور پاکستان کا موقف پیش کیا ۔اسرائیلی بربریت کے خلاف مسلم امہ نے آواز اٹھائی۔ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوااور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا ۔کل چین کی صدارت میں سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا ۔سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے پر بہت سے ممالک کو مایوسی ہوئی ۔امریکہ کی جانب سے ویٹو ہو جانے کے باعث یہ مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔آج فلسطین میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف مغربی دارالحکومتوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔میڈیا ہاوسز پر بمباری کر کے انہیں خاموش نہیں کیا جا سکتا ۔سوشل میڈیا کے اس دور میں اس آواز کو جبراً نہیں دبایا جا سکتا۔یورپی ممالک میں بھی عوام الناس کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔یورپی یونین کا اجلاس کل طلب کرلیاگیا ہے۔اسرائیلی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ فلسطین میں ایک طرف جدید جنگی ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی فوج ہے تو دوسری جانب نہتے فلسطینی ہیں ۔ایک طرف انسانیت اور دوسری طرف بربریت دکھائی دیتی ہے۔پاکستان کا واضح موقف ہے کہ ظلم پر کمربستہ اسرائیل کا موازنہ بربریت کا شکار فلسطینیوں کے ساتھ نہ کیا جائے ۔آج مسلم امہ کے اتحاد کا امتحان ہے انسانی حقوق کی تنظیموں کودوہرامعیارختم کرکےفلسطینیوں کےساتھ کھڑاہوناہوگا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا فلسطین کی صورتحال پر اہم بیان



